کیا عراق میں خانہ جنگی پھیل رہی ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی جنگ کے بعد اس ہفتے حالات نے اب تک کا سب سے خطرناک موڑ لیا ہے جس کے بعد بغداد کی شیعہ آبادی والے ضلع میں امریکی گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔ سخت گیر شیعہ رہنما مقتدٰی الصدر کے اخبار پر پابندی اور ہفتے کے روز ان کے ساتھی مصطفٰی یعقوبی کی گرفتاری کے بعد مقتدٰی الصدر کے حمایتوں نے عراق کے کم سے کم چار شہروں میں پرتشدد مظاہرے کیے۔ ادھر فلوجہ میں بھی امریکی فوج نے کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ یہ سنّی اکثریت والا علاقہ ہے جہاں گزشتہ ہفتے چار امریکیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو مسخ کر دیا گیا تھا۔ بغداد میں شیعہ مظاہرین اور اتحادی فوج کے درمیان تازہ جھڑپیں بھی جاری ہیں۔ اس صورتِ حال نے تیس جون تک عراقیوں کو اقتدار کی منتقلی کے بارے میں بھی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں اور امریکی سینیٹ کے دو ارکان نے انتباہ کیا ہے کہ اگر حالات پر تب تک قابو نہ پایا گیا تو عوامی سطح پر خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔ آپ کے خیال میں کیا عراق کی صورتِ حال کھلی خانہ جنگی کی ابتدا ہے؟ کیا امریکی افواج کے خلاف اب شیعہ اور سنی متحد ہو رہے ہیں؟ کیا فلوجہ میں چار امریکیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو مسخ کرنے سے امریکی حکمتِ عملی بدلے گی؟ کیا اس طرح عراق میں تیس جون تک اقتدار کی منتقلی ممکن ہے؟ آپ کا ردِّ عمل یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں احمد صدیقی، کراچی: امریکیوں نے یہ سمجھنے میں غلطی کی کہ عراقی عوام انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ کوئی قوم بھی غلامی میں خوش نہیں رہ سکتی۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد: یہ تو ہونا ہی تھا، شیعہ مسلمانوں اور امریکیوں کا تعلق کاچے دھاگے کی طرح تھا اور وہ اب ٹوٹ گیا ہے۔
ظفر خان، کینیڈا: امریکہ کو عراق میں جمہوریت بحال کرکے واپسی کا صاف ستھرا راستہ مہیا کیا جائے۔ بغاوت، سرکشی اور تشدد سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر امریکہ چلا بھی گیا تو پھر عراق میں کیا ہوگا؟ خون کا سمندر ہوگا یا اقتدار کے حوس میں مسلمان ایک دوسرے کا گلا کاٹ کر بہائیں گے۔ شفاعت خان، کویت: برسوں تک عراق پر سنی اقلیت کی حکومت تھی۔ جب امریکی آئے تو شیعہ مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ جمہوریت قائم ہوگی اور یہ حکومت ان کی ہوگی کیونکہ وہ عراق میں اکثریت میں ہیں۔ اسی وجہ سے پہلی خلیجی جنگ کے دوران وہ خاموش رہے۔ لیکن وقت کے ساتھ انہیں بھی سمجھ میں آگیا ہے کہ امریکی اقتدار کی حقیقی تبدیلی نہیں چاہتے ہیں۔ نافع، ساہیوال، پاکستان: امریکہ افغانستان اور عراق چھوڑ دے ورنہ ان کے فوجیوں کی لاشیں مسخ ہوتی رہیں گی۔ یاسر حمید، کوئٹہ کینٹ: اقبال نے کہا تھا: خون پھر خون ہے۔۔۔۔ نثار احمد ملک، امریکہ: میرے خیال میں امریکہ میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ صحیح نہیں ہے۔ مسجد میں کتنے معصوم لوگ مارے گئے، یہ غلط ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے اور وہ جلد ہی انصاف قائم کرے گا۔ آصف لطیف، ٹورانٹو: امریکی شروع سے ہی جھوٹ بول رہے ہیں۔ انہوں نے پہلے کہا کہ وہ ہتھیار ڈھونڈ لیں گے، پھر وہ کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت دینے جارہے ہیں عراقیوں کو، بندوق کے ساتھ؟ محمد کاشف، کویت: جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے اور امریکہ نے افغانستان اور عراق ۔۔۔۔ عابد عزیز، ملتان: امریکہ افغانستان اور عراق چھوڑ دے اور فلسطینی تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ اشرف بنیری، پیر بابا بنیر: اس میں شک نہیں کہ امریکہ نے جلتی ہوئی آگ پر تیل ڈال دیا ہے اور اس میں سب سے زیادہ نقصان جارج بش کا ہوا، انتخابی لحاظ سے اگر اس وقت امریکہ نے ہوش سے کام نہیں لیا تو اس کا حشر بھی روس سے مختلف نہیں ہوگا۔
محمد عامر خان، پاکستان: عراق میں پہلے عوام کو کون سی آزادی تھی جو ہم امریکہ کے قبضے کے بعد غلامی کا رونا رو رہے ہیں؟ صدام نے بھی وہی کیا تھا جو امریکہ کررہا ہے۔ پہلے کبھی عراق نے اسلامی ممالک کی مدد نہیں کی تو اب پاکستان اور دوسرے ملک کیوں کر عراق کی مدد کریں؟ علی غیور، کوئٹہ: میں سمجھتا ہوں کہ امریکی عراق میں بہت سی خطرناک غلطیاں کرنے لگے ہیں کہ وہ سنی اقلیت سے برسرپیکار ہیں ہی، مگر اب شیعہ اکثریت کو بھی اپنے مقابل کھڑا کیا ہے۔ یہ بہت غلط حکمت عملی ہے، اس سے ان کو بہت مشکل صورتحال کا سامنا ہوگا۔ سعید کھٹک، نوشہرہ: یہ تو ابتدا ہے، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ اگر سنی اور شیعہ متحد ہو گئے تو امریکہ کو بہت جلد عراق چھوڑنا ہوگا۔ بلکہ ابھی سے اپنے بوریے بسترے تیار کرلے، تاکہ بھاگتے وقت اس کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ اقتدار کی منقتلی ایک ڈرامہ ہے۔۔۔۔ قیصر، بیجنگ: جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا۔ اب امریکیوں کے عراق سے نکلنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ شمس الاسلام، جاپان: امریکہ اتنا خراب ملک نہیں ہے جتنا ہم مسلمان ملک سمجھ رہے ہیں۔ امریکہ نے انسانیت کے لئے بہت کچھ کیا ہے اور جنگوں میں اپنا مالی اور جانی نقصان کر کے طالبان جیسی حکومت کو ہٹایا جو مسلمانوں کے لئے شرم کی علامت تھی۔ اس کے بعد عراق میں صدام حسین کو ہٹایا اور یہ بھی ٹھیک کیا۔ صدام اور ان کے بیٹوں کے کرتوت سے سبھی واقف ہیں۔ تاہم جنگ جیتنے کے بعد تمام اختیارات یو این او کو دینے چاہئے تھے لیکن افسوس ایسا نہ ہوا اور امریکہ نے لالچ میں آ کر اپنے لئے مصیبت میں اضافہ کر لیا۔ سعید احمد، اوٹوا: یہ عراقیوں کی طرف سے کھلی ناشکری ہے کیونکہ بےچارے امریکی اتنی دور سے ان کے حالات سنوارنے آئے ہیں۔ اگر دس یا بیس ہزار عراقی مر بھی گئے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ تمام دنیا امریکہ جانے کی کوشش کرتی ہے اور ادھر امریکہ خود چل کر آیا ہے۔ میرے خیال میں یوں نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس طرح امریکہ ناراض ہو کر واپس بھی جا سکتا ہے۔ صلاح الدین لنگا، جرمنی: ویت نام یاد ہے نا سب کو۔۔۔؟ امریکیوں کی لاشیں اٹھانے والا بھی کوئی نہیں ہو گا۔ یاسر محمود عالم، میرپور: میرے خیال میں یہ جنگ کا آغاز ہے۔ امریکی فوج عراق پر کنٹرول کرنے میں ناکام ہے۔ مجاہدین جہاں چاہتے ہیں کارروائی کرتے ہیں۔ امریکیوں پر کیا گیا آخری حملہ جس میں دو لاشیں پل سے لٹکا دی گئی تھیں امریکی کنٹرول کی واضح مثال ہے۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ عراق اور افغانستان سے نکل جائے ورنہ اس کا حال دوبارہ ویت نام کا سا ہو گا۔
عمران کاظمی، لاہور: تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ جہاں ایک مرتبہ گھس جاتا ہے وہاں سے کبھی نہیں نکلتا اور عراق کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے جیسا کہ کویت اور سعودی عرب کے ساتھ ہو چکا ہے کیونکہ امریکہ خود کو محافظ قرار دے کر وہاں سے نہیں نکلا تھا۔ یہ بالکل واضح ہے کہ امریکہ جب تک اپنے مقاصد پورے نہیں کر لیتا وہ متنازعہ بیان دے کر عراق میں بے چینی اور بغاوت کو ہوا دیتا رہے گا۔ مرزا عاطف: عراق میں خانہ جنگی کی صورت حال تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے اور اس کی اصل وجہ امریکی رویہ ہے۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ عراق کی انتظامیہ جلد از جلد ملک کے عوام کو سونپ دے لیکن وہ ابھی تک اپنے پسندیدہ نمائندے تلاش کر رہا ہے تاکہ عراق کی آئندہ حکومت اسی کے ہاتھوں میں رہے۔ آصف اعوان، چک: میرے خیال میں امریکی انتظامیہ عراق میں خاصی خراب اور ناکام رہی ہے۔ پال بریمر ایک کے بعد دوسری غلطی کر رہے ہیں جو انہیں ایک اور ویت نام میں بھی دھکیل سکتی ہے۔ اگر اب خانہ جنگی شروع ہوتی ہے تو کسی بھی ملک کے لئے عراق میں اپنی فوج تعینات رکھنا آسان نہیں ہو گا۔ نامعلوم: ساری دنیا جانتی ہے کہ امریکیوں کی نیت میں فتور ہے اور عراق میں بدامنی کا بھی امریکہ ہی کو فائدہ ہے۔ اور امریکیوں کے ہر ناجائز عمل پر خاموش رہنا بھی تو کوئی عقل مندی نہیں ہے۔
شاہدہ اکرم، یو اے ای: یہ خانہ جنگی کی ابتدا ہے۔ عراق کی موجودہ صورت حال ایک ایسے آتش فشاں کی سی ہے جو لاوا اگل چکا ہے اور اب آہستہ آہستہ ارد گرد کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اور اگر امریکہ نے اب بھی اپنی حکمت علمی تبدیل نہ کی تو امریکی عوام کو بھی جواب دہ ہونا ہو گا۔ میرے خیال میں عراق میں اقتدار منتقل کیا جائے یا نہ کیا جائے لیکن عراقی عوام کو روکنا اب مشکل لگ رہا ہے۔ عطا جمیل: عراق میں بھی فلسطین جیسے حالات پیدا ہو رہے ہیں اور وہاں بھی خانہ جنگی شروع ہو رہی ہے۔ راضی رحمٰن، سان فرانسسکو: شیعہ اور سنی امریکی فوج کے خلاف متحد ہو جائیں گے اور امریکہ انہیں روکنے کے لئے اسرائیل کی طرح ہتھکنڈے استعمال کرے گا۔ نسیم، جھنگ: اگر خانہ جنگی ہو اور اقتدار بھی منتقل نہ ہو تو فائدہ کس کو ہو گا۔اگر دس، بیس لوگ مروا کے فائدہ ہی فائدہ ہو تو کیا برائی ہے۔ مسلم ممالک ایک اور افغانستان کی امید رکھیں۔ ایم اشرف، پاکستان: عراق امریکہ کے لئے دوسرا ویت نام بن جائے گا۔ عربوں میں جہاد کا جذبہ پیدا ہو گا، سنی اور شیعہ ایک ہو جائیں گے اور امریکہ اپنے مفادات حاصل نہیں کر سکے گا اور روس کی طرح امریکہ بھی کمزور ہوتا جائے گا۔ جہاد کی وجہ سے عرب ممالک میں اسلامی حکومتیں قائم ہوں گی۔ امریکہ نے خود اپنے لئے گڑھا کھودا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||