BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 December, 2003, 09:34 GMT 14:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یقین نہیں آرہا: صدام کی بیٹی
صدام حسین کا خاندان
صدام حسین اپنی بیوی ساجدہ اور بچوں کے ساتھ۔ بائیں جانب ان کے دونوں داماد کھڑیں ہیں جن کو ضدام نے مروا دیا تھا۔

صدام حسین کی بیٹی نے اپنے باپ کی گرفتاری کی خبر سن کر رونا پیٹنا شروع کر دیا۔

معزول عراقی صدر کی بڑی بیٹی رغاد حسین اردن کے دارالحکومت میں رہتی ہیں جہاں شاہ عبداللہ نے ان کو، ان کی بہن کو اور ان دونوں کے بچوں کو پناہ دی ہوئی ہے۔

برطانوی روزنامہ ’دی ٹائمز‘ کے مطابق رغاد حسین نے یہ خبر سن کر کہا ’کاش میں اس دن دیکھنے سے پہلے مر جاتی،۔

ان کو صدام حسین کی گرفتاری کی خبر کی تصدیق ’العربیہ‘ ٹی وی چینیل کے نامہ نگار سعید سلاوی سے ملی۔ سعید سلاوی نے دونوں بہنوں کی عراق سے اردن آنے میں مدد کی تھی۔

سعید سلاوی نے ’ٹائمز‘ اخبار کو بتایا کہ انہوں نے رغاد حسین سے ان کے ذاتی موبائل فون پر رابطہ کیا تو وہ کہنے لگیں کہ وہ انہیں کو فون کرنے کی کوششیں کر رہی تھیں تاکہ وہ صدام کی گرفتاری کے بارے میں افواہوں کا ان سے پوچھ سکیں۔ سیعد سلاوی کے مطابق ’میں نے ان سے کہا اُم علی یہ خبر صحیح ہے اور پھر وہ زور زور سے رونے لگ گئیں۔‘

ادھر عمان کے انٹرنیشنل سکول میں صدام حسین کے پانچ نواسوں کو سکول کے پرنسپل نے اپنے آفس بلوا کر ان کو ان کی نانا کی گرفتاری کی خبر بتائی۔

صدام کی دونوں بیٹیاں رغاد اور رعنہ حسین انیس سو پچانوے میں اپنے خاوندوں اور بچوں کے ساتھ عراق سے فرار ہوئی تھیں اور اردن میں پناہ لی تھی۔ وہ سب صدام حسین کے اس وعدے پر واپس عراق گئے کہ ان کو معاف کر دیا جائے گا لیکن صدام نے کچھ دن کے اندر ہی دونوں دامادوں کو ہلاک کروا دیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ انیس سو پچانوے سے رعنا اور رغاد کی شاہ عبداللہ کی بہن سے دوستی رہی ہے اور رابطہ رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد