BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 December, 2003, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام ابتداء سے گرفتاری تک
صدام
امریکی حکام نے انہیں اپنے مطلوبہ افراد میں سرِ فہرست قرار دیا اور جہاں جہاں ان کی یادگاریں دکھائی دیں انہیں ٹینکوں کے ذریعے گرا دیا گیا

صدام حسین بغداد کے شمال میں واقع شہر تکریت ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔

والد کی جلد ہی وفات کے بعد ان کی والدہ انہیں اپنے رشتہ داروں کے پاس چھوڑ کر کسی اور گاؤں چلیں گئیں۔ چند سال بعد انہوں نے دوسری شادی کر لی۔ سوتیلے والد کا صدام کے ساتھ برتاؤ اچھا نہ تھا۔ صدام حسین کے لئے زندگی مشکل تھی۔

بارہ برس کی عمر میں انہوں نے اپنا گھر چھوڑا اور تکریت میں اپنے ایک چچا کے ساتھ رہنے لگے۔ اپنے لڑکپن میں صدام حسین حکومت مخالف مظاہروں میں خاصے سرگرم رہے اور بہت سے دوسرے عراقیوں کی طرح برطانوی نو آبادیاتی حکومت اور امیر جاگیرداروں کے خلاف ہوتے گئے۔

صدام بش
صدام حسین صدر بش کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے

سن انیس سو اڑسٹھ میں بعث پارٹی اقتدار میں آئی اور احمدحسن البکر ملک کی صدارت سنبھالی۔ صدام حسین اسی دور میں صدر احمدحسن کے دست راست بنے اور حکومت کے اہم اور خفیہ کام انجام دینے لگے۔ اور ان میں اہم کام تھا مخالفین کو منظر عام سے ہٹانا۔ ان مخالفین میں سے کچھ تو قتل کر دیئے جاتے، کچھ جلا وطن اور کچھ کو خاموش کرا دیا جاتا۔

انیس سو اڑسٹھ مییں صدام حسین نائب صدر بنادیے گئے اور اس کے ساتھ ہی صدام حسین کے سیاسی عزائم بھی مزید بڑھنے لگے اور سن انیس سو اناسی میں انہوں نے اپنے محسن احمد البکر سے زبردستی استعفٰی دلوایا اور خود صدر بن گئے۔

اس کے بعد بعث پارٹی کے حکومت پر صدر صدام کی شخصیت حاوی ہوتی گئی اور جیسا کہ مورخ پیبی مار نشاندہی کرتی ہیں اگر کوئی سیاسی نظریہ بچا تو وہ صدام ازم کا تھا۔

آنے والے برسوں میں صدام کے سیاسی عزائم عراق کی حدود سے واضع طور پر بڑھنے لگے۔ وہ خود کو عرب دنیا کا رہنما اور تاریخ میں اپنے آپ کو صلاح الدین ایوبی جیسے سپہ سالار کے برابر دیکھنے لگے۔

صدام کا مجسمہ
عراق پر قبضے کے بعد بغداد میں گرایا جانے والا صدام کا پہلا مجسمہ

صدر صدام کے جارحانہ عزائم کی پہلی مثال جلد ہی انیس سو اسی میں اس وقت سامنے آئی جب ان کی فوجوں نے ہمسایہ ملک ایران میں پیش قدمی کی۔

صدر صدام کی توقعات کے برعکس یہ جنگ انہیں بڑی مہنگی پڑی حالانکہ اس جنگ میں انہیں امریکہ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ آٹھ برس جاری رہنے والی اس جنگ میں دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ جنگ میں عراق کے خزانے پر بھاری بوجھ ثابت ہوئی۔

صدر صدام نے ہمسایہ ممالک سے اقتصادی مدد مانگی انہوں نے کویت پر عراقی تیل چوری کرنے کا الزام عائد کیا اور مطلوبہ معاوضہ نہ ملنے پر اگست انیس سو نوے میں عراقی فوجیں کویت میں داخل ہو گئیں۔

صدر صدام کو یہ فوجی اقدام بھی بڑا مہنگا پڑا ان کو توقع تھی کہ بڑی علمی طاقتیں جنہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں ان کا بھر پور ساتھ دیا، ہتھیار اور وسائل فراہم کئے تھے اس بار بھی اگر ان کھل کر حمایت نہیں کریں گی تو کم از کم مخالفت بھی نہیں کریں گی۔

لیکن حالات بدل چکے تھے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے خلیج میں اپنے مفادات یعنی تیل اور اسرائیل کی حفاظت ہر قیمت پر ضروری تھی۔

امریکی قیادت میں ’اپریشن ڈیزرٹ اسٹارم‘ کے تحت دسمبر انیس سو اٹھانوے امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر بھر پور حملہ کیا۔ اس جنگ کے بعد صدام حکومت تو بچ گئی لیکن صدام حسین کو اپنے ہتھیار ختم کرنے کا وعدہ کرنا پڑا۔

تاہم معاملہ اس پر ختم نہیں ہوا۔ امریکہ مسلسل اس بات پر مصر رہا کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کہ ہتھیار ہیں اور برطانیہ کا کہنا تھا کہ ان ہتھیاروں کو صرف پینتالیس منٹ میں قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے اس کے علاوہ عراق پر جوہری ہتھیار بنانے اور حاصل کرنے کا الزام بھی لگا لیکن عراق پر امریکی حملے اور قبضے کے بعد سے اب تک ان میں سے کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔

عراق امریکی اور برطانوی گٹھ جوڑ میں شامل ملکوں کو اگرچہ اقوام متحد اور سلامتی کونسل کی حمایت حاصل نہیں تھی اور اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے امریکی برطانوی گٹھ جوڑ سے کیے جانے والے دعووں کی تائید بھی نہیں کی تھی تاہم اس اتحاد نے عراق پر حملہ کر دیا اور عراق کو فتح کر لیا گیا۔

صدام کے دور کے دو اقدام ان کے لیے سب سے زیادہ بدنامی کا باعث بنے۔

کویت پر حملے کی سزا کے طور پر صدام کے خلاف امریکہ نے جو کارروائی کی اس کا غلط مطلب سمجھتے ہوئے جنوبی عراق میں شیعہ عقائد رکھنے والی آبادی نے صدام کے خلاف بغاوت کر دی۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکیوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ صدام کے خلاف شیعہ بغاوت کا ساتھ دیا جائے گا اور انہیں ایک الگ اور آزاد علاقہ حاصل ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا اور ہزارہا شیعہ عراقیوں کو صدام نے انتہائی بےدردی سے ہلاک کرا دیا اور جنوب پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔

دوسرا اقدام کُردوں کے خلاف تھا شمال میں کرد بغاوت کو کچلے کے لیے بھی صدام حکومت نے انتہائی ظالمانہ اقدامات کیے۔

صدام حسین
صدام حسین اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ

اسی کارروائی کے دوران ہی کیمیائی گیس کے استعمال کا معاملہ بھی سامنے آیا اور اسی گیس کے استعمال کی وجہ سے صدام کے عم زاد جنرل علی کا نام کیمیکل علی پڑا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بظاہر ہزارہا کرد فرار ہو کر پہاڑوں میں چلے گئے یا بیرون ملک جالا وطنی اختیار کر لی۔

عراق پر قبضے کے بعد امریکی اتحاد نے باون افراد کو انتہائی مطلوب قرار دیا ان میں خود صدام حسین سرِ فہرست تھے اور ان پر ڈھائی کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد