BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 December, 2003, 11:47 GMT 16:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام ابتداء سے گرفتاری تک
صدام
امریکی حکام نے انہیں اپنے مطلوبہ افراد میں سرِ فہرست قرار دیا اور جہاں جہاں ان کی یادگاریں دکھائی دیں انہیں ٹینکوں کے ذریعے گرا دیا گیا

صدام حسین بغداد کے شمال میں واقع شہر تکریت ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔

والد کی جلد ہی وفات کے بعد ان کی والدہ انہیں اپنے رشتہ داروں کے پاس چھوڑ کر کسی اور گاؤں چلیں گئیں۔ چند سال بعد انہوں نے دوسری شادی کر لی۔ سوتیلے والد کا صدام کے ساتھ برتاؤ اچھا نہ تھا۔ صدام حسین کے لئے زندگی مشکل تھی اور اسرائیلی مورخ امتازیہ بیرون بتاتے ہیں محلے کے بچے نو عمر صدام کا مذاق اڑاتے تھے۔

صدام حسین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس عرصے کے دوران وہ قدرے تنہا رہتے تھے اور آس پاس کے لڑکوں پر دھونس بھی جماتے تھے۔

بارہ برس کی عمر میں انہوں نے اپنا گھر چھوڑا اور تکریت میں اپنے ایک چچا کے ساتھ رہنے لگے۔ ان کے یہ چچا یوں تو استاد تھے لیکن تاریخ عراق پر کتاب ’دی ماڈرن ہسٹری آف عراق‘ کی مصنفہ پیبی مار کہتی ہیں ان کا ماضی خاصہ دلچسپ تھا۔

اپنے لڑکپن میں صدام حسین حکومت مخالف مظاہروں میں خاصے سرگرم رہے۔ مگر عراقیوں کی طرح وہ برطانوی نو آبادیاتی حکومت اور امیر جاگیرداروں کے خلاف ہوتے گئے۔

سن انیس سو اٹھاون کے انقلاب میں عراق میں برطانیہ حامی بادشاہت کا خاتمہ کے بعد ملک میں پُرتشد بحرانی دور کا آغاز ہوا۔ لیکن صدام حسین کے لئے ساٹھ کی دہائی اہم ترین ثابت ہوئی۔ عراقی بعث پارٹی کے رکن کی حیثیت سے صدام پارٹی کے ایک سنیئر رہنما اور ان کے چچا کے قریبی رشتہ دار احمو حسن الباباقر کے منظور نظر اور قریبی ساتھی بننے میں کامیاب ہو گئے۔

صدام اس وقت نہ کوئی افسر تھے اور نہ فوج کا حصہ لیکن مورخِ - - - - کہتے ہیں کہ احمو حسن باقر کے لئے وہ خاصے مفید کام انجام دیا کرتے تھے۔

سن انیس سو اڑسٹھ میں بعث پارٹی اقتدار میں آئی اور احموحسن آلا باقر ملک کے نئے صدر بن گئے۔ صدام حسین اسی دور میں احموحسن کے دست راست رہے حکومت کے اہم اور خفیہ کام وہ خود انجام دینے لگے جن میں مخالفین کو منظر عام سے ہٹانا بھی شامل تھا۔ ان مخالفین میں سے کچھ تو قتل کر دیئے گئے، کچھ جلا وطن اور کچھ کو چپ کرا دیا گیا۔

صدام بش
صدام حسین صدر بش کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے

صدر باقر نے عراقی تیل کی صنعت حکومتی کنٹرول میں لے لی عراقی خزانے پر دباؤ بڑھنے لگا اور حکومت نے ملک میں ترقی کے نئے دور کا آغاز کیا دیہاتوں میں بجلی پہنچنے لگی سڑکیں اور اسکول بننے لگے۔

لیکن صدام حسین کے سیاسی عزائم بڑھنے لگے اور سن انیس سو اناسی میں انہوں نے اپنے محسن احمو آلباباقر سے زبردستی استعفٰی دلوا دیا اور خود صدر بن گئے۔

جلد ہی انہوں نے اپنی پارٹی کی ’انقلابی کونسل‘ میں اپنے اور حکومت کے خلاف بغاوت کی سازش کا انکشاف کیا۔

اس سازش کو منظر عام پر لانے کے لئے صدام نے کونسل کے ارکان کا ایک اجلاس طلب کیا اس میں صدام حسین اسٹیج پر بیٹھے سگار پیتے دکھائی دیتے ہیں جب کہ بغاوت میں ملوث افراد کے نام کی فہرست باآواز بلند پڑھی جاتی ہے اور جنہیں باری باری اجلاس سے باہر لے جا کر گرفتار کر لیا جاتا ہے یاہلاک کر دیا جاتاہے۔

اس اجلاس کے شرکاء جذباتی انداز میں باآوازِ بلند صدر صدام کو اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہیں اور نعرے لگاتے ہیں۔

اس کے بعد بعث پارٹی کے حکومت پر صدر صدام کی شخصیت حاوی ہوتی گئی اور جیسا کہ مورخ پیبی مار نشاندہی کرتی ہیں اگر کوئی سیاسی نظریہ بچا تو وہ صدام ازم کا تھا۔

آنے والے برسوں میں صدام کے سیاسی عزائم عراق کی حدود سے واضع طور پر بڑھنے لگے۔ وہ خود کو عرب دنیا کا رہنما اور تاریخ میں اپنے آپ کو صلاح الدین ایوبی جیسے سپہ سالار کے برابر دیکھنے لگے۔

ان کی شخصیت کے اس پہلو کے بارے میں مورخ کہتے ہیں:

صدر صدام کے جارحانہ عزائم کی پہلی مثال جلد ہی انیس سو اسی میں اس وقت سامنے آئی جب ان کی فوجوں نے ہمسایہ ملک ایران میں پیش قدمی کی۔

صدر صدام کی توقعات کے برعکس یہ جنگ انہیں بڑی مہنگی پڑی آٹھ برس جاری رہنے والی اس جنگ میں دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ جنگ کے نتیجہ میں عراق کے خزانے پر بڑا بوجھ ثابت ہوئی۔

صدام کا مجسمہ
عراق پر قبضے کے بعد بغداد میں گرایا جانے والا صدام کا پہلا مجسمہ

صدر صدام نے ہمسایہ ممالک سے اقتصادی مدد مانگی انہوں نے کویت پر عراقی تیل چوری کرنے کا الزام عائد کیا اور مطلوبہ معاوضہ نہ ملنے پر اگست انیس سو نوے میں عراقی فوجیں کویت میں داخل ہو گئیں۔

صدر صدام کو یہ فوجی اقدام بڑا مہنگا پڑا ان کو توقع تھی کہ بڑی مذہبی طاقتیں جنہوں نے ایران کے خلاف ان کی جنگ میں عراق کا بھر پور ساتھ دیا، ہتھیار اور وسائل فراہم کئے اب اگر ان کھل کر حمایت نہ بھی کریں تو کم از کم مخالفت بھی نہیں کریں گیں۔

لیکن حالات بدل چکے تھے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے خلیج میں اپنے مفادات یعنی تیل اور اسرائیل کی حفاظت ہر قیمت پر ضروری تھی۔

اور اسی لیے امریکی قیادت میں ’اپریشن ڈیزرٹ اسٹارم‘ کے تحت دسمبر انیس سو اٹھانوے امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر جنگ مسلط کر دی۔

تاہم معاملہ اس پر ختم نہیں ہوا۔ امریکہ مسلسل اس بات پر مصر رہا کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کہ ہتھیار ہیں اور برطانیہ کا کہنا تھا کہ ان ہتھیاروں کو صعف پینتالیس منٹ میں قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے اس کے علاوہ عراق پر جوہری ہتھیار بنانے اور حاصل کرنے کا الزام بھی لگا لیکن عراق پر امریکی حملے اور قبضے کے بعد سے اب تک ان میں سے کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔

عراق امریکی اور برطابوی گٹھ جوڑ میں شامل ملکوں کو اگرچہ اقوام متحد اور سالامتی کوسل کی حمایت حاصل نہیں تھی اور اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں نے امریکی برطانوی گٹھ جوڑ سے کیے جانے والے دعوں کی تائید بھی نہیں کی تھی تاہم اس گٹھ جوڑ سے حملہ کر دیا گیا اور اس وقت عراق پر امریکی گٹھ جوڑ کا قبضہ ہے۔

صدام حسین
صدام حسین اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ

اس قبضے کے بعد بائس جولائی دو ہزار تین کو معزول صدر صدام کے دونوں بیٹوں کو اودے اور قصُے کو عراق کے شمالی شہر موصل میں حملہ کر کے قتل کر دیا گیا۔

عراق کے صدر صدام حسین نے ایک امریکی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ سے بچنے کے لیئے وہ جلا وطنی اختیار نہیں کریں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد