| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عدالت کا فیصلہ: آنکھ کے بدلے آنکھ؟
بہاولپور میں انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے ایک مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک ملزم کی آنکھوں میں تیزاب کے قطرے ڈالنے کی سزا سنائی ہے جو ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی سزا ہے۔ وکیل استغاثہ ممتاز حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم سجاد نے آٹھ ماہ پہلے بہالپور میں دریائے ستلج کے کنارے واقع بستی حوریاں کی ایک لڑکی رابعہ پر تیزاب پھینک کر اس کی آنکھیں ضائع کردی تھیں۔ عدالت کے جج سید افضال شریف نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ملزم سجاد نے عدالت کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے اس لیے قصاص کے طور پر اسٹیڈیم میں لوگوں کے سامنے مجاز میڈیکل آفیسر اس کی آنکھوں میں بھی تیزاب کے قطرے ڈالے۔ عدالت کے اس فیصلے پر آپ کیا ردعمل ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں نائمہ خان، شکاگو، امریکہ: مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ پاکستانی عدالت نے یہ سزا سنائی ہے۔ علی اصغر سیفی، تہران، ایران: عادلانہ فیصلہ ہے۔ کاشف صدیقی، کیلیفورنیا، امریکہ: شاندار فیصلہ ہے۔ عدالت مبارک باد کی مستحق ہے۔
نسیم رانا، راولپنڈی، پاکستان: مجھے اس فیصلے پر حیرانی ہے۔ ایسی باتیں تو صرف تاریخ کی کتابوں کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔ ویسے بھی خبر کے مطابق اس لڑکی کے چہرے کے ساتھ ساتھ اس کے بدن پر بھی تیزاب پھینکا گیا تو مجرم کی صرف آنکھیں ہی کیوں۔ اس طرح تو قصاص بھی پورا نہ ہوا۔ جمیل شیخ، اٹلانٹا، امریکہ: حق کا فیصلہ ہے، میں جج صاحب کو سلام کرتا ہوں۔ احمد سید، پاکستان: جزاک اللہ محمد عمران پاشا، فیصل آباد، پاکستان: یہ اچھا فیصلہ ہے میں سو فیصد متفق ہوں۔
کاظم چوہان، سالٹ لیک سٹی، امریکہ: یہ اچھا فیصلہ ہے اور پاکستان میں عورتوں کے حقوق کیلئے اہم ثابت ہوگا۔ تاہم بہتر ہوتا اگر اس لڑکے کی آنکھیں نکال کر اس لڑکی کو لگا دی جاتیں ورنہ کسی ضرورت مند کو دی جاتیں۔ یہ ایک اچھی سزا ہوتی اور کسی اور کے لئے امید کا باعث بن سکتی تھی۔ عابد ملک، سیالکوٹ، پاکستان: بہت اچھا فیصلہ ہے، پسند آیا فدا ایچ زاھد، کراچی، پاکستان: میں نے تمام دوستوں کی رائے پڑھی اور کہتا ہوں کہ سزا اس سے بھی بڑھ کر ہونی چاہئے۔ لیکن ہمارا عدالتی نظام شرعی نہیں ہے۔ کیا آپ ہر مقدمے کا فیصلہ اسی طرح کر سکتے ہیں؟ پھر وکیل حضرات تو سچ کو سچ ثابت کرنے کیلئے بھی بےدھڑک جھوٹ بول دیتے ہیں۔ اس وقت شریعت کہاں چلی جاتی ہے۔ فضل کریم، پاکستان: بہت اچھا فیصلہ ہے۔ حمید چوہدری: پاکستان میں اسلامی قوانین نہیں ہیں۔ میں اس فیصلے سے متفق نہیں ہوں۔ عامر ہاشمی، گجرانوالہ، پاکستان: ندیم قریشی صاحب نے بہت اچھی بات کی ہے کہ معاشرے کو ٹھیک کرنے کیلئے بےرحم انصاف کرنے کی ضرورت ہے۔ جج صاحب نے بالکل شریعت کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔ اگر اس طرح کی سزائیں دی جائیں گی تو جلد ہی ہمارے معاشرے میں امن قائم ہو جائے گا اور کسی کو کسی کے ساتھ زیادتی کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ عمران خان، کویت: بہترین فیصلہ محمود ملک، کویت: یہ اچھا فیصلہ ہے اور اب سیاسی لوگ بھی کوئی جرم کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچیں گے۔ اشرف چوہدری، کینیڈا: ایسا ہونا تو نہیں چاہئے لیکن لگتا زبردست ہے۔ محمد حسین چوہدری، ٹورنٹو، کینیڈا: میں جج صاحب کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں انہوں نے قانونِ قدرت کے مطابق فیصلہ کیا۔ عاصم حسن، کراچی، پاکستان: یہ بہت اچھا فیصلہ ہے۔ جاوید، بورے والہ، پاکستان: یہ درست فیصلہ ہے کیونکہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے۔ سعید احمد، ہانگ کانگ: اس ظالم انسان کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئے۔ فضل حبیب، دیر، پاکستان: میں اس فیصلے سے سو فیصد متفق ہوں۔ اس عدالت کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اور اگر سزا پر صحیح عمل درآمد کیا جائے تو آئندہ کوئی بھی ایسا کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔ ایم اسلم ساجد اڈووکیٹ، سمندری، پاکستان: میں عدالت کے فیصلے کی تعریف کرتا ہوں۔ شہریار بھٹی، لاہور: یہ مسئلہ ختم نہیں ہونے والا ہے۔ نظیر حسین، کراچی: عدالت نے جو فیصلہ سنایا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے کیوں کہ جب تک اس قسم کے فیصلے سناکر سزا نہیں دی جاتی، اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ عمران لکھیروالا، شیکاگو: وقت آگیا ہے کہ اس طرح کی سخت سزائیں دی جائیں۔ یہ واقعات پاکستان میں مردوں کو بالادستی والے معاشرے کی علامات ہیں۔ ہمیں شرم آنی چاہئے۔ شہزاد ڈار، برطانیہ: میں بہت خوش ہوں کہ پہلی بار پاکستان میں ایک صحیح اور فیصلہ سنایا گیا ہے تاکہ معصوم لڑکیوں کے ساتھ مستقبل میں اس طرح کے جرائم نہ پیش آئیں۔ محمد سلمان، امریکہ: میں عدالت کے فیصلے سے سو فیصد متفق ہوں۔ ’ چودھری مبین، پاکستان: میں عدالت کے فیصلے کی تعریف کرتا ہوں۔ تنویر بٹ، کیمبرِج، کینیڈا: کسی بھی عورت کے ساتھ اس طرح کا ظلم کرنے کے لئے کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اس طرح کے مجرموں کے ساتھ کوئی مروت نہیں کی جانی چاہئے۔ ومیق نصیر، چکوال: ہاں، میں عدالت کے فیصلے کے حق میں ہوں۔ شکراللہ ملحی، ربوہ، پاکستان: یہ فیصلہ بالکل ٹھیک ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ اگر کسی لڑکی کے ساتھ زناکاری کی جائے تو ایسا کرنے والے کو سولی پر چڑھا دیا جانا چاہئے۔ محمد واجد اسلم، فیصل آباد: عدالت کا فیصلہ بالکل ٹھیک ہے۔ مجرم کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔ اگر اس قسم کے جرائم کو ختم کرنا ہے تو یہ فیصلہ بالکل قانونی اور مذہبی لحاظ سے درست ہے۔ مقبول چننا، برطانیہ: آپ کیا بتاؤں کہ پنجاب میں ’اندھیر نگری چوپٹ راج ہے‘ یا انسانیت کی تذلیل۔ عثمان سعد، اسلام آباد: یہ ایک انسان کی آنکھیں ہیں، کوئی گاڑی کی بیٹری نہیں جو تیزاب بھرا جائے۔
ندیم قریشی، شنگھائی، چین: میں جج کے فیصلے کو درست سمجھتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ ان سے اوپر کی عدالتیں بھی ان کے فیصلے کو برقرار رکھیں گی۔ پاکستان میں معاشرے کو ٹھیک کرنے کے لئے بے رحم انصاف کی ضرورت ہے۔ مسعود خان، امریکہ: میں عدالت کے فیصلے سے مکمل طور پر متفق ہوں۔ اس طرح کی سخت سزا مستقبل میں عورتوں پر حملے روکنے میں مدد دے گی۔ عرفان اکرم، پاکستان: میں سمجھتا ہوں کہ اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔ لیکن یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے حکومت قانون کا راج قائم کرسکتی ہے۔ نور عبداللہ، ڈلاس، امریکہ: میں اس فیصلے سے متفق ہوں اور اس سے اس قسم کے جرائم کو روکنے میں مدد ملے گی۔ رانا اعزاز، صادق آباد، پاکستان: یہ فیصلہ عدالت کا نہیں، بلکہ قرآن کا ہے۔ لیکن انسانی حقوق والے اور عالمی ادارے تو اسے بھی ایک وحشیانہ اقدام قرار دیں گے۔ اگر اسی طرح چند فیصلے اور ہوجائیں تو اس طرح کا ظلم کرنے والوں کی تعداد میں یقینا کمی ہوگی۔ نامعلوم: بالکل درست فیصلہ ہے۔ ہم کو اس فیصلے پر فخر ہے۔ محمد اشرف، اونٹاریو، کینیڈا: یہ اچھا ہے کہ پاکستانی ججوں نے اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر فیصلے سنانے شروع کردیے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں لگتا کہ اعلیٰ عدالتیں اسے ممکن بننے دیں گی۔ بعض لوگ اس فیصلے کی مخالفت کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کے اس طرح کے فیصلے مجرموں کے لئے سبق آموز ثابت ہوں گے۔ ظہور حسن، شیکاگو، امریکہ: عدالت کا فیصلہ سو فیصد صحیح ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||