| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
موقف تبدیل کرنا ہونگے: شیخ رشید
پاکستانی وزیرِاطلاعات شیخ رشید نے کہا ہے کہ اگر بھارت کشمیر کو اٹوٹ انگ اور پاکستان شہ رگ قرار دیتا رہا تو بات آگے نہیں بڑھے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے تجربے اور بصیرت کی مدد سے کشمیر کے مسئلہ کو حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ہر مثبت قدم کا مثبت جواب دے گا۔ دہلی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملک اپنے اپنے موقف میں نرمی کر کے اس مسئلہ کو حل کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں بھارتی وزیراعظم کی بصیرت کافی مددگار ہو سکتی ہے۔ خود ان کے الفاظ میں’میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ کشمیر ایک ایسا مسئلہ ہے کہ اگر بھارت کشمیر کو اٹوٹ انگ اور پاکستان شہ رگ قرار دیتا رہا تو بات آگے نہیں بڑھے گی۔‘ واجپئی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی دھرتی پر اس وقت ایک ایسا سیاستداں ہے جو معاملات کی سنجیدگی سے آشنا ہے اور تجربہ کار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنے مسائل ہیں وہ بھارت کے پیدا کردہ ہیں اور اس وقت جب ’ہم میں صبر وشکر آیا ہے تو آپ میں جلدبازی کا عنصر آ گیا ہے‘۔ جب ایک نامہ نگار نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا پاکستان ان افراد کو بھارت کے حوالے کر دے گا جو بھارت کو مطلوب ہیں تو انہوں نے کہا’ لسٹوں کی بات نہ کریں اگر یہ بات چلے گی تو بہت پرانی لسٹیں بھی ہیں، کراچی کی ایف آئی آریں بھی ہیں، جن میں آپ کی سیکنڈ اور تھرڈ لیڈر شپ کے نام بھی ہیں۔‘
شیخ رشید نے سارک وزراء اطلاعات کانفرنس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس سے سارک ملکوں میں رشتوں کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی اور یہ کانفرنس سارک سربراہ کانفرنس میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||