| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آپ کی رائے: صدام کی گرفتاری
عراق کے سابق صدر صدام حسین گرفتاری کے بعد امریکی فوج کے قبضے میں ہیں۔ امریکہ سمیت بعض ممالک نے کہا ہے کہ ان پر عراق کے اندر مقدمہ چلایا جائے۔ برطانیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو پھانسی دینے کی مخالفت کرتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ایرانیوں کے خلاف جنگی جرائم کے لئے صدام حسین پر مقدمہ عالمی عدالت میں چلایا جائے۔ جبکہ عراقی گورننگ کونسل نے کہا ہے کہ صدام حسین پر جنگی جرائم، نسلی کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر مقدمہ عراق کی عدالت میں چلایا جائے گا۔ آپ کی نظر میں صحیح راستہ کیا ہوگا؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں حاجی محمد حنیف، ملکانی شریف، سندھ: آج کل صدام حسین کے چرچے عام ہیں۔ ان کو سزا دینے کی بحث ہورہی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ صدام حسین نے ایسا بھی کیا کیا ہے کہ ان کو سزا دی جائے؟ صدام حسین کو سزا دینے سے پہلے دنیا صدر بش اور ان کے ساتھیوں کو سزا دے کیونکہ صدام حسین سے بڑے مجرم وہ ہیں۔ علی رضا علوی، اسلام آباد: جیسے کرے ویسا بھرے۔ شیرغازی، ہنزہ، پاکستان: امریکہ نے صدام حسین کو حراست میں لے لیا ہے لیکن عراق میں قاتلانہ حملے اور تشدد روکنے میں ناکام ہے۔ تمام کوششوں کے باوجود امریکی عراق میں امن، جمہوریت اور وسیع تباہی کے ہتھیار تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ حسیب محمد، مردان، پاکستان: میرے خیال میں صدام حسین نے وہی کیا ہے جو ہر حکمران کو امریکہ کے خلاف کرنا چاہئے۔ عبدالخالق بالتِستانی، لاہور: میرے خیال میں صدام حسین ہزاروں عراقی مسلمانوں کے قاتل ہیں۔ اور اگر وہ صحیح مسلمان ہوتے تو وہ اپنی موت تک دشمنوں سے لڑتے رہتے۔ ان پر اقوام متحدہ کے تحت عدالتی کارروائی کی جانی چاہئے۔ سید محمد حسین فخری، کرم ایجنسی، پاکستان: صدام حسین پر عراقی قانون کے مطابق مقدمہ چلایا جائے۔ یہ حق صرف عراقی حکومت اور عوام کا ہے۔ جبار سید، برن، سوئٹزرلینڈ: صدام حسین کو ہیگ کی بین الاقوامی عدالت میں کھڑا کیا جائے۔ حارث احمد، امریکہ: پہلے اتحادی یہ یاد رکھیں کہ انہوں نے صدام حسین کی تصویر دکھاکر جنیوا کنوینش کی مخالفت کی۔ انہوں نے ایسا صدام حسین اور عراقی قوم کی تضحیک کی خاطر کیا۔ ایاز حمید، لاہور: صدام حسین کی گرفتاری مسلم امہ کے لئے بری خبر ہے۔ ہم نے ایک ایسے رہنما کو کھودیا ہے جو بڑی طاقتوں کے سامنے مسلم امہ کی خاطر آواز اٹھا سکتا تھا۔ محمد علی پنہوار، خیرپور، پاکستان: صدام حسین پر عراق میں اور عراقی قوانین کے تحت ہی مقدمہ چلانا چاہئے۔ بین الاقوامی سطح کے وکیلوں اور ججوں کا شامل کیا جائے۔ لیکن یہ عراق میں ہی ہونا چاہئے۔ منیر احمد خلجی، پاکستان: صدام حسین ایک عظیم شخص ہیں۔ وہ تمام مسلم دنیا کے ہیرو ہیں۔ میں ان کے لئے خود کو وقف کردوں گا اور القاعدہ میں شامل ہوجاؤں گا۔ ڈاکٹر نصیر احمد طاہر، مین بازار بدوملہی، پاکستان: کس بات کا مقدمہ؟ ہاں چلائیے مگر ساتھ ساتھ جارج بش پر عراقی عوام کو مارنے کا مقدمہ بھی چلائیے۔ محمد فرحان، لاہور: ایک انسان کے پکڑے جانے پر جہاد ختم نہیں ہوگا۔ میرے اللہ کی مدد پہنچ چکی ہے، فتح قریب ہے۔ صدام حسین ایک عظیم غیرتمند رہنما ہیں۔ حمید رحمان، ضلع صوابی، پاکستان: صدام حسین کی گرفتاری سے مجھے کافی صدمہ پہنچا ہے۔ علی نواز علی کیریو، کراچی: صدام حسین مجرم نہیں ہیں۔ اصل مجرم امریکہ ہے جس نے ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے جینا حرام کردیا ہے۔ احمد علی سومرو، لاڑکانہ، سندھ:صدام حسین اسلامی دنیا کے رہنما ہیں اس لئے یہ اسلامی دنیا کا مطالبہ ہے ان پر مقدمہ عالمی عدالت میں چلایا جائے۔ ولی محمد لاشاری، خیر پور، پاکستان: میں اسلام کے قائد عظیم صدام حسین کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ شوکت علی پختون، سوات، پاکستان: سب مسلمان بے وقوف ہوتے جارہے ہیں اور کافر کی فتح پر خوش ہورہے ہیں۔ اگر عراقی صدام کے خلاف ہیں تو جن لوگوں نے صدام کے حق میں مظاہرہ کیا اور ان پر امریکیوں نے گولی چلائی تھی وہ کون ہیں۔
سہیل خان، ٹورنٹو، کینیڈا: صدام حسین پر اسی عالمی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے جس میں میلوسووچ پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اس طرح دنیا کو یہ جاننے میں بھی مدد مل سکے گی کہ امریکہ نے کیسے اسے لاکھوں ایرانیوں اور کردوں کو مارنے کے لئے استعمال کیا۔ اس کے بعد جارج بش پر بھی اسی عدالت میں لاکھوں عراقیوں کو مارنے کے لئے مقدمہ چلایا جائے جو عراق پر عائد بارہ سالہ پابندیوں کے نتیجے میں رونما ہوئیں۔ انسانیت کے دشمن ان دنوں افراد کو میلوسووچ ہی کی طرح سزا ملنی چاہئے۔ ڈاکٹر افضال ملِک، راولپنڈی: صدام حسین پر مقدمہ عدالتِ انصاف میں چلنا چاہئے تاکہ ان کو انصاف مل سکے اور امریکہ اپنی مرضی کا فیصلہ مسلط نہ کرسے۔ ظفر حسین، فیصل آباد: صدام حسین پر مقدمہ کسی آزاد اسلامی ملک جیسے ملیشیا میں چلایا جائے۔ احسان اللہ خان، لندن: چونکہ وہ مسلمان ہیں، اس لئے انہیں رہا کردیا جائے۔ رفاقت علی آرائین، پاکستان: صدام حسین کے خلاف مقدمہ کھلی عدالت میں چلنا چاہئے۔ ظہور حسن، شیکاگو: صدام حسین ایک بہادر مسلم نہیں تھے، ورنہ وہ ایک ایسے نہ چھپتے۔ شہزاد محمود، انگلینڈ: جنرل مشرف اور دیگر مسلم حکمرانوں کو سیکھنا چاہئے کہ امریکہ کسی کا دوست نہیں ہوسکتا۔ ناظم، ممبئی: سب کچھ مغرب اور امریکہ کی پلانِنگ کے حساب سے ہورہا ہے۔ صدام حسین کو جان بوجھ کر گرفتار نہیں کیا گیا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کے رہنما انتخابات کے دوران اس کا فائدہ اٹھاسکیں۔ صلاح الدین لنگا، جرمنی: مقدمہ کیوں؟ امریکہ کون ہوتا ہے فیصلہ کرنے والا؟ سید الطاف حیدر، صوبہ سرحد: میں سمجھتا ہوں کہ صدام حسین نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ اگر انہوں نے امریکہ کے خلاف آواز اٹھائی تو یہ جرم نہیں تھا۔ صدر بش پر جنگی کارروائی کے لئے مقدمہ چلانا چاہئے۔ خلیل اخون، بہاول نگر: صدام حسین پر مقدمہ عالمی عدالت میں چلانا چاہئے اور اس میں مسلمان جج ہونے چاہئیں۔ حسن عسکری، پاکستان: صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا، شہروں پر فری اسٹائل بمباری کی۔ کویت پر قبضہ کیا، اور لاکھوں عراقی شہریوں کو ہلاک کیا۔ یہ شخص اسلامی دنیا کے لئے باعث شرم ہے۔ تبسم رسول، فیصل آباد: ہم مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ بے بس ہوتے جارہے ہیں۔ مقدمہ کیسا؟ میری ہمدردیاں صدام حسین کے ساتھ ہیں۔ وہ مسلمان ہیں۔ مجھے دکھ ہورہا ہے۔ ایم صادق عوان، کویت: دوسروں کا جان لینا آسان ہے لیکن اپنا جان دینا آسان نہیں ہے۔ صدام حسین کے لئے یہ سزا کافی ہے کہ وہ کل بادشاہ تھے اور آج ۔۔۔ ملک اسد عوان، سرگودھا: اہل مغرب نے ہمیش اپنے مفاد کو سامنے رکھا ہے۔ آپ تاریخ پر نگاہ دوڑاکر دیکھ لیں۔۔۔ احمد نواز نقوی، پاکستان: بہادر لوگ گرفتاری نہیں دیتے۔۔۔ علی حضاری ملِک، قطر: صدام حسین نے اپنے دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی، بالخصوص کویت اور ایران پر حملہ کرکے۔ انہیں عراقی عوام اور بین الاقوامی عدالت کے حوالے کردینا چاہئے۔ محبوب عالم، پاکستان: میرے خیال میں صدام حسین کی گرفتاری کے بعد امریکہ دکھائے کہ وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار کہاں ہیں۔ پرویز اختر بلوچ، بحرین: سارا عراق صدام حسین کے خلاف ہے اور امریکہ اس کا دشمن۔ اس میں انصاف کہاں ملے گا۔ مگر صدام حسین کو اس کے کیے کی سزا ضرور ملنی چاہئے۔ خالد ہمایوں، سیالکوٹ، پاکستان: صدام کو امریکہ کی دشمنی کی سزا ملی۔ جو بھی امریکہ کے خلاف بولے گا، اس کا یہی حشر ہوگا۔ ماریہ جف، آسٹریلیا: اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان پر مقدمہ عراق میں چلایا جائے یا کہیں۔ فیصلہ ایک ہی نکلے گا کہ امریکی صدام کو زمندہ نہیں چھوڑیں گے۔ سب سے بڑے گناہ گار بش ہیں۔
خالد شیخ، پاکستان: امریکہ کے مفاد میں یہی ہے کہ اپنے کٹھ پتلی لوگوں کے ذریعے صدام پر عراق میں ہی مقدمہ چلائے۔ تاہم بقول عراقیوں کے امریکہ کے خلاف مزاحمت میں رکاوٹ صرف صدام ہی تھے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اگر امریکی چلے گئے تو وہ لوٹ آئیں گے۔ اب امریکیوں نے یہ مسئلہ حل کر دیا ہے تو ان کے خلاف اصل مزاحمت سامنے آئے گی۔ اعجاز اعوان، کراچی، پاکستان: صدام کو اس کے کئے کی سزا تو ملے گی ہی لیکن بش نے جو قتلِ عام عراق اور افغانستان میں کیا ہے اس کا کیا ہوگا۔ بش کو بھی گرفتار کیا جائے۔ بش نے معصوم بچوں کو قتل کیا ہے۔ محمد رضا، قطر: صدام حسین کو عامی عدالت میں پیش کیا جائے۔ اس پر نسل کشی، پڑوسی ممالک سے جنگ اور بے گناہ لوگوں کے خون جیسے الزامات ہیں، ایسے لوگ معاف نہیں کئے جا سکتے۔ سعید اکبر سدوزئی، پلندری، پاکستان: صدام حسین پر مقدمہ چلانے سے پہلے اسلامی ممالک سے مشورہ کرنا چاہئے۔ محمد داؤد ملِک، شرق پور، پاکستان: صدام حسین کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کا خون ہوا ہے۔ میری رائے ہے کہ اگر ایسے انسان کے لئے سزائے موت سے بھی بڑھ کر کوئی سزا ہے تو دے دیں۔
محمد علی، نیو یارک: صدام حسین صرف نام کے مسلمان تھے۔ اسلام میں مجسمہ سازی منع ہے مگر انہوں نے ہر جگہ اپنے مجسمے لگا رکھے تھے۔ تیسری دنیا کے مسلم لوگوں کو جذباتی نہیں ہونا چاہئے اور اپنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہئے۔ اس طرح کے مسلم رہنماؤں کو سزا ملنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کام کافروں سے کروادیا ہے کیونکہ امت مسلمہ جاہل ہے۔ ہم صرف دل سے سوچتے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم شخصیت پرستی چھوڑ دیں۔ ناظر حسین، کراچی: ہم لوگوں کو صدام حسین کے بارے میں پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ امریکہ نے اسے پیدا کیا تھا اور صدام حسین نے ہمیشہ امریکہ کے لئے کام کیا ہے۔ میرے خیال میں صدام حسین پر جرائم کی عدالت میں مقدمہ چلانا چاہئے۔ عدنان حیدر، گجرات: صدام حسین کے لئے یہ بہتر ہوتا اگر وہ بہادر ہوتے تو خودکشی کرلیتے۔ خالدہ عندلیب، کراچی: صدام حسین کو صرف عمرِقید ملے گی کیونکہ وہ سی آئی اے کا آدمی ہے۔ فرحان چوہان، کراچی: یہ حقیقی صدام حسین نہیں ہیں۔ یہ نقلی ہے۔ وہ ابھی بھی چھپے ہوئے ہیں۔ طلحہ یسین، ملتان: ان پر کسی مسلم ملک میں مقدمہ چلایا جائے۔ ندیم قریشی، شنگھائی، چین: میری رائے میں صدام حسین پر عراق میں ہی مقدمہ چلایا جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے پر بھی امریکہ کو اپنے مطلوبہ نتائج مل جائیں گے۔ اکبرسعید، مالاکنڈ، پاکستان: میرے خیال میں صدام حسین کو امریکہ لے جایا جائے گا۔ حامد کہلون، فِن لینڈ: صدام حسین اور جارج بش دونوں عراقی عوام کے قاتل ہیں۔ دونوں پر مقدمہ بین الاقوامی عدالت میں چلایا جائے۔ اذکار، کشمیر، پاکستان: صدام حسین کو اتنی ہی اذیت دی جائے جتنے لوگوں کا اس نے قتل کیا ہے۔ آفراسیاب کھٹک، پاکستان: صدام کی گرفتاری ایک بہت بڑی زیادتی ہے کیونکہ ایک ملک پر حملہ کرنا اور اس کے بعد اس کے بادشاہ کو گرفتار کرنا ایک ظلم ہے جس پر سب ملکوں نے بڑے گرمجوشی سے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ یاسر نقوی، برطانیہ: صدام حسین کے ساتھ جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہوگیا وہ مکافات عمل کا حصہ ہے۔ عاصم چودھری، بہاولپور: میں صدام حسین کی گرفتاری سے بہت اداس ہوں۔
عمران صدیقی، کراچی: صدام حسین پر کیس وہیں چلنا چاہئے جہاں کا وہ حکمران تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہزاروں مسلمانوں کے قاتل بش پر مقدمہ کون چلائے گا؟ صدام نے تو جیسا کیا ویسا کیا، آحر کر بھرنا ہی پڑے گا۔ لیکن بش کے جرائم تو صدام سے بھی تجاوز کرتے جارہے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ صدام کی زندگی سے سبق لیں اور مسلم ممالک سے روابط درست کریں۔ زیبی، پاکستان: یہ بہت بری خبر ہے، مسلمانوں کے لئے۔ اور سب کے لئے شرکم کا مقام ہے کہ ایک غیرمسلم طاقت کے سامنے اس طرح چپ ہیں۔ عبدالصمد، ناروے: جناب عالی! بالعموم امریکہ نے صدام حسین کو سزائے موت دینے کا تہیہ کرلیا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عدالتی کارروائی واشِنگٹن میں ہو یا بغداد میں۔ احمد ایاز الحجازی، ہیوسٹن، امریکہ: صدر بش کچھ ہی دنوں پہلے چپ چاپ عراق گئے تھے، لگتا ہے کہ صدام حسین کو مارا جاچکا ہے۔ چودھری احمد، کراچی: میں اس بات پر یقین نہیں کرسکتا کہ جس شخص کی تصویر ٹیلی ویژن پر دکھائی جارہی ہے وہ صدام حسین ہی ہیں۔ وِکھار پٹیل، انڈیا: صدام حسین پر مقدمہ عراق میں ہی چلنا چاہئے۔ عمران مانی، پشاور: بڑے افسوس کی بات ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ بھی صدام حسین کی کوئی نئی چال ہے۔ اور امریکہ ضرور مار کھائے گا۔ فخرمیر، تالپور، پاکستان: صدام کی ضرورت نہیں۔ ہمیں کیمیاوی ہتھیاروں کے بارے میں بتائیں۔
راشد فراز، اونٹاریو، کینیڈا: صدام حسین کی گرفتاری اور مقدمے میں کئی سبق ہیں۔ اول، امریکہ کسی کا دوست نہیں۔ صدام حسین جیسا پرانا دوست جو ایران کے خلاف استعمال ہوا گرفتار ہوچکا اور ایک مثال بنا دیا گیا ہے۔ دوم، اقتدار پر کنٹرول صدا برقرار نہیں رہتا۔ اس کے نشے میں اپنے اور دوسرے ملکوں کے معصوم شہریوں کو قتل کرنے والا ہتھیار ہوتے ہوئے بھی بغیر مقابلے کی گرفتاری پیش کرتا ہے۔ بلا شبہہ ظالم بہادر نہیں ہوسکتا ہے۔ عالم زیب، حیبت گرام، پاکستان: صدام حسین کو تو پکڑ لیا ہے، اب اس کے خلاف مقدمہ عراق میں ہی چلائیں۔ امریکہ کو اپنی ذاتی دشمنی نہیں اپنانی چاہئے ورنہ مسلم رائے عامہ امریکہ کے خلاف ہوجائے گی۔ حمید رحمان، لاہور: صدام حسین کی گرفتاری کی خبر سن کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ کیونکہ صدام حسین کی گرفتاری امریکہ کے ہاتھوں مسلمان کی پستی کی علامت ہے۔ عبدالصمد، میرالی، پاکستان: ان پر مقدمہ عراق میں ہی چلایا جانا چاہئے۔ محمد شبیر، اسلام آباد: میرے خیال میں امریکی افواج نے بہت غلط کام کیا ہے۔ صدر بش نے اپنے مفاد کی خاطر عراقی لوگوں کا قتل کیا ہے۔ ہاں، اگر عراقی خود صدام کو اقتدار سے الگ کرتے، اور اس پر عدالت میں مقدمہ دائر کرتے تو پھر اچھا ہوتا۔ خورشید علی، ریاض: امریکہ اور برطانیہ کے ان پر مقدمہ چلانے کے لئے کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ ان پر معصوم عراقیوں کے قتل کے لئے عراق میں مقدمہ چلانا چاہئے۔ عبدالطیف، میانوالی، پاکستان: صدام حسین پر مقدمہ چلانا محض ایک دیکھاوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کبھی بھی صدام کو نہیں بخشے گا۔ مہران خٹک، پاکستان: صدام حسین پر کوئی مقدمہ نہیں۔ چودھری جمیل احمد خان، کمالیہ، پاکستان: صدام حسین پر مقدمہ عالمی عدالت میں چلائی جائے تاکہ غیرجانبداری ثابت کی جاسکے۔ محمد اسحٰق، لِبیا: پہلے تو یہ فیصلہ کیا جائے کہ کن الزامات پر مقدمہ چلے۔ اگر صدام حسین نے ظلم کیا ہے تو اپنے عوام کے ساتھ کیا اور عراقی عوام سے پوچھا جانا چاہئے کہ ان کا جرم کیا ہے۔ علی رفیق، دسکہ، پاکستان: میرا خِیال ہے کہ صدام حسین پر مقدمہ عراق میں ہی چلے۔ شاہد محبوب صابری، کہوٹہ: صدام حسین پر مقدمہ ضرور چلنا چاہئے، اور اس کے ساتھ ساتھ صدر جارج بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر پر بھی مقدمہ چلنا چاہئے کیونکہ تینوں نے معصوم لوگوں کا خون کیا ہے۔ اومان خان، پشاور: صدام حسین پر مقدمہ بین الاقوامی عدالت میں چلانا چاہئے محمد حیدر، شیکاگو، امریکہ: صدام حسین پر مقدمہ کہیں بھی چلے، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں ان کے لئے اتنا کہنا ضروری ہے کہ جو جیسا کرے گا ویسا ہی بھرے گا۔ خان جی، دوبئ: مقدمہ عراق میں ہی چلنا چاہئے۔ ڈاکٹر جمیل احمد، لندن: صدام حسین پر مقدمہ عراق میں ہی چلنا چاہئے مگر کیا غیرجانبداری کی کوئی ضمانت دی جاسکتی ہے؟ اس عدالت کے ججوں کا چناؤ صاف و شفاف ہوگا یا وہ امریکہ کی مرضی سے منتخب ہوں گے؟ موسیٰ سلیم، راولپنڈی: میرے خیال میں صدام حسین پر مقدمہ بین الاقوامی عدالت میں چلایا جانا چاہئے۔ سعید احمد چشتی، پاک پتن، پاکستان: صدام حسین کا استعمال سیاست کے لئے نہ کیا جائے اور ان کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کیا جائے۔ سلمان علی، کراچی: صدام حسین جب اقتدار میں تھے اس وقت مسلم دنیا کے ایک بڑے دشمن تھے، اللہ نے ان کے ساتھ اچھا کیا ہے۔ اب مسلم ممالک کو متحد ہوجانا چاہئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||