| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
خاتون کونسلر سر عام برہنہ
ضلع سرگودھا کے ایک گاؤں میں ایک مقامی خاتون کونسلر کو جمعرات کی رات بازار میں برہنہ کرکے گھمایا گیا اور ان کی بیٹی اور نواسی پر سر عام تشدد کیا گیا۔ اس گھناؤنی کارروائی کے خلاف جمعہ کو ہڑتال کے طور پر گاؤں کے بازار بند رہے۔ یہ واقعہ سرگودھا کی تحصیل سلانوالی کے گاؤں شاہ نکڈر میں جمعرات کی شب پیش آیا۔ مقامی تھانہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس محمد انور نے بی بی سی سے بات کرتے ہوۓ اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ خاتون کونسلر فیض بتول نے جمعہ کوسرگودھا کے قائم مقام ضلعی پولیس افسر کے نام مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دی تھی جس پر تھانہ مقدر میں ایف آئی آر (نمبر ایک سو سینتالیس) درج کرلی گئی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ فیض بتول کا خاوند پبلک کال آفس میں فون پر بات کررہا تھا کہ کلیار خاندان کے کچھ لوگ ٹریکٹر پر وہاں موجود تھے جن کے ٹیپ ریکارڈر کی اونچی آواز پر اس نے اعتراض کیا۔ اس بات پر جھگڑا بڑھ گیا اور شام کو کلیار خاندان کے مسلح لوگ خاتون کونسلر کے گھر میں دیواریں پھلانگ کر گھس گۓ۔ فیض بتول نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ ملزموں نے ا ن کے کپڑے پھاڑ دیے اور انہیں بازار میں برہنہ کرکے گھمایا جبکہ پولیس اے ایس آئی کا کہنا ہے کہ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق خاتون کو بازار میں گھمایا تو گیا ہے لیکن ان کے کپڑے نہیں اتارے گۓ۔ تھانہ مقدر کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس محمد انور نے بی بی سی کو بتایا کہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات تین سو پینتالیس، چار سو باون، ایک سو اڑتالیس او ر ایک سو اننچاس کے تحت ممتاز کلیار اور اس کے پینتیس دیگر ساتھی ملزموں کے خلاف درج کیا گیا ہے جن میں سے سولہ ملزموں کے نام درج ہیں جبکہ بیس نامعلوم افراد ہیں۔ ملزموں کا تعلق علاقے کے باثر سیاسی خاندان سے ہے اور وہ صوبائی اسمبلی کے ایک رکن خالد کلیار کے رشتہ دار ہیں۔ خاتون کونسلر نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ ملزموں نے اس کی بیٹی کلثوم اختر اور نواسی ارم شہزادی کو مارا پیٹا اور انھیں بازار میں لے آۓ۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اہل محلہ کی منت سماجت پر ملزموں نے خاتون کو چھوڑا اور ہوائی فائرنگ کرتے ہوۓ فرار ہوگۓ۔ مقامی پولیس نے وقوعہ کے روز مقدمہ درج نہیں کیا تھا۔ تاہم اے ایس آئی تھانہ مقدر کا کہنا ہے کہ پولیس نے فیض بتول کو بھی مقدمہ درج کرانے کا کہا تھا لیکن وہ نہیں آئیں اور جمعہ کی صبح انہوں نے ضلعی پولیس افسرکے پاس جاکر مقدمہ کے اندراج کی درخواست دی جو مقامی پولیس کو جمعہ کو موصول ہوئی اور فورًا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس اہلکار نے کہا کہ ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں کی گئی البتہ جلد ایسا کیا جاۓ گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||