| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی سماجی فورم شروع
عالمگیریت کے خلاف قائم کیا گئے عالمی سماجی فورم کا چوتھا سالانہ اجلاس آج ممبئی میں شروع ہو رہا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یہ فورم اپنا اجلاس کسی ایشیائی ملک میں کر رہا ہے۔ ممبئی سے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ فورم کی خواہش ہے کہ اس کو ترقی پذیر ملکوں کی ضروریات سے زیادہ قریب لایا جاۓ۔ اس عالمی سماجی فورم یا ڈبلیو ایس ایف میں جو اقتصادی عالمگیریت کے خلاف بنایا گیا تھا زیادہ تر مزدور انجمنیں، غیر سرکاری تنظیمیں یا این جی او اور بائیں بازو کی پارٹیاں شامل ہیں۔ سن 2001 میں شروع ہونے والے اس فورم کے پہلے تین اجلاس برازیل میں منعقد ہوئے تھے۔ لاطینی امریکہ کے اس ملک کو اس فورم کے آغاز کے لیے اس لیے چنا گیا تھا کہ اقتصادی آزادی کے نظریے کے برے اثرات سب سے زیادہ اس ملک میں نظر آتے ہیں اور برازیل کے مختلف طبقے عالمگیربیت کے رواج کی پُر زور مخالفت کررہے ہیں۔ اب پہلی بار ہے کہ فورم نے اپنے سالانہ اجلاس کے لیے ایشیا میں بھارت کو چنا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہی ہو سکتی ہے کہ فورم پر اب تک یورپ اور لاطینی امریکہ کی جو چھاپ رہی ہے اسے ختم کیا جائے اور اس میں دنیا کے کچھ غریب ترین ملکوں کو بھی نمائندگی دی جاۓ ۔ اس کے علاوہ یہ کوشش بھی ہے کہ فورم کا ایجنڈا وسیع تر کیا جائے۔ اسی لیے ممبئی کے اجلاس میں امیر ملکوں کی اقتصادی سامراجیت پر تو غور کیا جائےگا اسی کے ساتھ عراق پر امریکی قبضے کی مخالفت کا اظہار بھی کیا جائے گا۔ یہی نہیں بلکہ تبدیل شدہ جینز والی خوراک اور نسل پرستی پر بھی بات کی جاۓ گی۔ جنگ کے مخالف جو دھڑے ہیں وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان صلح کے اقدامات کا خیر مقدم کریں گے۔ لیکن بھارت کی حکومت کے لیے باقی باتیں زیادہ خوش کرنے والی نہیں ہونگی۔ اجلاس میں ہندو سماج کے صدیوں پرانے ذات پات کے نظام پر تنقید کی جاۓ گی جس کی وجہ سے ملک کی آبادی کا چھٹا حصہ بچھڑی ذات یعنی دلت کہلاتا ہے۔ ذات پات کے علاوہ بچوں کی محنت مزدوری اور امیروں اور غریبوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کے معاملات بھی بھارت کی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||