| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اسرائیل تعلقات
منگل کی صبح اسرائیلی وزیر زراعت نے کہا کہ انہیں مارچ میں پاکستان آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ تاہم پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نےاس امر کی تردید کی۔ ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے اور دفاتر کھولنے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لئے خفیہ رابطے ہوئے ہیں اور ان کے مابین تعلقات میں گرمجوشی دیکھنے میں آرہی ہے۔ پاکستان ان سلامی ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔اس خبر کی حقیقت کچھ بھی ہو، تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان کے رویئے میں نرمی آئی ہے۔ حال ہی میں ہونے والے ایک فورم میں بھی آراء بھیجنے والوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک اہم معاشی اور فوجی طاقت ہے جس کے ساتھ تعلقات سے بھارت، مصر اور ترکی سمیت کئی ممالک نے فوائد حاصل کئے ہیں۔ کیا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان کو ان عرب ممالک کی طرف سے کوئی فائدہ پہنچا ہے جو اسرائیل کے خلاف ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کرنے چاہئیں؟ کیا ان تعلقات کے ذریعے پاکستان معاشی اور فوجی تجارت جیسے فوائد حاصل کر سکتا ہے؟ آپ کا ردِّ عمل یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ سلویٰ مشتاق، اسلام آباد، پاکستان: اسرائیل ایک حقیقت ہے۔ ہمیں اس کے ساتھ اقتصدادی، ثقافتی اور دو طرفہ تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔ یہ پاکستان کے مفاد میں ہے اس لئے پاکستان کو دیر نہیں کرنی چاہئے۔ فرید اللہ الکوزئی، دوبئی: بہتر ہے کہ پاکستان کی حکومت اللہ پر بھروسہ رکھے اور مسلمانوں میں جو پاکستان کی عزت ہے، اسے ختم نہ ہونے دے۔ مدد اللہ سے مانگنی چاہئے نہ کہ اسرائیل اور امریکہ سے۔ وسیم، پاکپتن، پاکستان: جب فلسطین کے ہمسایہ ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے تو ہم کیوں کسی کی دشمنی میں اپنا نقصان کریں۔ ہمیں ضرور اس پر سوچنا چاہئے۔
سجاد ملک، مظفر گڑھ: میرے خیال میں پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کا خون اسرائیل کے سر ہے۔ محمد شاہد خان لودھی، ملتان: اسرائیل سے بھلا ہماری کیا دشمنی ہے۔ ہمیں اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہئے۔ علی ارباز، اسلام آباد: پاکستان جلد ہی اسرائیل کو تسلیم کر لے گا۔ جو ملک امریکہ کے کہنے پر اپنے قومی ہیروز کو زیرو کر سکتا ہے اور ویسے بھی جب تک جنرل پرویز مشرف موجود ہیں اس وقت تک کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ شیروز خان، اسلام آباد: اگر ہم اسرائیل کو تسلیم کر کے اس کے ساتھ سفارت تعلقات استوار کر لیتے ہیں تو وہ بھارت ہی کی طرح اپنے سفارتخانے کو پاکستان اور اسلام مخالف مقاصد کے لئے استعمال کرے گا۔ اس لئے ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سوچنا بھی نہیں چاہئے۔ مشتاق، اسلام آباد: ہم اسے تسلیم کریں یا نہ کریں اسرائیل پہلے ہی ایک ریاست ہے۔ اس لئے کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے اسرائیل کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ اسرائیل کو ضرور تسلیم کر لے کیونکہ یہ پاکستان کے لئے فائدہ مند ہے۔ جواد صاحبزادہ، پاکستان: اسرائیلی بہرحال موسیٰ کی قوم سے ہیں اس تناظر میں اگر اہم ہندوؤں سے دوستی کر سکتے ہیں تو یہودیوں سے کیوں نہیں کر سکتے۔ ہمیں عربوں کی طرح نہیں سوچنا چاہئے کیونکہ ان کے اپنے علیحدہ مسائل ہیں اور ہماری صورت حال ان سے مختلف ہے اس لئے ہمیں بالغ النظری سے کام لینا چاہئے۔ امین اللہ نورزئی، کوئٹہ: پاکستان کو اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے چاہئیں۔ پاکستان اب ایک جدید ملک ہے اور جنہوں نے اسرائیل سے روابط قائم کئے ہیں ان میں سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ پاکستان کو یہ کام بہت پہلے ہی کر لینا چاہئے تھا۔
علی رضا علوی، اسلام آباد: ہم آج تک دوسروں کی جنگ ہی لڑتے آئے ہیں اور ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ عرب ممالک اندر ہی اندر سب کچھ تسلیم کر چکے ہیں لیکن بظاہر مذمت کرتے رہتے ہیں اور وہ بھی ڈھیلی ڈھالی زبان میں۔ اس لئے ہمیں بھی اب دنیا کو اپنے مفادات کی عینک سے دیکھنا چاہئے۔ ڈاکٹر اقبال چودھری، کراچی یونیورسٹی: میرے خیال میں اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہئے کیونکہ اس سے کافی مالی اور فوجی فائدے حاصل ہونگے اور عرب ممالک کو بھی یہ بات سمجھانے میں آسانی ہوگی کہ وہ ہندوستانیوں سے دوستی کرنا اور ان کو نوکریاں دینا بند کردیں۔ فیض اللہ خان، مانشہرہ، پاکستان: اسرائیل سے ہمارے تعلقات نظریات کی بنیاد پر ہیں چاہے ساری دنیا اسے تسلیم کرلے، ہم تسلیم نہیں کریں گے۔ خالد شاہین، جرمنی: دوستی کسی سے بھی اچھی ہے۔ جتنے دوست زیادہ ہونگے اتنا فائدہ بھی زیادہ ہی ہوگا۔ اسرائیل سے دوستی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ اچھی بات ہے۔ شہزاد، پاکستان: ہمیں اسرائیل کے خلاف جہاد کرنا چاہئے۔ انور کاکڑ، کوئٹہ: ہمیں تمام ممالک سے تعلقات قائم کرنے چاہئیں کیونکہ یہ دنیا ایک عالمی گاؤں میں تبدیل ہورہی ہے۔ علی غیور، کوئٹہ: میں پاک اسرائیل تعلقات کو اچھا سمجھتا ہوں بشرطیکہ اسرائیل فلسطینی عوام کے حقِ مملکت کو قبول کرے۔
اعجاز اعوان، کراچی: اسرائیل مخالف مسلم ملکوں کی طرف سے پاکستان کو آج تک کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ جو لوگ قرآن کے حوالے سے بات کرتے ہیں ان کو نہیں معلوم کہ ہمارے رسول نے بھی یہودیوں سے اصولی طور پر معاہدہ کیا تھا۔ محمد طارق، ہنگو، پاکستان: اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے۔ محمد ملک، امریکہ: اگر اس سے مسلمانوں اور انسانیت کا فائدہ اور امن قائم ہوسکتا ہے اور پاکستان کا کوئی نقصان نہیں ہے تو اسرائیل کو تسلیم کرنے میں مجھے کوئی خرابی نظر نہیں آتی۔ عارف، پشاور: میرے خیال میں اسرائیل واحد ملک ہے جو ہندوستان کو مدد کرکے پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ عامر، پاکستان: اسرائیل کے ساتھ دوستی نہیں ہوسکتی۔ طاہرہ علیم، امریکہ: آج زمانہ بدل چکا ہے۔ اسلام سلامتی اور بھلائی کا دن ہے، منفی سوچ اور دہشت گردی کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ قرآن پر غور اور عمل، دین و دنیا کی تعلیم، ٹیکنالوجی ہنگامی طور پر حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر پاکستان اور دیگر مسلم ممالک دوسرے غیرمسلم ممالک سے تعلقات رکھ سکتے ہیں تو پھر اسرائیل سے کیوں نہیں؟ انڈیا میں بھی ہندو اور مسلم اکٹھا رہتے ہیں، اس سینتالیس کے بٹوارے کے بعد مسلم ملکوں نے انڈیا کو تسلیم کرلیا تو پھر اسرائیل کو کیوں نہیں تسلیم کرسکتے؟ جمال، لوٹن، انگلینڈ: ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہئے۔ یہ ملک کے مفاد میں ہوگا اور انڈیا کے مقابلے میں امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہونگے۔ ڈاکٹر نصیر احمد طاہر، بدوملہی، پاکستان: اسرائیل سے ذرا بچ کے۔
عاطف مرزا، میلبورن: اسرائیل سے دوستی کرنے میں کیا برائی ہے جب ہم نے پہلے ہی امریکہ کو اپنا سب کچھ بنا رکھا ہے؟ مولوی حضرات کو کوئی کام تو ہے نہیں اس لئے وہ اس طرح کے معاملات کے ذریعے اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔ عمر رفیق، کراچی: میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرلے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پاکستان فلسطینیوں کے مسئلے میں اسرائیل کی مدد کرے۔ خرم شہزاد، جرمنی: بات یہ نہیں ہے کہ پاکستان کے اسرائیل سے تعلقات ہونے یا نہ ہونے سے پاکستان کو فائدہ پہنچتا ہے یا نقصان، یا پھر کس اسلامی ملک نے اسے تسلیم کیا اور کون اس کے خلاف ہے اور اس اسرائیل مخالف اسلامی ملک سے پاکستان کو فائدہ ملاہے کہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اگر کوئی اسلامی ملک جہنم میں جانے کی کوشش کرے گا تو ہمیں بھی اس کی تقلید کرنی چاہئے؟ رابعہ ارشد، ناروے: سب سے دوستی ہوسکتی ہے اگر دل چاہئے۔ اقبال مبشر مظفر، جرمنی: اسرائیل سے بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ بات چیت کے ذریعے ہی کسی مسلے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ کسی مسئلے پر اگر دونوں فریق بات نہ کریں گے تو معاملہ زیادہ خراب ہوجائے گا۔
اذکار، کوٹلی، کشمیر، پاکستان: اگر ایسا ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی حکومت غدار ہوگی۔ لیکن دوستی ایک صورت میں ممکن ہے جب اسرائیل فلسطین چھوڑ دے۔ مشتاق احمد الرائی، فیصل آباد: کس مسلم ملک نے اسرائیلیوں کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا ہے؟ مصرف اور فلسطین اس کے بہتر مثال ہیں۔ اسرائیل سے دوستی کے بعد پاکستان اپنی انا اور اپنا اقتدار اعلیٰ کھو بیٹھے گا۔ محمد راوید، ہانگ کانگ: میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے میں پاکستان کو اپنا مفاد سامنے رکھنا چاہئے۔ صرف یہ کہ وہ فلسطین پر قابض ہے، تو یہ ان کا اندرونی مسئلہ ہے۔ جہاں تک یہودی ریاست ہونے کا تعلق ہے تو پاکستان کے دوسرے کتنے ہی ایسے ملکوں سے روابط ہیں۔ بہرحال اگر اس میں پاکستان کا کوئی فائدہ ہے تو اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہئے۔ فدا خان، کراچی: میرے خیال میں اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہونے چاہئیں۔ وہاں مذہب کی جنگ نہیں ہے، بلکہ عرب اور اسرائیل کی بقا کی جنگ ہورہی ہے۔ اور جب عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرسکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں۔ کئی عرب ملکوں نے تو اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے۔ ہارون، پاکستان: ہاں، ہم عرب ممالک کو یہ دکھانے کے لئے اسرائیل سے تعلقات قائم کریں کہ عربوں نے ہندوستانیوں کو کتنی نوکریاں دیں اور ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات بنائے۔ مسعود نبی نور، بورے والا، پاکستان: میرے خیال میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنا پاکستانی عوام کے لئے بہتر نہیں ہوگا۔ میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ہوں۔ ثاقب وسیم، فیصل آباد: اسرائیل اسلام کا دشمن ہے۔ میرے خیال میں یہ اچھا نہیں ہوگا۔ پاکستان اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم نہ کرے۔ محمد حیدر، شیکاگو: ابھی تک پاکستان دنیا کے مسئلوں میں پھنسا ہوا ہے۔ ہمارے مسائل کیا کوئی باہر والا دیکھے گا؟ اسرائیل کو مانیں مگر یہ دیکھ کر کہ ہماری قوم کا کوئی نقصان تو نہیں ہے۔ فیصل علی خان، حیدرآباد: کسی صورت میں بھی نہیں۔ اسرائیل سے تعلقات درست نہیں ہوسکتے۔
علی نقی، آسٹریلیا: ڈِپلومیسی کی روایات کو برقرار رکھنا ضروری ہے، اور وقت کے ساتھ تبدیلی بھی آنی چاہئے۔ آپ اپنے گاؤں کے لوگوں کے بارے میں نہیں بات کررہے ہیں، آپ کروڑوں لوگوں کے بارے میں بات چیت کررہے ہیں۔ صرف انا کی خاطر پاکستان کو لِبیا اور شمالی کوریا کی صف میں کھڑا کردینا ٹھیک نہیں ہے۔ نجمہ سہیل رانا، چین: ہمیں اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہئے۔ افتخار علی، مردان، پاکستان: اگر اسرائیل اور امریکہ فلسطینی مسئلہ حل کرلیں اور مسلمانوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری کرلیں، ۔۔۔۔ عاصم، پشاور: ہمیں اللہ کی ذات سے امید رکھنی چاہئے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یاسر ممتاز، رینالہ خرد، پاکستان: میں تمام اسلامی ملکوں کے حکمرانوں سے صرف اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ سب قرآن کی آیات بھول گئے؟ سلمان خرم، کراچی: جب تک اسرائیل فلسطینی تنازعہ کو حل نہیں کرتا، اس سے تعلقات نہیں قائم کرنے چاہئیں۔ نجم قاضی، کراچی: پاکستان کسی بھی صورت میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے۔
نظیر شیخ، جدہ: جب ہم نے امریکہ کو اجازت دے ہی دیا ہے کہ وہ ہمارے ملک میں ہمارے لوگوں کو گرفتار کرے، ان سے پوچھ گچھ کرے، تو پھر اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کیا شرم ہے؟ محمد اسد بخاری، پاکستان: اسرائیل سے دوستی نہیں کرنی چاہئے۔ قرآن میں صاف صاف لکھا ہے کہ عیسائی اور یہودی کبھی مسلمانوں کا دوست نہیں ہوسکتے۔ عارف محمود انصاری، کراچی: پاکستانی حکمران انگریزوں کے زرخرید غلام بن کررہ گئے ہیں، ان کے لئے اسرائیل اور امریکہ ہی سوپر پاور ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری حکومت کے لوگوں کا ایمان ختم ہوگیا ہے۔ یہ صرف سمجھتے ہیں کہ امریکہ ہی ان کی مدد کرسکتا ہے۔ نسیم، جھنگ: ہر جنرل اسرائیل کا دوست ہے۔ میر خلیل، پشاور: اگر ہم انڈیا سے دوستی کرسکتے ہیں، تو اسرائیل سے کیوں نہیں؟ میرے خیال میں اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انور عزیز، سندھ: مسلمان کی حیثیت سے ہم تسلیم نہیں کرتے کہ اسرائیل نام کا کوئی ملک ہے، یہ فلسطینی علاقے پر قبضہ ہے۔ کوئی اسرائیل سے دوستی نہیں کرسکتا۔ شبیر نظامانی، حیدرآباد، پاکستان: اسرائیل کو تسلیم کرلیا جائے۔ وہاں جمہوریت ہے، فلسطینیوں سے جھگڑا ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ فلسطینی اور اسرائیلی آپس میں بات چیت کررہے ہیں، پاکستان کو بھی اسرائیل سے بات کرنی چاہئے۔ پاکستان کو اپنے مفاد کا خیال رکھنا چاہئے۔ نومان رشدی، کوپن ہاگین: اسرائیل کو کسی بھی طرح تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ منیر احمد سکھانی، راجنپور، پاکستان: پاکستان اسرائیل سے تعلقات قائم نہ کرے۔ اگر جنرل مشرف اور حکومت پاکستان یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا وقت کی ضرورت ہے، تو وہ قومی مفاد میں پرخلوص طور پر سوچ نہیں رہے ہیں۔ بسیط مسعودی، تربت، پاکستان: اسرائیل کو تسلیم کرنا پاکستان کے لئے بہتر ہوگا۔
سجاد رحمان خان، ہری پور، پاکستان: قرآن پاک میں اللہ نے صاف طور پر بتادیا ہے کہ مسلمان اور یہودی دوست نہیں ہوسکتے۔ پھر کیا ہوگیا ہے میرے مسلمان بھائیوں کو؟ کس فائدے کی بات کررہے ہیں؟ جاوید، کراچی: کیا پرویز مشرف اتنے کمزور ہیں کہ ان کو اسرائیل کی مدد کی ضرورت ہے؟ ہمیں اپنے بازوؤں پر بھروسہ ہونا چاہئے۔ عبدالحلیم، والڈورف، جرمنی: اسرائیل ہو یا برطانیہ، امریکہ ہو یا ہندوستان، یہ چاروں زہریلے سانپ ہیں۔ ان چاروں کو چھیڑنا نہیں چاہئے۔ بہتر یہ ہے کہ ہر مسلمان ان چاروں سے ڈرا رہے۔ میں اسرائیل سے تعلقات رکھنے کے حق میں بالکل نہیں ہوں۔ شیر یار خان، سِنگا پور: پاکستان کو فوری طور پر اسرائیل کو تسلیم کرلینا چاہئے، اس لئے نہیں کہ یہ ایک یہودی ملک ہے بلکہ اس لئے کہ فلسطینیوں اور دوسرے مسلم پڑوسیوں نے اسے پہلے ہی تسلیم کرلیا ہے۔ سعید خٹک، نوشہرہ: پاکستان نے کسی عرب ملک سے فائدہ اٹھانے کی خاطر اسرائیل سے تعلقات ختم نہیں کیا ہے۔ بلکہ اسرائیل تو مسلمانوں کو ازلی دشمن ہے۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرکے غلط قدم نہ اٹھائے۔ محمد عامر، نیوجرسی: ہم کب تک مصلحت کی سیاست کرتے رہیں گے؟ پاکستان نے اپنا جو موقف اسرائیل کے بارے میں پچھلی نصف صدی سے رکھا ہوا ہے اس میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں آنی چاہئے۔ بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جس تیزی سے اسرائیل معصوم فلسطینیوں کا خون کی ہولی کھیل رہا ہے، اگر پاکستان عملی طور پر کچھ نہیں کرسکتا تو زبانی طور ر اس کی شدید مزمت جاری رہنی چاہئے۔ عابد عزیز، ملتان: میں اسرائیل کے ساتھ کوئی دوستی نہیں چاہتا ہوں کیونکہ وہ مسلمانوں کے مقاصد کو نقصان پہنچاتا ہے۔
محمد عمر چیمہ، پیرس: کئی دوسرے مسلم ملکوں نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے۔ اس لئے میں بھی یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان بھی ان کی پیروی کرے اور اسرائیل کی تلخ حقیقت کو تسلیم کرے۔ اسرائیل ایک بااثر ملک ہے اور اس کے ساتھ اقتصادی اور اسٹریٹجِک تعلقات قائم کرنا ہمارے لئے فائدہ مند ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||