BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 February, 2004, 17:30 GMT 22:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق میں طاقت کا نیا محور؟
عراق میں شیعہ برادری سیاسی اختیارات کے لئے سرگرم
عراق میں شیعہ برادری سیاسی اختیارات کے لئے سرگرم
اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم شروع ہوگیا ہے۔ اس موقع پر اس بات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ شیعہ برادری عراق کی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہورہی ہے۔ عراق میں شیعہ رہنماؤں نےامریکہ اور اس کی اتحادی قابض طاقتوں کو اس بات کے لئے مجبور کردیا ہے کہ وہ ملک میں جمہوری عمل تیز کریں اور اقتدار عوام کو سونپ دیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جو بھی حکومت اقتدار میں آئے اس کی تشکیل میں پہلی بار شیعہ برادری اہم کردار ادا کرے گی۔ عراق کی آبادی کی پینسٹھ فیصد شیعہ برادری ہے، جبکہ بحرین میں ان کی آبادی ستر فیصد، لبنان میں چالیس فیصد، کویت میں تیس فیصد، قطر میں سولہ فیصد، متحدہ عرب امارات میں سولہ فیصد، سعودی عرب میں پانچ فیصد، اور ایران میں لگ بھگ نوے فیصد ہے۔ بعض عرب رہنماؤں کا خیال ہے کہ جیسے جیسے مشرق وسطیٰ میں حکومتیں جمہوریت کا خیرمقدم کررہی ہیں، شیعہ برادری خطے کی سیاست میں اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ کے خیال میں عراق کی نئی سیاست میں شیعہ برادری کیا کردار ادا کررہی ہے اور یہ کتنا اہم ہے؟ شیعہ اور سنی برادری کو مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کے فروغ کے لئے مشترکہ طور پر کیا اقدام کرنا چاہئے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


چودھری بلال عبدالرؤف، ’قصور‘، پاکستان: عراق میں سب سے کثیر آبادی میں شیعہ رہتے ہیں، اس لحاظ سے وہ سیاست میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ عراق میں شیعہ برادری دب کر رہی ہے اور اب ان کو موقع ملا ہے کہ وہ اپنی حکومت بنائیں۔

نامعلوم: میں کیسے اپنے خیالات آپ تک پہنچا سکتا ہوں جب میرے پاس اردو لکھنے کا اسکرِپٹ نہیں ہے۔

علی رضا علوی، اسلام آباد: جمہوریت یہی ہے کہ اکثریت کا حق بہرحال مسلمہ ہے لیکن کسی کی حق تلفی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ درست ہے۔ وقت آگیا ہے کہ شیعہ برادری سیاست میں اہم کردار ادا کرسکیں۔

عبداللہ: اگر امریکہ نے عراق میں شیعہ برادری کی سیاسی حقیقت کا اعتراف کرلیا ہے تو امریکی انہیں اقتدار کیوں نہیں سونپ دیتے؟

اصغر خان، برلِن، جرمنی: شیعہ عوام کو ان کا حق نہ صرف عراق میں بلکہ ان تمام ممالک میں ملنا چاہئے جہاں وہ اکثریت میں ہیں۔

محسن کاظمی، پاکستان: عراق میں صدام حسین نے شیعہ برادری پر بہت زیادہ ظلم کیے ہیں۔ اب جمہوریت کا دور ہے، آزادانہ انتخابات ہونے چاہئیں اور اس کے نتیجے میں مخلوط حکومت بنے گی۔

شفیق عوان، لاہور: شیعہ اور سنی دونوں شہری ہیں اور انہیں چاہئے کہ جمہوری اصولوں پر حکومت میں شامل ہوں۔

شوکت علی، سندھ: میرے خیال میں عراق میں شیعہ اور سنی برادری کو مل جل کر عراق کی بہتری کے لئے کام کرنا چاہئے کیونکہ یہ ٹائم ہے جس پر پوری مسلم امہ کا مل جل کر دفاع ہوگا۔

غلام عباس، پنجاب، پاکستان: شیعہ برادری عراق میں اہم کردار ادا کرے گی۔

محمد عامر خان، کراچی: عراق میں سیاسی طاقت کا محور یقینا وہی شخص ہوگا جس نے امریکہ میں ٹرینِنگ لی ہوگی جیسا ہم نے افغانستان میں دیکھا کہ کرزئی کو امریکہ سے بلاکر صدر بنادیا گیا۔ اب رہی عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی طور پر مضبوط ہوکر ایسے لوگوں کو نکال باہر کریں۔

ایم ہمدانی، پاکستان: یہ حقیقت ہے کہ عراق میں شیعہ برادری کی اکثریت ہے لیکن جو مسئلہ سمجھنے والا ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت پہلا کام عراق کو آزاد کرانا ہے اور اس کے لئے ہمیں اس طرف توجہ دینی چاہئے۔

فصیح الحسن سید، محمودآباد، پاکستان: شیعہ اور سنی برادری کو مل جل کر کام کرنا چاہئے تاکہ وہ تمام انسانوں کو آزاد کراسکیں۔ ہماری تعلیمات حضرت ابراہیم سے شروع ہوتی ہیں۔۔۔۔

احمد نواز نقوی، کراچی: شیعہ برادری کی عراق میں پینسٹھ فیصد آبادی کی شمولیت کے بغیر کوئی حکومت معنی نہیں رکھتی۔

لیاقت شرائفی، نیویارک: میرے خیال میں حکومت شیعہ یا سنی نہیں بلکہ عراقیوں کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔

نامعلوم: عالم اسلام کو پہلے سے زیادہ اتحاد کی ضرورت ہے۔ عراق میں جس پر پوری دنیا کی نظر ہے، شیعہ اور سنی برادری کو چاہئے کہ اس مسئلے کو حل کریں۔ جہاں شیعہ اکثریت میں ہیں وہاں دوسرے لوگ بھی ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ بھی ہونا چاہئے۔

رحیم داد، ہنزہ، پاکستان: عراق میں ایک ایسی حکومت ہونی چاہئے جو تمام مذہبی گروہوں کی نمائندگی کرے، ایسی حکومت فرقہ واریت پر مبنی نہیں ہونی چاہئے۔

محمد ثاقب احمد، بہار، انڈیا: جناب سلام عرض ہے، میں گزشتہ کئی مہینوں سے آپ کے اس صفحے پر ۔۔۔۔ اگر مجھ جیسے کمترین قاریوں کو اپنی رائے ظاہر کرنے کی گنجائش مہیا کرتے ہیں تو میں اپنی رائے دینے سے کبھی نہیں چکتا اور آپ نے کئی رائے شائع کرکے میری حوصلہ افضائی کرکے ذرہ نوازی کا بھی ثبوت دیا ہے۔ لیکن کئی بار آپ نے میری رائے کو شائع کرنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔ (مدیر: ہمیں روزانہ قارئین کے ہزاروں خطوط مل رہے ہیں جن میں سے ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ شائع ہوں۔ ہم اپنے قارئین کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ’آپ کی آواز‘ کے صحفہ کو کامیاب بنایا ہے۔ بعض اوقات کچھ خطوط نہیں شائع ہوپاتے جس کے لئے ہم معذرت چاہتے ہیں۔ لیکن ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ خطوط شائع ہوں۔ ہم چاہیں گے کہ آپ خطوط کے علاوہ اپنی کہانیاں بھی لکھ بھیجیں۔)

رانا نجم مشتاق، ہانگ کانگ: عراق میں شیعہ اور سنی برادری کو سب سے پہلے ملکر امریکہ سے عراقی کو آزاد کرانا چاہئے۔

محمد فدا، اونٹاریو: جمہوریت عوام کی، عوام کے لئے اور عوام کے ذریعے ہے۔ اگر اسے فرقہ واریت کا تابعدار بنایا گیا تو انسانیت اور عوامی طاقت اپنی خودمختاریت کھو بیٹھے گی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ایران میں مذہب سیاسی عمل پر حاوی رہا۔ جمہوریت کسی مذہبی نظریے کے ساتھ نہیں مل سکتی ہے۔

منظور حسین ساقی، سرینگر: شیعہ علماء کو حکومت دینی چاہئے۔

عابد کاظمی، بیلجیئم: شیعہ اور سنی کو ملکر چلنا ہوگا ورنہ غیرملکی طاقتیں مسلمانوں پر قابض ہوجائیں گی۔

شیر یار خان، سِنگاپور: عراق کی موجودہ سیاست میں شیعہ برادری کافی اہم حقیقت ہے۔ صدام حسین کے زوال کے بعد وہ ایک مؤثر کردار ادا کررے ہیں اور مستقبل کی عراقی سیاست پر بھی اثر انداز ہونگے۔ وہ عراق میں امن اور استحکام قائم کرسکتے ہیں اگر وہ مذہبی سیاست کو بڑھاوا نہ دیں۔ شیعہ اور سنی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ تمام مسلم فرقوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ محبت کے پیامبر ہیں۔

ہارون رشید، سیالکوٹ: ہمیں معلوم ہے کہ شیعہ اور سنیوں میں کچھ معمولی اختلافات ہیں جس کا امریکہ عراقی انتخابات میں فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

سعید کھٹک، نوسہرہ، پاکستان: یہ ایک عالمی حقیقت ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں اکثریتی برادری کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ شیعہ برادری ایران میں اہم کردار اداکرسکتی ہے، لیکن سنیوں کو بھی وہی اختیارات حاصل ہونے چاہئیں ورنہ عراق میں استحکام ممکن نہیں ہوگا۔ لیکن اگر عراق کی داخلی سیاست میں ایران مداخلت کرتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا عمل مشکل ہوجائے گا۔

صابر، گلگت، پاکستان: ہماری خواہش ہے کہ جس کو حکومت کا حق ہے اس کو ملنا چاہئے

سید زیدی، لاس ویگاس، امریکہ: ہاں! یہ واضح ہے کہ عراق میں اکثریت میں ہونے کی وجہ سے شیعہ برادری کا حق ہے کہ کسی بھی نئی حکومت میں اہم کردار ادا کرے۔ جمہوریت کا تقاضہ بھی یہی ہے۔

ذیشان حیدر ہاشمی، پاکستان: تمام مسلم دنیا متحد ہو۔

عبدالغفور، ٹورانٹو: میرے خیال میں شیعہ مسلمان عراق کی جمہوری حکومت میں کافی اہم کردار ادا کریں گے، کیونکہ سنی مسلمانوں کی صدیوں کی حکمرانی کے بعد پہلی بار وہ عراق سے فرقہ واریت کا خاتمہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں عرب دنیا میں سنی مسلمانوں کا کوئی ’نمائندہ‘ نہیں ہے جو عراق کی گورنِنگ کونسل میں بااثر رول ادا کرسکے۔ نئے عراق کی مضبوط بنیاد کے لئے سنی، شیعہ، عرب، کرد اور دیگر تمام لوگوں کو ملکر ایک ساتھ کام کرنا پڑے گا۔

محمد ابراہیم محمدی، پاکستان: اپنے پامال شدہ حقوق حاصل کرینگے، شیعہ اور سنی آپس میں متحد ہوجائیں۔

محسن سید، لاہور: میرے خیال میں پوری دنیا میں بالخصوص عراق میں شیعہ برادری کو دبایا گیا ہے اور خاص طور پر میں عرب دنیا میں۔ مگر اب وقت آگیا ہے کہ لوگوں کو ان کا حق ماننا پڑے گا اور حق اس کے حقدار کو ملکر رہے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد