| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عورتوں کی جبراً برہنگی کب تک؟
سرگودھا ضلع کے ایک گاؤں میں ایک مقامی خاتون کونسلر کو بازار میں برہنہ گھمایا گیا اور اس کی بیٹی اور نواسی پر سر عام تشدد کیا گیا جس کے خلاف آج ہڑتال کے طور پر گاؤں کے بازار بند رہے جس کی مقامی تھانہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر نے تصدیق کی ہے۔ پاکستان میں یہ واقعات ایک عرصے سے ہو رہے ہیں اور اس کے باوجود کہ آج کے اخبارات اور میڈیا کی وجہ سے اب یہ عموماً منظرِ عام پر آجاتے ہیں اور لوگ گرفتار بھی کر لئے جاتے ہیں لیکن ان واقعات میں کمی نہیں آرہی۔ آپ کے خیال میں اس کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا مجرموں کے ساتھ ساتھ معاشرے اور حکومت پر بھی اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ ان واقعات کو روکنے کے لئے فوری طور پر کیا کیا جا سکتا ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں شاد بلال، لاہور: پولیس کا ڈپارٹمنٹ جاگیرداروں کے ہاتھوں میں ہوگیا تو یہیں ہوگا۔۔۔ نامعلوم: جب تک عورت کو مذہب کے نام پر غلام بنا کر رکھا جائے گا یہی ہوگا۔۔۔ صالح محمد، راولپنڈی: جب تک قانون کی بالا دستی قائم نہیں ہوتی اس وقت تک ایسے واقعات جاری رہیں گے۔ پاکستان میں لوگوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں اپنے حقوق کا علم ہو سکے۔ نامعلوم: یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لئے باعث شرم ہے اور اس کے ذمہ دار افراد کو سرعام سزا دینی چاہئے۔
محمد عمران، گوجرانوالہ: اپنے ملک کی بیٹی کی عزت سنبھالی نہیں جاتی اور چلے ہیں کشمیر کو آزاد کرانے۔ مجاہدین کی ضرورت کشمیر میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہے۔ وہ کون سے گناہ ہے جو کشمیر میں ہوتا ہے اور پاکستان میں نہیں ہوتا؟
رابعہ نذیر، ناروے: پاکستان یا پنجاب میں اس نوعیت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ایسا کرنے والوں کو تختۂ دار پر کیوں نہیں لٹکا دیا جاتا؟ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے خود کو ایماندار کہتے ہیں تو انہیں اس واقعہ کے ذمہ دار افراد کو چاہے وہ وڈیرے ہوں، سیاستدان یا فوجی افسران ہوں، سولی پر لٹکا دینا چاہیے۔ محمود وقاس، میلبورن: ان واقعات کی ذمہ دار حکومت ہے۔ یہ ہم سب کے لئے شرم کا مقام ہے کہ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک میں دن دہاڑے ایسی غنڈہ گردی ہو رہی ہے۔ میرے خیال میں اس واقعہ کے ذمہ دار لوگوں کو سرعام کوڑے مارے جانے چاہئیں کیونکہ انسانوں کے معاشرے میں ایسے حیوانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔
علی رضا علوی، اسلام آباد: جس معاشرے میں عدالت طوائف بن چکی ہو وہاں خواتین کو برہنہ نہیں پھرایا جائے گا تو اور کیا کِیا جائے گا۔ ہمارے ملک میں صرف اور صرف انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ چوہدری اکرام، امریکہ: میرے خیال میں یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ ارکان اسمبلی اور دیگر بااختیار افراد کے گھر والے اس قسم کے گھناؤنے اقدامات کرنے کے باوجود صاف بچ جاتے ہیں۔ بلال احمد، سانگلہ ہلز: ایسے واقعات کی سب سے بڑی وجہ سیاست ہے کیونکہ تب تک کوئی سیاست دان نہیں بن سکتا جب تک وہ کوئی ڈکیتی یا قتل وغیرہ نہ کرے۔ ان واقعات کی روک تھام کے لئے ایسے مجرموں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔
ثاقب محی الدین، اٹلانٹا: جب قانون کا ڈر لوگوں کے دلوں سے ختم ہو جائے تو وہ انسانیت کے درجے سے گِر کر جانور بن جاتے ہیں۔ اس لئے میرے خیال میں ایسے گھناؤنے جرائم میں سب سے بڑا کردار قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہے جو ایسے عناصر کو پنپنے دیتے ہیں۔ صدر مشرف کی پالیسی سے مجھے صرف ایک اختلاف ہے کہ جب انہوں نے اپنے سات نکات پر کام شروع کیا تو اس میں پولیس اور دیگر اداروں کو سدھارنے کا ذکر سب سے آخر میں تھا جبکہ یہ اولین ترجیح ہونی چاہئے تھی کیونکہ جب تک ایسا نہیں ہو گا لوگ یہ گھناؤنے جرائم کرتے رہیں گے۔ میری التجا ہے کہ ایسے مجرموں کو وہ عبرت ناک موت دی جائے کہ کوئی شخص اس طرح کا قدم اٹھانے کا سوچ بھی نہ سکے۔ سجاد حسین، ڈی جی خان: ایسا کرنے والے لوگوں کو سرِ عام پھانسی دی جانی چاہئے۔
عثمان خان، لندن: غربت اور تعلیم کی کمی ایسے واقعات کی بنیادی وجہ ہیں۔ البتہ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اس واقعہ کا شکار مذکورہ خاتون سیاسی کارکن بھی ہیں اس لیے ممکن ہے کہ انہوں نے ایف آئی آر درج کراتے ہوئے اصل حقیقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہو۔ اس ضمن میں فوری کارروائی کے وقت مقامی رہنماؤں کی موجودگی اور حمایت کی ضرورت ہو گی۔
خرم حبیب، ڈنمارک: پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یہ ایک انتہائی شرمناک بات ہے۔ صدرِ مملکت کو چاہئے کہ وہ ایسے واقعات کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کریں کیونکہ ملک کے امیر سیاستدان اور جاگیردار ناجائز مفادات کے حصول کے لیے باآسانی قانون کو توڑ مروڑ لیتے ہیں۔ محمد فیاض، سرگودھا: میں اسی گاؤں سے ہوں جہاں یہ شرمناک واقعہ پیش آیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل ان لوگوں نے ایک خاتون کا سر مونڈ دیا تھا جس کی آیف آئی آر بھی تھانہ میں درج ہے۔ ان لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ سیاسی وڈیرے ہر جگہ اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ خواتین کو سیاسی تحفظ دیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||