BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 December, 2003, 13:00 GMT 18:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق سے نہیں جاؤں گا: صدام
صدام
تکریت سے حراست کے بعد ٹی وی پر دکھائی جانے والی صدام حسین کی پہلی تصویر

برطانوی لیبر پارٹی کے سابق رہنما ٹونی بِن نے عراقی صدر صدام حسین سے انٹرویو کیا جسے ان کا آخری انٹرویو بھی خیال کیا جاتا ہے۔ اس انٹرویو کو بی بی سی کے چینل فور سے نشر کیا گیا۔

اس انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ جلا وطنی اختیار نہیں کریں گے اور اسی ملک میں جان دینے کو ترجیح دیں گے۔ اس انٹرویو کے کچھ حصے یہاں پیش کیے جا رہے ہیں۔

سوال: جناب صدر، کیا اب تک آپ کو کسی ملک نے سیاسی پناہ کی پیشکش کی ہے؟ اور کیا آپ اپنے لوگوں کو موت اور تباہی سے بچانے کے لیے کسی بھی حالت میں جلاوطنی اختیار کریں گے؟

صدام: میں یہاں پیدا ہوا ہوں عراق میں، اور مجھے فخر ہے کہ میں خدا کا خوف لے کر پیدا ہوا ہوں اور میں نے اپنے بچوں کو بھی ڈٹ جانے کا درس دیا ہے۔ چاہے کوئی بھی کسی کی بھی درخواست پر اپنی قوم کو چھوڑ دے تو وہ اصولوں سے سچائی نہیں ہو گی۔ ہم یہیں مریں گے۔ ہم یہیں اسی ملک میں مریں گے اور اپنی عزت برقرار رکھیں گے۔ وہ عزت جو ہمیں چاہیے ۔۔۔اپنے لوگوں کے سامنے۔

سوال: اگر حملہ ہوا، تو کیا آپ تیل کے کنووں میں آگ لگا دیں گے یا کیا آپ حملہ کی مزاحمت کے لئے پانی کے ذخیروں کو یا پھر بند تباہ کریں گے؟

یہیں جان دیں گے

 ہم یہیں مریں گے۔ ہم یہیں اسی ملک میں مریں گے اور اپنی عزت برقرار رکھیں گے۔ وہ عزت جو ہمیں چاہیے ۔۔۔اپنے لوگوں کے سامنے

صدام: اس مفروضے کا جواب تو میں دے چکا ہوں، لیکن اگر آپ تفصیل میں جاننا ہی چاہتے ہں تو عراق اپنے ڈیم یا تیل کی دولت کو تباہ نہیں کرے گا۔ ہمیں امید ہے اور اس جواب کو کوئی اشارہ نہ سمجھا جائے، کہ عراق کے تیل کے کنویں اور پانی کے بند تو وہ تباہ کریں گے جو عراق پر حملہ کریں گے۔

سوال: جناب صدر کیا آپ ان الثمود میزایئلوں کو تباہ کرنے کے ارادے رکھتے ہیں جن کو اقوام متحدہ نے ممنوعہ قرار دیا ہے۔ کیا آپ ان کو تباہ کریں گے؟

صدام: ہم طے کرچکے ہیں کہ ہم اقوام متحدہ کی قرارداد کی پاسداری کریں اور انہیں ویسے ہی نافذ کریں جیسے کہ اقوام متحدہ کی مرضی ہے اور اس بنیاد پر ہم وہ ہی کریں گے جو ہم کو کرنا چاہیے۔ اور آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت عراق کو زمین سے زمین پر مار کرنے والے راکٹ بنانے کی اجازت ہے۔

سوال: میں یہ یقین کر لینا چاہتا ہوں جناب صدر کے آپ سمجھ رہے ہیں، یعنی آپ کا مطلب یہ ہی ہے کہ آپ ان میزائلوں کو تباہ نہیں کریں گے؟

صدام: کون سے میزائل؟ کیا مطلب ہے آپ کا؟ ہمارے پاس اقوام متحدہ کی طے شدہ تشریح کے برخلاف میزائل نہیں ہیں اور معائنہ کار یہاں ہیں اور وہ دیکھ رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ امریکہ بھی جانتا ہے اور دنیا بھی جانتی ہے کہ عراق کے پاس ایسا کچھ نہیں ہے جس کا سیاسی سطح پر شور مچایا جارہا ہے۔ اور مجھے یہ یقین بھی ہے کہ یہ ساری ہلچل و ہنگامہ، یہ سارے بیڑے اور یہ ساری فوجیں محض اس سب سے بڑے جھوٹ کو چھپانے کے لئے ہیں کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں جیسے حیاتیاتی یا کیمیائی یا جوہری ہتھیار۔ تو دراصل آپ جن میزایئلوں کا تذکرہ کر رہے ہیں اور جو اقوام متحدہ کی قرارداد کے برخلاف ہیں وہ اپنا وجود نہیں رکھتے اور وہ تباہ کئے جا چکے ہیں۔

بڑے جھوٹ کو چھپانے کے لیے

 مجھے یہ یقین بھی ہے کہ یہ ساری ہلچل و ہنگامہ، یہ سارے بیڑے اور یہ ساری فوجیں محض اس سب سے بڑے جھوٹ کو چھپانے کے لئے ہیں کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں جیسے حیاتیاتی یا کیمیائی یا جوہری ہتھیار۔

صدام حسین

سوال: آپ کیا سمجھتے ہیں وہ ایسی کیا بات ہے جو سب سے زیادہ اہم ہے اور آپ کے خیال میں امریکیوں کو سمجھنا چاہیے، اس وقت تاریخ کے اس نازک موڑ پر؟

صدام: سب سے پہلے تو آپ ان کو بتائیں کہ عراقی عوام امریکی عوام کے دشمن نہیں ہیں۔ اور اگر امریکی عوام مزید مذاکرات کے ذریعہ مزید جاننا چاہتے ہیں ٹیلیوژن کے ذریعہ تو میں بش سے، جناب بش، صدر متحدہ ریاستہائے امریکہ سے مذاکرات پر تیار ہوں اور اس بات پر بھی کہ وہ اور میں ایک ساتھ ٹیلیوژن پر آئیں۔ اور پھر میں کہوں گا وہ جو میرے پاس کہنے کو ہے امریکی پالیسی کے بارے میں اور وہ کہیں جو ان کے پاس کہنے کو ہے عراقی پالیسی کے بارے میں اور پھر اس کو انتہائی دیانتدارانہ انداز سے نشر کردیا جائے۔

سوال: آپ کس مباحثہ کی بات کر رہے ہیں، مباحثہ کی، یہ تو ایک نئی بات ہے۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ راضی ہیں اور آپ تجویز کر رہے ہیں صدر بش کے ساتھ ٹیلیوژن پر ایک مباحثہ؟

دنیا کو بتانا چاہتا ہوں

 میں امریکی اور دیگر ممالک کے عوام کے سامنے پیش ہونا چاہتا ہوں صدر بش کے ساتھ ایک براہ راست مباحثہ کرنا چاہتا ہوں جو ٹیلیوژن پر نشر کیا جائے

صدام حسین

صدام: ہاں۔۔۔بالکل، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ہتھیاروں کا مقابلہ کیا جائے۔ میں تو صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ میں امریکی اور دیگر ممالک کے عوام کے سامنے پیش ہونا چاہتا ہوں صدر بش کے ساتھ ایک براہ راست مباحثہ کرنا چاہتا ہوں جو ٹیلیوژن پر نشر کیا جائے۔ اور یہ ان کے لئے ایک موقع ہوگا اگر وہ واقعی اپنی بات پر قائم ہیں جنگ کے بارے میں یا کسی بھی بارے میں اگر وہ کسی جائز وجہ کی بنیاد پر پوری دنیا کو قائل کرنا چاہتے کہ جنگ جائز ہے۔ اور یہ ہمارے لئے بھی ایک موقع ہے کہ ہم پوری دنیا کو بتا سکیں کہ ہم پر امن طور پر زندہ رہنا چاہتے ہیں۔

سوال: یہ آپ مذاق تو نہیں کر رہے ؟

صدام: قطعاً نہیں۔۔۔ میں بالکل مذاق نہیں کر رہا۔ یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں امریکی رائے عامہ کی عزت اور قدر کرتا ہوں۔ اگر مذاکرات کے ذریعہ امن قائم ہو سکتا ہے تو پھر مذاکرات کیوں نہ کئے جائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد