BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 December, 2003, 07:31 GMT 12:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عالمی عدالت میں پیش کرو‘
صدام حسین
صدام حسین گرفتاری کے بعد

ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ صدام حسین کے خلاف مقدمے کی سماعت عالمی عدالت میں کی جائے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ صدام حسین کے خلاف عالمی عدالت میں فوجداری قانونی کے تحت ایک درخواست دائر کرنے کی تیاری کر ریا ہے۔

صدام حسین نے سن انیس سو اسی میں عراقی فوجوں کو ایران میں بھیجا تھا جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان آٹھ سال طویل جنگ ہوئی۔

ایرانی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ صدام کی گرفتاری میں ان لوگوں کے لئے ایک سبق ہے جو عوامی خواہشات کا احترام نہیں کرتے۔

لیکن ایرانی حکومت کے حامی اخباروں نے مطالبہ کیا ہے کہ صدام حسین کے ساتھ ساتھ امریکہ کے خلاف بھی جنگی جرائم کے لئے مقدمہ چلایا جائے۔

اس سے پہلے عراقی رہنماؤں نہ کہا تھا کہ صدام حسین پر مقدمہ عراق میں چلنا چاہیے۔

عراق کے سابق صدر صدام حسین اس وقت امریکی حراست میں ہیں۔ ان کو ہفتے کی رات کو امریکی فوج نے ان کے آبائی شہر تکریت کے قریب واقع ایک فارم ہاؤس کے نیچے بنے ہوئے تنگ و تاریک تہہ خانے سے گرفتار کیا تھا۔

یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ سڑسٹھ سالہ صدام حسین کو کس جگہ رکھا گیا ہے تاہم دبئی کے ٹی وی چینیل ’العربیہ‘ کے مطابق امریکی فوج ان کو قطر لے گئی ہے۔

امریکی وزیر دفاع ڈونالڈ رمزفیلڈ نے کہا ہے کہ صدام حسین کے ساتھ جنیوا کنونشن کے تحت جنگی قیدیوں کا سا سلوک کیا جائے گا۔

لیکن عراقی رہنما کہتے ہیں کہ صدام حسین پر انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ عراق میں چلایا جانا چاہیے۔

عراق کے عبوری انتظامیہ کے سربراہ عبد العزیز الحکیم نے کہا ہے کہ صدام کے مقدمے کا فیصلہ عراقی ججوں کو کرنا چاہیے۔

اتوار کو صدام حسین کو عبوری انتظامیہ کے ممبران سے ملایا گیا تھا۔ اس ملاقات کے بعد کونسل کے عدنان پچاچی کا کہنا تھا کہ صدام اپنی کسی بات پر پشیماں نہیں تھے۔

بقول عدنان پچاچی ’ہم صدام سے نمٹ لیں گے۔ وہ ایک انتہائی ظالم حاکم تھا جس نے ہزاروں لوگوں کو مروایا ۔‘

اس سے پہلے صدر بش نے کہا تھا کہ اب صدام حسین کو انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا وہی انصاف جس سے اس نے ہزاروں افراد کو محروم رکھا تھا۔ تاہم صدر بش نے مقدمے کی کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ کہاں ہوگا اور کن حالات میں۔

حقوق انسانی کی تنظیمیں عراق میں صدام حسین پر مقدمہ چلانے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدام حسین پر مقدمہ بین الاقوامی عدالت میں چلائے جانا چاہیے جہاں سزا موت کی گنجائش نہ ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد