| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدام حسین تکریت سے گرفتار
عراق کے سابق صدر صدام حسین کو ان کے آبائی شہر تکریت میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کو ہونے والی امریکی فوج کی ایک کارروائی کے دوران گرفتارکر لیا گیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بھی اس خبر کی تصدیق کر دی ہے۔ تاہم اس سے پہلے ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے کرد رہنما جلال طالبانی کے حوالے سے خبر دی تھی کہ صدام حسین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاری سے عراقی عوام اس خوف کے سائے سے نکل آئیں گے کہ صدام حیسن حکومت میں واپس آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب صدام حسین پر عراقی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے احمد چلابی کے حوالے سے صدام حسین کی گرفتاری کی خبر کی تصدیق کی۔ بغداد میں امریکی فوج کی ایک ترجمان نے کہا ہے کہ برطانوی وقت کے مطابق دن بارہ بجے ایک اہم خبر کا اعلان کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس سلسلے میں کوئی تفصیل بتانے سے انکار کیا ہے۔ ایران میں موجود کردستان کی پیٹریوٹک یونین کے نمائندے نظام دباغ نے صدام حسین کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ صدام حسین کی گرفتاری کے لیے اس سال اپریل میں بغداد پر امریکی قصبے کے بعد سے کوششیں جاری تھیں۔ تاہم اس سال جولائی میں صدام حسین کے دونوں صاحبزادے اودھے اور قصے عراقی شہر موصل میں ایک حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی حکومت نے صدام حسین کی گرفتاری پر ڈھائی کروڑ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ بین القوامی خبر رساں اداروں کے بغداد میں موجود نمائندوں نے اطلاع دی ہے کہ عراقیوں کی ایک بڑی تعداد نے اس خبر پر خوش منا رہے ہیں۔ غیر ملکی نمائندوں کے مطابق بغداد اور جنوبی شہر بصرہ میں لوگوں نے ہوائی فائرنگ کر کے اس خبر پر خوشی کا اظہار کیا۔ بعض علاقوں میں لوگ سڑکوں پر آگئے۔ گاڑیوں پر سوار نے لوگوں نے ہارن بجائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||