| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام کے لئے جنگی قیدی کا درجہ امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کہا ہے کہ صدام حسین کو جنگی قیدی تصور کیا جائے گا اور ان سے جنیوا کنوینشن کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال وہ تفتیش کاروں سے تعاون نہیں کر رہے۔ رمزفلیڈ نے کہا کہ اگرچہ صدام حسین کی قانونی حیثیت کے تعین کے لئے ماہرین قانون غور کر رہے ہیں تاہم ان سے جنگی قیدیوں کا سا برتاؤ کیا جائے گا اور ان پر جنیوا کنوینشن کا اطلاق ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے اچھا سلوک کیا جائے گا۔ وزیر دفاع نے یہ بتانے سے تو گریز کیا کہ صدام حسین کو کہا رکھا گیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ جس طرح گرفتاری کے وقت انہوں نے تعاون کیا تھا اب وہ تفتیش کاروں سے تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ بعض امریکی ذرائع جنہوں نے صدام حسین سے کی جانے والی ابتدائی تفتیش کا مشاہدہ کیا ہے کہتے ہیں کہ اب تک انہوں نے کوئی ٹھوس بات نہیں کہی ہے۔ البتہ انہوں نے وسیع تباہی کے حامل ہتھیاروں کی موجودگی سے انکار کیا ہے۔ رمزفیلڈ کا کہنا تھا کہ صدام حسین کو ان کے جرائم کی سزا ملے گا تاہم یہ طے پانا باقی ہے کہ کس طرح اور کس کے ہاتھوں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی ہو صدام حسین کی گرفتاری نے عام عراقی کے دل سے یہ خوف دور کر دیا ہے کہ وہ واپس آئیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||