| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام کی گرفتاری کس کو کیا دے گی؟
عراق کے سابق صدر صدام حسین کو ان کے آبائی شہر تکریت میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کی جانے والی ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گویا آخر وہ گھڑی آ گئی جس کا نام نہاد اتحادی افواج اور عراق میں امریکی انتظامیہ ہی کو نہیں بلکہ واشنگٹن میں بش حکومت کو اور لندن میں ٹونی بلیئر کو عراق پر قبضے کے بعد ہر لمحے انتظار رہا۔ عراق میں امریکی منتظم پال بریمر نے سابق صدر صدام حسین کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’ہم نے اسے دھر لیاہے۔‘ پال بریمر کے اعلان کے ساتھ ہی پریس کانفرنس میں موجود بظاہر غیر ملکی اور ملکی نامہ نگاروں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں اور بعض نے اس خلافِ روایت طرزِ عمل کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے اٹھ کر نعرے بھی لگائے۔ پال بریمر نے کہا کہ صدام حسین کو ہفتے کی رات کو گرفتار کیا گیا اور انہوں نے اس دن کو عراق کی تاریخ میں ایک ’عظیم دن ‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صدام حسین کے حامیوں کے لیے ایک اور موقع ہے کہ وہ مخالفت چھوڑ کر ہتھیار ڈال دیں اور افہام و تفہیم کے جذبے سے عراق کی تعمیر نو میں شامل ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری کے وقت امریکی فوج کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور ایک گولی چلائے بغیر صدام حسین کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صدام حسین بات چیت اور تعاون کر رہے ہیں۔ عراق میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل ریکارڈو سانچیز نے کہا کہ چھ سو امریکی فوجیوں کو صدام حسین کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ جب وہ ان کی کمیں گاہ پر پہنچے تو انہوں نے ایک بڑے سوراخ کا دہانہ دیکھا جس کو اینٹوں اور مٹی سے چھپانے کی کوشش کی گئی تھی اور اسی تہہ خانے میں صدام حسین روپوش تھے۔
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بھی گرفتاری کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاری سے عراقی عوام کا یہ خوف جاتا رہے گا کہ صدام حیسن حکومت میں واپس آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب صدام حسین پر عراقی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ گویا اس وقت ہر اعتبار سے پورا یقین کیا جا چکا ہے کہ صدام حسین اور ان کی حکومت اب ختم ہو چکی ہے اور اب امریکی اور برطانوی اتحادی افواج اور انتظامیہ کو عراق میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ یقیناً اب نہ تو امریکہ کو تعمیر نو کے نام پر ’سلامتی کے لیے ضروری‘ ٹھیکے دینے میں کوئی رکاوٹ پیش آئے گی، امریکی اور اس کی اتحادی افواج پر حملے بھی نہیں ہوں گے اور عراقیوں کو ان کے جمہوری حقوق بھی جلد ہی مل جائیں گے۔ کیونکہ اس کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لیکن کیا ساری کارروائی کا جو عراق کے خلاف کی گئی اس کا بنیادی مقصد یہی تھا؟ یادش بخیر، حملے کا بنیادی اور فوری سبب تو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلا سکنے والے ہتھیار تھے، جن کے بارے میں برطانوی دستاویزات میں مندرج ’پینتالیس منٹ میں کارآمد‘ ہونے کے الفاظ کم از کم ایک برطانوی سائنسداں کی جان ضرور لے چکے ہیں۔ لیکن اب تک ان کا کوئی سراغ نہیں ملا اور ظاہر ہے بش یا بلیئر اس کے لیے کسی کو جواب دہ نہیں ہیں۔
پال بریمر نے بالکل بجا طور پر صدام کی گرفتاری کے دن کو ایک عظیم دن قرار دیا۔ تاریخ میں ہر اعتبار سے اس دن کو یاد کیا جائے گا لیکن شاید اس کے ساتھ ہی اس کے اخلاقی، قانونی اور انسانی جـواز کے بہت سے سوال بھی پیدا ہوں گے۔ امریکہ نے عراق میں تعمیر نو کے نام پر پہلے سے سودے بازی کر کے بعض ملکوں کی حمایت ضرور حاصل کر لی ہے اور اب وہ نہ صرف ’بحالئی حقوق‘ کے اس عمل پر خاموش ہیں بلکہ اس میں شریک بھی ہیں لیکن ابھی اخلاقی طور پر دنیا نے اس پوری کارروائی کو درست تسلیم نہیں کیا۔ یہاں تک کہ امریکہ اور برطانیہ میں اس کارروائی کی جس قدر مخالفت کی گئی ہے اس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ پال بریمر اور ٹونی بلیئر نے اس موقع پر ان لوگوں کو ہتھیار ڈالنے اور ’خوف کے سائے‘ سے باہر نکل آنے کا بالکل درست مشورہ دیا ہے لیکن خوف کے یہ سائے تو بہت سے ملکوں پر ہیں اور بہت سے ملکوں کے ہیں۔ اس صورتِ حال سے تحریک پکڑ کر اگر دوسرے ملکوں اور قوموں نے بھی خوف سے باہر آنے کے مشورے پر عمل کیا تو نتیجہ کیا ہو گا؟ برطانوی وزیراعظم نے بہت اچھا کیا کہ اس بات کی وضاحت بھی کر دی کہ صدام پر مقدمہ عراق ہی میں چلایا جائے گا۔ برطانوی روایت بھی یہی ہے۔ بہادر شاہ پر بھی مقدمہ ہندوستان ہی میں چلایا گیا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ منصف اور مدعی اگر ایک ہوں تو انصاف کے بارے میں کیا کہا جائے گا۔ صدام کے جرائم یہ ہیں کہ انہوں نے دوسری قوموں کی قومیت اور ملکوں کی خود مختاری کا احترام نہیں کیا۔ انہوں نے طاقت کے بل پر ان لوگوں کو کچلنے کی کوشش کی جو ان سے کمزور تھے یا ان سے اختلاف رکھتے تھے۔ انہوں نے اسی طاقت کے بل پر صحیح اور غلط کا فیصلہ کیا لیکن انہوں نے کل کے بارے میں نہیں سوچا۔
اس کا اطلاق آج کس پر ہوتا ہے؟ یہ درست ہے کہ کل بہت دور، بہت ہی دور مستقبل کے ان دیکھے میں کہیں گم دکھائی دیتا ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کل کہیں ہے اور اسے نمودار ہونا ہے۔ آزاد عراق میں عراقی انہیں گرفتار کرتے تو ان پر بہت سے اور انتہائی سنگین مقدمات چلائے جا سکتے تھے، ان پر سترہ جولائی انیس سو اڑسٹھ کے بعد سے نسل کشی، حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں، عراقی شہریوں کے قتل، ان پر تشدد، اور ان کے خلاف زہریلی گیس کے استعمال کے ان گنت مقدمات چل سکتے تھے جن میں سے اکثر میں کم از کم موت کی سزا ملتی کیونکہ عراق میں سزائے موت کا قانون ہے اور اگر نہ ہوتا تو ان کی باقی عمر تمام کی تمام جیل میں ہی بسر ہوتی، لیکن اس وقت تو مدعی کا مقصود یہ نہیں۔ اب تو انہیں ان غیر ملکی فوجیوں نے گرفتار کیا ہے جو ان کے ملک پر حملے کے بعد قابض ہوئے ہیں۔ اب اگر کوئی مقدمہ چلے گا تو وہ اس مقدمے سے کیسے مختلف ہوگا جو عراق کویت میں کویتیوں پر کامیاب قبضے کے صورت میں چلاتا یا ایران میں چلائے جاتے اگر صدام حسین کو کامیابی حاصل ہو جاتی؟
صدام پر عالمی عدالت میں مقدمہ چلانا بھی مناسب نہیں ہو گا کیونکہ عراق پر کیے جانے والے قبضے میں اقوام متحدہ شریک نہیں تھی بلکہ خلاف تھی اور اس کے علاوہ اس بات کا امکان بھی ہے کہ اس طرح بھی مدعی کے اصل عزائم کی تکمیل ممکن نہ ہو۔ بہر صورت ابھی تو پہلے مدعی کو منصف کا تقرر کرنا ہے اور پھر مدعا علیہ کے خلاف مقدمے کے سماعت ہو گی اور رہا انصاف و فیصلہ تو اس بارے میں اس صورت میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||