BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 05 January, 2004, 18:08 GMT 23:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیا القاعدہ زوال پذیر ہے؟
کیا القاعدہ زوال پذیر ہے؟
کیا القاعدہ زوال پذیر ہے؟

سال دو ہزار تین میں القاعدہ کی طرف سے کیے جانے والے مبینہ حملوں کا رخ اسلامی ممالک کی طرف رہا۔ اگرچہ ان میں سے کئی حملوں، جیسے کہ ترکی میں برطانوی سفارت خانے پر کیے جانے والے حملے، کا نشانہ مغربی اہداف ہی تھے لیکن مغربی ممالک کے اندر القاعدہ کو خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

کئی ممالک میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد مسلمان تھے جن کی حمایت کسی حد تک القاعدہ کے لئے ضروری تصور کی جاتی ہے۔ کیا اس حکمتِ عملی سے القاعدہ مسلمانوں میں اپنی بچی کھچی حمایت سے بھی محروم ہو جائے گی؟

کیا القاعدہ زوال پذیر ہے؟ کیا یہ القاعدہ کی کسی نئی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے کہ وہ دو ہزار تین میں صرف دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پیش پیش مسلمان ممالک ہی میں حملوں تک محدود رہی ہے؟ کیا مغرب کم از کم اپنے ملکوں کی حد تک القاعدہ کو کچلنے میں کامیاب ہو چکا ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


زلاالرحمان، ستی، پاکستان: اسامہ تمام امت کا دل ہے، دھڑکن ہے۔

ناصر محمود، چکوال، پاکستان: جب تک امریکہ کے مقاصد پورے نہیں ہوتے، القاعدہ زوال پذیر نہیں ہوگی۔

امان اللہ صاحب، پشاور، پاکستان: القاعدہ ایک امریکی تنظیم ہے جو سعودی بادشاہت اور اہلِ سعود کو ختم کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ اس حقیقت کا یکطرفہ اعتراف مغربی ممالک میں دھمکیوں سے ہوتا ہے۔

نقصان صرف مسلمانوں کا

 القاعدہ کسی کے بھی ساتھ ہو نقصان صرف مسلمانوں کو ہی پہنچا ہے۔

ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان

ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان: القاعدہ کے دو ہی مقاصد ہو سکتے ہیں۔ یا تو یہ سی آئی اے کی ایجنٹ ہے اور یا یہ مسلمانوں کے لیے لڑ رہی ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ کوئی مسلمان اس درندگی سے انسانوں کو ہلاک نہیں کر سکتا اور پھر اب تک القاعدہ کی سرگرمیوں سے نقصان بھی صرف مسلمانوں ہی کو پہنچا ہے۔ القاعدہ کسی کے بھی ساتھ ہو نقصان صرف مسلمانوں کو ہی پہنچا ہے۔

فیصل، متحدہ عرب امارات: سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ القاعدہ زوال پذیر ہو جائے۔ یہ مغربی کمزوری ہے جو وہ چھپا رہے ہیں۔ بش کے جانے کی دیر ہے سب کچھ بدل جائے گا۔ امریکہ کو اپنی پالیسی بدلنی پڑے گی۔

امان اللہ صاحب، پشاور، پاکستان: القاعدہ ایک امریکی تنظیم ہے جو سعودی بادشاہت اور اہلِ سعود کو ختم کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔

ابو محسن میاں، سرگودھا، پاکستان: ایک طرف اسامہ ہے اور دوسری طرف دنیا بھر کی حکومتیں ہیں۔ میں نے جان بوجھ کر حکومتوں کا لفظ استعمال کیا ہے لوگوں کا نہیں کیونکہ وہ تو اسامہ کے ساتھ ہیں۔

محمد یوسف، سعودی عرب: یہ سب بکواس ہے، کوئی القاعدہ نہیں صرف خوف ہے۔

سلمان ، امریکہ: وہ تمام لوگ جو القاعدہ کو خیالی تصور کرتے ہیں، دراصل احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔ یا تو وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں یا دنیا کو۔

عارف بلوچ، کراچی، پاکستان: القاعدہ ایک عمومی مظلوم فکری ردِّ عمل ہے اور فکری ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔

۔۔۔لیکن جڑ سے نہیں۔۔۔۔

 القاعدہ کو نقصان پہنچا ہے اور اس کا تنظیمی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے اسے نئے حملے کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔

صدف صدیقی، کراچی، پاکستان

صدف صدیقی، کراچی، پاکستان: میرا خیال ہے کہ القاعدہ کو نقصان پہنچا ہے اور اس کا تنظیمی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے اسے نئے حملے کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسے مکمل طور پر جڑ سے نہیں اکھاڑا جا سکا۔

سید محمد خٹک، نوشہرہ، پاکستان: القاعدہ کا زوال تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ حقیقتاً بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں تو انجام بہت برا ہوگا۔ لیکن مغرب کی بند آنکھیں اسرائیل کے مظالم کے خلاف کب کھلیں گی۔ جب تک مسلمانوں پر ظلم جاری رہے گا، القاعدہ جیسی بہت سی تنظیمیں ظلم کے خلاف برسرِ پیکار رہیں گی۔

خوشحال خان کیانی، مظفرآباد، پاکستان: جب تک وہ امریکہ کی مرضی پر چلتے رہے وہ مجاہد تھے، اب وہ دہشت گرد بن گئے ہیں۔ امریکہ کے اقدامات سے القاعدہ کو فرق پڑنے والا نہیں بلکہ اس سے وہ مزید مضبوط ہو گی اور عوام میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں ہی کامیاب ہوگی۔

محمد جاوید خٹک، کڑک، پاکستان: دنیا میں القاعدہ نامی کوئی گروہ نہیں ہے۔ یہ نام صرف امریکہ ان مسلمانوں کے لئے استعمال کرتا ہے جو اس کے ناپسندیدہ ہیں۔ القاعدہ ختم نہیں ہو رہی کیونکہ جہاد ہمیشہ مسلمانوں کے دلوں میں رہے گا۔

لئیق احمد، شیر کلہ، پاکستان: روزانہ بم دھماکے ہوتے ہیں جن کا الزام امریکہ القاعدہ پر لگاتا ہے اور پھر اس کا کہنا یہ بھی ہے کہ القاعدہ کا وجود جڑ سے اکھڑ چکا ہے۔ ان پر القاعدہ کا خوف سوار ہو چکا ہے اور یہ دنیا کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔

القاعدہ، ضیاء، صدام، سب۔۔۔۔

 القاعدہ، ضیاء، صدام، سب نے امریکی مفادات کے لئے کام کیا اور اس کے بعد ان کا وہی حال ہوا جو غداروں کا ہوتا ہے۔

فیصل تقی، کراچی، پاکستان

فیصل تقی، کراچی، پاکستان: دکھ کی بات یہ ہے کہ بی بی سی جیسا ذمہ دار ادارہ بھی امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی پھیلائی ہوئی افواہوں کو خبریں بنا دیتا ہے۔ القاعدہ افغانستان میں امریکہ کی حمایت یافتہ تنظیم تھی، بالکل اسی طرح جس طرح ضیاء الحق امریکی پالیسی کے تحت بھٹو کو ہٹا کر آئے اور مقصد پورا ہونے کے بعد انہیں ہٹا دیا گیا۔ اسی طرح القاعدہ پہلے روس سے لڑی اور مقصد پورا ہونے کے بعد دہشت گرد قرار پائی۔ القاعدہ، ضیاء، صدام، سب نے امریکی مفادات کے لئے کام کیا اور اس کے بعد ان کا وہی حال ہوا جو غداروں کا ہوتا ہے۔

سلیم اختر، کینیڈا: القاعدہ بس ایک امریکن اسٹنٹ ہے۔ اس طرح کی کوئی چیز وجود میں نہیں ہے۔ اسامہ نے اس نام کا استعمال کرنا شروع اس لئے کردیا کہ انہیں معلوم ہوگیا کہ ذرائع ابلاغ میں یہ مشہور لفظ ہے۔

عبدالرحمان، ابوظہبی: کیا القاعدہ کوئی تنظیم بھی ہے؟ یا صرف مغربی میڈیا کی پیداوار ہے؟

اویس، پاکستان: میرے خیال میں یہ آئیڈیا بھی امریکہ کو پاکستان نے دیا ہوگا۔ جس طرح ہمارے ملک میں کچھ عرصے پہلے تک جو بھی دہشت گردی ہوتی تھی وہ ایک لسانی تنظیم کے سر دھردی جاتی تھی۔ اس کے بعد کچھ مذہبی جماعتوں کی باری آئی، جب کہ یہ سب کچھ ایجنسیوں کا ڈرامہ تھا۔

ضیاءالرحمان صدیق، رحیم یار خان: میرے خیال میں القاعدہ اس وقت تک پروان چڑھتی رہے گی جب تک امریکہ اور یورپ مظلموں پر اپنا ظلم جاری رکھیں گے۔

مریخ کا پتہ، اسامہ کا نہیں

 امریکہ اور یورپ مریخ کی تصاویر تو لاسکتے ہیں لیکن ان کے تمام جدید آلات اور ٹیکنالوجی اسامہ اور ملا عمر کا پتہ نہیں چلاسکتے۔

صالح محمد، راولپنڈی

صالح محمد، راولپنڈی: دوہزار تین میں بہت سے مسلم ممالک نے مبینہ دہشت گردی کے خلاف مغرب اور امریکہ کا ساتھ دیا۔ جبکہ دوسری طرف مغرب اور امریکہ نے اپنی سیکیورٹی پر بہت زیادہ توجہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ القاعدہ مسلم ممالک کو نشانہ بناتی رہی۔ القاعدہ میرے خیال میں کسی مرکزی تنظیم کے تحت نہیں چل رہی ہے۔ بلکہ مختلف ممالک میں القاعدہ کے ہمدر اور مددگار موجود ہیں جو اس کو زندہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ویسے ایک بات بہت عجیب ہے، امریکہ اور یورپ مریخ کی تصاویر تو لاسکتے ہیں لیکن ان کے تمام جدید آلات اور ٹیکنالوجی اسامہ اور ملا عمر کا پتہ نہیں چلاسکتے۔

پرویز بلوچ، بحرین: القاعدہ امریکہ کی پیداوار ہے۔ امریکہ اسے ایک گیم کی طرح استعمال کررہا ہے اور بن لادن کو ایک تاش کی طرح

ابو انتظام سید، ملتان: کون سی القاعدہ اور کہاں کی القاعدہ؟ یہ سب تو صرف اور صرف مسلمانو کو کچلنے کے لئے صدر بش کے لوگوں نے بنارکھی ہے۔

احسان، اسلام آباد: القاعدہ ایک جھوٹ ہے۔

طاہر فاروق آرائیں، میرواہ گورچانی، پاکستان: القاعدہ نے مسلم ملکوں کا رخ کیا ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ اسلامی ملکوں کو پریشر کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ سے بڑا فرق پڑا ہے۔ دہشت گردی ہر ایک لئے ناقابل قبول ہونی چاہئے، وہ مسلم ہوں یا غیرمسلم۔ دہشت گرد تو دہشت گرد ہیں، ان کے خلاف ہر سطح پر مقابلہ ہونا چاہئے، اور ہر سطح پر مذمت ہونی چاہئے۔

عاطف جدون، ایبٹ آباد: کیا القاعدہ جسی کوئی چیز وجود میں ہے؟ مسلمانوں کے خلاف امریکہ کی دہشت گردی کا یہ دوسرا نام نہیں ہے؟

عرفان، ایبٹ آباد: میرے خیال میں یہ کہنا غلط ہے کہ القاعدہ مسلم یا دوسرے ممالک میں ایسا کچھ کررہی ہے۔

مسلمان اسامہ کے ساتھ

 مسلمانوں کی ہمدردیاں ہر صورت میں القاعدہ سے ہی رہیں گی۔

نور اسلم خٹک، پاکستان

نور اسلم خٹک، کرک، پاکستان: القاعدہ کسی فرد واحد کا نام نہیں کہ اسے اتنا جلدی کچل دیا جاسکے۔ میری نظر میں القاعدہ جیسی منظم کوئی فوج یا گروپ نہیں جو اتنی خفیہ طریقے سے اپنا مشن چلاسکے۔ رہی بات القاعدہ سے مسلمانوں کی ہمدردی کی تو مسلمانوں کی ہمدردیاں ہر صورت میں القاعدہ سے ہی رہیں گی۔

احمد نسیم، کراچی: میرے خیال میں القاعدہ ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک عقیدہ ہے جو لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے، اس وجہ سے اس کو ختم کرنا ناممکن ہے۔ اس عقیدے کے ماننے والوں کے متحد ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے یہ کمزرو تو پڑسکتی ہے مگر کبھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکتی۔ ہاں مغرب بالخصوص امریکہ اپنے مفادات کی خاطر اس تنظیم کا نام ضرور استعمال کرتے رہیں گے۔ جب تک فلسطین اور عراق جیسے مسئلے حل نہیں ہوجاتے یہ جہاد بھی جاری رہے گا اور رہنا چاہئے۔

علی رضا علوی، اسلام آباد: اگر واقعی القاعدہ نام کسی تنظیم کا حقیقی وجود ہے تو یہ مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ امریکہ کے مفاد میں کام رہی ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ القاعدہ نے جتنا نقصان امت مسلمہ کو پہنچایا اور جتنا فائدہ امریکہ کو اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اسی القاعدہ کے نام پر امریکہ نے افغانستان اور عراق کے وسائل پر قبضہ کیا اور امت مسلمہ کو پوری دنیا میں دہشت گرد گنوایا۔ لہذا، جب تک امریکہ چاہے گا القاعدہ زندہ رہے گی، جب چاہے گا زیرزمین چلی جائے گی۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ میڈیا کے زور پر کچھ انتہا پسند مسلمانوں نے اسامہ اور صدام کو اپنا ہیرو مانا۔ لیکن ان کی حقیقت جلد ان پر آشکارا ہوگئی۔ جب امریکہ کو ضرورت پڑے گی، اسامہ بھی صدام حسین کی طرح غائب ہوجائیں گے۔

کمال احمد منصور، فیصل آباد: جب ہم موجودہ حالات پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں پتہ نہیں چلتا ہے کہ القاعدہ نامی تنظیم کی کارروائیوں سے امہ کو بہت زیادہ نقصان کا سامنا ہے۔ جتنی قوت اور پیسہ القاعدہ حملوں کے لئے استعمال کررہی ہے اگر اس پیسے سے یہ مسلم ممالک میں جدید علوم سکھانے کے لئے ادارے تعمیر کرے اور مسلم امہ کے ہونہار طلباء کو جدید علم سے آراستہ کرے تو یہ اس کام سے جو وہ کررہی ہے ہزار درجہ بہتر ہوتا، اور پائدار بھی۔ اسامہ بن لادن کے لئے میری اب بھی یہی رائے ہے کہ وہ تمام پیسہ اور ذرائع سے صرف ایک ادارہ قائم کردے جو جدید علوم کی تعلیم دے۔

ابوالحسن علی، لاہور: القاعدہ محض ایک تنظیم نہیں ہے بلکہ یہ مغرب خصوصا امریکہ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف اقدامات کے حوالے سے ایک استعارہ ہے۔ اور جب تک امریکہ اپنے رویے کو تبدیل نہیں کرے گا القاعدہ کی طرح کی تنظیمں اس کے خلاف برسرپیکار رہیں گی۔

اسلام اور تلوار

 القاعدہ جیس تنظیموں نے غیرمسلموں کے اس دعوے کو تقویت دی ہے کہ اسلام تلوار کی زور پر پھیلا۔

محمد عامر خان، کراچی

محمد عامر خان، کراچی: القاعدہ جیس تنظیموں نے غیرمسلموں کے اس دعوے کو تقویت دی ہے کہ اسلام تلوار کی زور پر پھیلا۔ اگرچہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے کیونکہ اسلام کا مطلب ہی امن اور سلامتی ہے۔ القاعدہ کا تعلق اسلام سے کبھی نہیں رہا ہے۔ القاعدہ اپنے مفادات کی خاطر جنگ لڑنے والے چند لوگوں کا گروپ ہے جو دنیا میں امن کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ کل تک یہی لوگ امریکہ کے بگل بجارہے تھے۔ القاعدہ کا کمزور ہونا ہی ہم مسلمانوں کی فتح ہے۔

عاصم محمود مرزا، گجرات، پاکستان: میرے لئے بلکہ ہر مسلمان کے لئے القاعدہ ایک معمہ ہے۔ القاعدہ کچھ بھی نہیں ہے، صرف امریکہ نے اپنے مقاصد کے لئے اس نام کا استعمال کیا ہے۔ القاعدہ جیسے افکار مسلمانوں میں کبھی نہیں رائج پاسکتے کیونکہ اسلام تو امن کا دین ہے۔

ندیم ہمیہ، ہنزہ: القاعدہ امریکہ کی پیداوار ہے، یہ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

کیا واقعی القاعدہ ہی ؟

 میں دہشت گردی کا حامی نہیں ہوں لیکن ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ حالیہ حملوں کے پیچھ القاعدہ متحرک ہے۔

شہروز خان، اسلام آباد

شہروز خان، اسلام آباد: پہلے تو ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا القاعدہ نامی کوئی تنظیم وجود میں ہے یا نہیں جسے امریکہ اور مغربی ذرائع ابلاغ اس نام سے پکار رہے ہیں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ القاعدہ ایک تحریک ہے جو حملہ آوروں اور ظالموں کے خلاف متحرک ہے۔ چونکہ خود دفتری طور پر القاعدہ کی طرف سے کچھ نہیں کہا جارہا ہے، اس لئے سب کچھ اسی کے نام سے تھوپا جارہا ہے۔ میں دہشت گردی کا حامی نہیں ہوں لیکن ابھی یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ حالیہ حملوں کے پیچھ القاعدہ متحرک ہے۔

علی اصغر، پاکستان: ظاہر سی بات ہے کہ امریکہ اور دوسرے اغراض مل کر مسلمانوں کو بےدردی سے ہلاک کررہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد