BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 January, 2004, 17:18 GMT 22:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امتیاز کا خاتمہ یا پھیلاؤ:
امتیاز کا خاتمہ یا پھیلاؤ
امتیاز کا خاتمہ یا پھیلاؤ

امریکہ نے امیگریشن کے نئے قوانین متعارف کروائے ہیں جن کے تحت اب صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ دنیا کے زیادہ تر ممالک کے شہریوں کو چھبیس اکتوبر سے امریکہ میں داخل ہونے کے لئے ویزے حاصل کرنے ہوں گے اور ان کے فنگر پرنٹس لئے جائیں گے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے یہ اقدامات اپنی سلامتی اور تحفظ کے پیشِ نظر کئے ہیں۔ بظاہر اس سے یوں لگتا ہے کہ ان نئے اقدامات کے تحت اب صرف مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوگا جن کے لئے یہ تمام قوانین پہلے سے لاگو کر دیئے گئے تھے۔ تاہم کئی دوسرے ممالک نے ’امتیازی سلوک‘ کا الزام لگایا ہے۔ یہاں تک کہ برازیل نے اس کے جواب میں اپنے ہوائی اڈوں پر اترنےوالے تمام امریکی شہریوں کے لئے فنگر پرنٹس لازمی قرار دے دیئے ہیں۔

کیا ان نئے قوانین سے امریکی سلامتی اور تحفظ کو فائدہ پہنچے گا؟ کیا اس سے مسلمانوں میں یہ احساس کم کرنے میں مدد ملے گی کہ امریکہ میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے؟ کیا برازیل کی طرف سے کئے جانے والے جوابی اقدامات درست ہیں یا اس کے ذریعے دنیا بھر میں سیاحوں اور کام کے لئے سفر کرنے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


اورنگ زیب خان، متحدہ عرب امارات: میں امریکہ گیا تھا۔ انسان کو انسان کی نظر سے دیکھتے تھے وہ لوگ۔ لیکن جب کچھ لوگ ایسی حرکتیں کریں کہ سب کے لئے زندگی اجیرن کردیں تو کیا ہوگا؟ وہ بھی تو لوگ ہیں جن کے اپنے مر گئے۔۔۔ بہت سارے اسلامی ممالک جو امتیازی سلوک کرتے ہیں اپنے مسلمانوں کے ساتھ، ان کے کیا کہیں گے؟ امریکہ والے تو پھر بھی حقوق دیتے ہیں، جو حقوق نہیں دیتے ان کے بارے میں بھی تو کچھ لکھئے۔۔۔

محمد صلاح الدین ایوبی، پشاور: میرے خیال سے امریکہ نے بہت ہی اچھا قدم اٹھایا ہے جس سے مسلمانوں کو ایک سبق ملے گا جو اپنے ملکوں میں نہیں رہنا چاہتے۔ وہ خود اپنے ملکوں میں کام کرکے اسے امریکہ کی طرح کیوں نہیں بناتے؟ یہ لوگ اپنے ملکوں میں چھوٹے کام کرنے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور بیرون ملک جانے کے بعد جھاڑو لگانے اور دیگر چھوٹے کام کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔

زاہد ممتاز، پاکستان: میرے خیال میں ہر ملک کو اپنی سیکیورٹی کے لئے جو کچھ بھی ہو کرنا چاہئے اور امریکہ کا یہ قدم بھی اپنی سیکیورٹی کے لئے جائز اور اچھا ہے۔ لیکن اپنی سیکیورٹی سے زیادہ مجھے جو بات غالب نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ امریکیوں کو یہ احساس دلانا کہ وہ دنیا کی باقی قوموں سے کوئی الگ اور برتر قوم ہیں جن کو دوسرے لوگوں سے خطرہ ہے۔

عبدالرحمان، ابوظہبی: یہ قانون صرف آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہے۔ اس کا نشانہ تو صرف اور صرف مسلم ہونگے۔

میرے مسلم بھائیوں کا سلوک

 امتیازی سلوک کے باوجود بھی مجھے امریکہ میں رہنا پسند ہے کیونکہ میرے ہی ملک میں، میرے مسلم بھائیوں نے میرے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔

لیاقت

لیاقت، نیویارک: تمام امتیازی سلوک کے باوجود میں اب بھی امریکہ میں رہنا پسند کرتا ہوں۔ میرے ساتھ، میرے ملک میں ہی، میرے ہی مسلم بھائیوں نے میرے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔

جاوید، ہیوسٹن: اب وقت آ گیا ہے کہ امریکیوں کو ملک سے واپس جانے والوں کا ریکارڈ رکھنے کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے اور اس پر اسی طرح عمل درآمد کرنا چاہئے جیسے باقی دنیا میں کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر خورشید عالم ایاز، گجرات: تیسری دنیا خصوصاً مسلمان ممالک کو برازیل کی پیروی کرنی چاہئے۔

مزمل مفتی، جنیوٹ: میرے خیال میں دنیا نے امریکہ کے امتیازی اقدامات کے خلاف رد عمل کا اظہار کیا ہے اور جہاں تک برازیل کا تعلق ہے تو اسے یہ سب کرنے کا پورا حق ہے کیونکہ امریکہ برازیل کے باشندوں کے ساتھ بھی یہی کر رہا ہے۔

امریکہ نے ٹھیک کیا

 امریکہ نے صحیح قانون بنایا ہے کیونکہ ہر ملک کو اپنی سلامتی کا حق حاصل ہے۔

شکیل

شکیل، کراچی: امریکہ نے بالکل صحیح قانون وضع کیا ہے کیونکہ ہر ملک کو اپنی سلامتی کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔

مطلوب علوی، برامپٹن، کینیڈا: اسلامی ممالک کو برازیل کی پیروی کرنا چاہئے۔ جمہوریت کے دعوے دار ملک میں ہی جمہوریت نہیں ہے۔

جان محمد بروہی، بلوچستان: اس قانون سے کوئی فائدہ بھی نہیں ہوگا امریکہ کو۔ اور مسلمانوں کو تو ظاہر ہے نقصان ہوگا۔ کیونکہ دوسرے ملکوں میں بھی اس پر پیروی کی جانی چاہئے۔

ابومحسن میاں، سرگودھا: برازیل نے اچھا کیا ہے۔

محمد اکرم ناصر، ابوظہبی: امریکہ کے نئے امیگریشن قوانین کے بارے میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اسلامی ممالک بھی ایسا ہی کریں۔

صرف مسلمانوں کے لئے

 یہ سب قوانین صرف اور صرف مسلمانوں کو ہی آئینہ دکھانے کے لئے بنائے جا رہے ہیں۔

شاہدہ اکرم

شاہدہ اکرم، ابوظہبی: میرا خیال تو یہ ہے کہ یہ سب قوانین صرف اور صرف مسلم کمیونیٹی کو ہی آئینہ دکھانے کو بنائے جارہے ہیں۔

محمد عارف، پشاور: میں سمجھتا ہوں کہ اگر امریکہ اپنے لئے سیکیورٹی چاہتا ہے تو ہمیں بھی ایسا ہی سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بھی برازیل کی طرح اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اسد حسن، اسلام آباد: ان اقدامات سے یقینا امریکہ کی اندرونی سلامتی پر مثبت اثر پڑے گا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی بھی نفی ہوگی۔ یہ قدم اچھا ہے لیکن مسلم کمیونیٹی امریکہ کے حالیہ رویے سے اسے کچھ زیادہ قابل اعتبار نہیں سمجھتی ہے۔

نامعلوم: امریکہ کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لئے کچھ بھی کرے۔ کم سے کم وہ اپنے عوام کی حفاظت تو کرتا ہے۔ مسلم ممالک اپنے عوام کے لئے کیا کرتے ہیں؟

بختیار علی ڈوگر، شیخپورہ، پاکستان: یہ قوانین امتیازی ہیں۔

محمد فاروق، لیورپول، برطانیہ: میرے خیال میں امریکہ کو یہ مکمل اختیار ہے کہ وہ اپنے تحفظ کے لئے تمام اقدامات کرے۔ اگر کوئی اور ملک بھی انہی حالات میں ہے تو اسے بھی ایسے ہی قوانین بنانا چاہئے۔

نیک بھانگیر، نواب شاہ: اگر کوئی میرے گھر میں چوری کرنے آتا ہے تو کیا مجھے اس کے خلاف اقدامات نہیں کرنا چاہئے؟ دہشت گردی کے خلاف امریکہ نے یہ صحیح قدم اٹھایا ہے۔

ابو انتظام سید، ملتان: یہ جو نئے قوانین امریکہ نے متعارف کروائے ہیں ان کی وجہ سے نہ تو امریکہ کو کوئی فائدہ ہوگا اور نہ ہی کسی مسافر کو کوئی مشکل۔

ہارون رشید، سیالکوٹ: کسی بھی ملک کو اپنے تحفظ کے لئے کوئی بھی اقدام کرنے کا پورا پورا حق ہے۔

یہ قانون بہتر ہے

 اس قانون سے پہلے امریکہ میں داخل ہونے اور باہر جانے کے لئے صرف پاکستانیوں کو رجسٹر کرنا پڑتا تھا، اور ایسا ہر سال کرنا پڑتا تھا۔ لیکن اب ایسا ہر سال نہیں کرنا پڑے گا۔ اور اب صرف پاکستانیوں کو ہی ایسا نہیں کرنا ہے۔

فیصل رفیق، میامی، امریکہ

فیصل رفیق، میامی، امریکہ: بہت سے لوگ جنہوں نے اس صفحہ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، انہیں معلوم نہیں ہے کہ یہ قانون کیا ہے۔ اس قانون سے پہلے امریکہ میں داخل ہونے اور باہر جانے کے لئے صرف پاکستانیوں کو رجسٹر کرنا پڑتا تھا، اور ایسا ہر سال کرنا پڑتا تھا۔ لیکن اب ایسا ہر سال نہیں کرنا پڑے گا۔ اور اب صرف پاکستانیوں کو ہی ایسا نہیں کرنا ہے، بلکہ دوسرے ملکوں کے مسافروں کو بھی ایسا کرنا پڑے گا۔ اب صرف ایک بار رجسٹر کرنا پڑے گا۔ میں اب خوش ہوں کہ مجھے ہر سال رجسٹر نہیں کرنا پڑے گا۔

علی رضا علوی، اسلام آباد: برازیل کی پیروی کرتے ہوئے دنیا کے تمام ملکوں کو امریکی شہریوں کے لئے انہی قوانین کا اعلان کرنا چاہئے۔ مجھے تو برازیل کے اس قدم سے یوں لگا جیسے دنیا میں صرف ایک ہی غیرت مند ملک ہے اور وہ ہے برازیل۔ یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔

عباس علی خان ہمیہ، ہنزہ: میری رائے کے مطابق امریکہ کے یہ نئے قوانین مسلم اقوام کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں، بالخصوص پاکستانی لوگوں کے لئے کہ جو ہر وقت امریکہ جانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ان کو یہ جان لینا چاہئے کہ جب یہ لوگ امریکہ کے ایئرپورٹ پر پہنچ جاتے ہیں تو ان کے پیچھے کتا دوڑا دیا جاتا ہے۔

محمد شبیر، اسلام آباد: اس قانون سے صرف مسلمانوں کے لئے پریشانیاں ہوں گی۔

عبدالحلیم، جرمنی: بی بی سی کا بہت بہت شکریہ۔ پہلے میرا من کرتا تھا امریکہ جانے کو۔ اب میں نے امریکہ جانے کا ارادہ ترک کردیا ہے۔

اسلم شاہد، سویڈین: پاکستان بھی یہی قوانین نافذ کرے۔ پاکستان آنے والے ہر امریکی کی فنگرپرنٹ لی جائے۔

راجہ یاسر راجپوت، بارسلونا: امریکہ کی یہ نئی پالیسیاں انسانیت کے لئے خطرہ ثابت ہوں گی۔ امریکہ ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف ہے۔ امریکی حکومت کے دل میں میں نے کبھی مسلمانوں کے لئے محبت کی جگہ نہیں دیکھی ہے۔ دنیا میں ہر ملک تحفظ چاہتا ہے لیکن یہ طریقہ صحیح نہیں ہے۔

ناصر محمود، چکوال: اگر امریکہ کے اقدام سے سیاحت کو کوئی نقصان نہیں ہوا تو برازیل کے اقدامات سے بھی نہیں ہوگا۔

یاسر نقوی، انگلینڈ: جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ برازیل کہنے کو تو ایک بہت چھوٹا ملک ہے، لیکن یہ اقدام بہت بڑا ہے۔ اور مسلمانوں کو تو امریکہ نے بھی اپنے برابر آنے نہیں دیا تو یہ سوچنا غلط ہے کہ امریکہ مسلمانوں کے ساتھ کبھی مخلص تھا۔

نعیم الرحمان، دوبئی: یہ وہ قوانین ہیں جو انسان کو انسان سے دور کرتے ہیں۔ ایسے ہی قوانین انسان کو غلط سمت میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں جس سے لوگوں میں نفرتیں پھیلتی ہیں۔ اگر یہ قوانین امریکہ کے تحفظ کے لئے ضروری ہیں تو دوسرے ممالک کے تحفظ کے لئے بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ کیا ان قوانین کو لاگو کرنے سے پہلے امریکہ یہ یقینی بنانے کو تیار ہے کہ ان کے بعد اسے دو تین لوگوں کو پکڑنے کے لئے ملک میں اپنی فوجیں نہ بھیجنا پڑیں اور بے گناہ لوگوں کی جانیں نہ لینا پڑیں۔

زاہد غنی، سیالکوٹ، پاکستان: اس سے دیگر ممالک میں رد عمل پیدا ہوگا۔ صرف امریکہ کی ہی نہیں، سب ممالک کی سلامتی ایک اہم سوال ہے۔ دوسرے ممالک کو بھی پورا پورا حق ہے کہ وہ بھی امریکہ اور دیگر ممالک کے شہریوں ایسی ہی پابندیاں لگائیں۔ اس سے امریکہ کے خلاف نفرتیں اور بڑھیں گی اور امریکہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے گا جس کے لئے یہ پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔

سپر پاور کی ذمہ داریاں

 امریکہ کو بھی دوسروں کے تحفظات کا خیال رکھنا ہوگا کیونکہ اب وہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور اس حوالے سے اس پر بڑی زمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

محمد عامر خان، کراچی، پاکستان

محمد عامر خان، کراچی، پاکستان: ہر ملک کے اپنے تحفظات ہوتے ہیں۔ ہم کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے کہ امریکہ اپنی سرحدوں کو کس طرح محفوظ کر رہا ہے۔ یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے لیکن امریکہ کو بھی دوسروں کے تحفظات کا خیال رکھنا ہوگا کیونکہ اب وہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور اس حوالے سے اس پر بڑی زمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

محمد جمن، میر پور خاص، پاکستان: اب تو پاکستان سے امریکہ جانے کا سوچنا بھی بے کار ہے۔ امریکہ دوسرے ممالک کے ساتھ اور وہ امریکہ کے ساتھ کچھ بھی کرتے رہیں، مسلمانوں کا اعتماد اب امریکہ پر بحال نہیں ہو سکتا۔

اختر نواز، لاہور، پاکستان: کسی ایسے ملک سے آپ برابری اور انصاف کی توقع کیسے کرسکتے ہیں جہاں آج تک کسی سفید فام عورت تک کو صدر نہیں بننے دیا گیا۔ میرا تو خیال ہے کہ امریکہ دراصل بدترین نسل پرستانہ معاشروں میں سے ایک ہے۔

رابعہ نذیر، ناروے: امریکہ اپنے آپ کو دنیا بھر کا بادشاہ سمجھتا ہے اس لئے اسے انسانوں کی پریشانی کی کوئی پرواہ نہیں۔ مگر اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے جو صرف ہم جانتے ہیں۔

حنیف اسلام، لاہور، پاکستان جہاں تک بات ہے امتیازی سلوک کی اور وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ تو میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہے۔ ضرورت ہے بس اپنے ارد گرد نظر دوڑانے کی۔ اسلام تو رواداری کا مذہب ہے، غیر مسلموں سے بھی ویسے ہی سلوک کی ہدایت کرتا ہے جیسا سلوک اپنے بھائی سے کیا جاتا ہے۔ کیا ہمارے معاشرے میں تنگ نظری نہیں؟ کیا ہم غیر مسلموں کے ساتھ اچھوت جیسا سلوک نہیں کرتے؟ امریکہ میں جو ہوا وہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا۔ ہر ملک کو اپنے تحفظ و سلامتی کے بارے میں سوچنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی آدمی کو اپنے گھر کے بارے میں۔ ہمارے گھر میں چوری ہو جائے یا ڈاکہ پڑ جائے، اچانک ہی ہماری حفاظتی تدابیر بدل جاتی ہیں، ہمیں ہر ملنے والا چور یا ڈاکو ہی دکھائی دینے لگتا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس میں امتیاز برتنے جیسی کوئی بات ہے۔ ہم لوگ امریکہ کو برا بھی کہتے ہیں اور دوسرا آدمی امریکہ جانا بھی چاہتا ہے۔ یہ کیا بات ہوئی۔

مسلمانوں کومطمئن ہو جانا چاہئے

 میرے خیال میں مسلمانوں کو اب مطمئن ہو جانا چاہئے کہ امیگریشن کے قوانین میں ان کے لئے کوئی خاص تخصیص نہیں رہی۔

سادیہ، اسلام آباد، پاکستان

سادیہ، اسلام آباد، پاکستان: ہر ملک کو اپنی ضرورت کے مطابق پالیسی بنانے کا حق حاصل ہے البتہ کسی بھی ملک میں کسی بھی ایسے اقدام کو اچھا قرار نہیں دیا جا سکتا جو کسی بھی گروہ کے ساتھ امتیازی سلوک کا باعث بنے۔ میرے خیال میں مسلمانوں کو اب مطمئن ہو جانا چاہئے کہ امیگریشن کے قوانین میں ان کے لئے کوئی خاص تخصیص نہیں رہی۔ ان اقدامات سے یقیناً امریکہ کی اندرونی سلامتی کو فائدہ پہنچے گا۔

ثاقب احمد، مونٹریال، کینیڈا: ایسے امتیازی سلوک کے خاتمے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہر ملک امریکی شہریوں کے لئے ایسے ہی امیگریشن قوانین کا نفاذ کرے جیسے امریکہ نے کئے ہیں۔

ضمیر لک، کراچی، پاکستان: اس سے مزید فاصلے بڑھیں گے۔

اشرف چوہدری، کینیڈا: سفیدفام لوگ ہمیشہ سے امتیاز برتتے آئے ہیں اور یہ نئے قوانین جلتی کو آگ دکھانے کے مترادف ہیں۔

ڈاکٹر نصیر احمد، بدوملہی، پاکستان: اب تو کبھی سوچنا بھی نہیں چاہئے کہ امریکہ مسلمانوں سے کبھی اچھا سلوک کر سکتا ہے۔ یہ سب انتخابات کی چالیں ہیں۔ مسلمان اور بش وہ تلواریں ہیں جو ایک میان میں کبھی نہیں رہ سکتیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد