| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں نئے سکیورٹی قوانین
امریکہ میں نئے سکیورٹی قوانین کے تحت اب غیر ملکیوں کی تصاویر اور انگلیوں کے نشانات کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔ یہ نیا طریقہ کار امریکہ کے اس پرانے رجسٹریشن پروگرام کی جگہ لے گا جس کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ اس کے ذریعے مسلمانوں اور مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے افراد کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیا نظام بھی پرانے طریقہ کار کی نسبت کچھ کم برا نہیں ہے بلکہ اس میں بہت سی خامیاں موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں عام لوگوں کو مجرموں کی طرح کا سلوک سہنا پرتا ہے۔ یہ نیا قانون زیادہ تر یورپی شہریوں پر لاگو نہیں ہوتا۔ امریکہ آنے والے غیر ملکیوں کی تصاویر اور انگلیوں کے نشانات کو کمپیوٹر ریکارڈز میں رکھا جائے گا تاکہ حکام جب چاہیں ان معلومات تک رسائی حاصل کرسکیں۔ زیادہ تر یورپی اور برطانوی افراد ایسے ویزے پر امریکہ آتے ہیں جس کے تحت انہیں سکیورٹی چیک کے اس عمل سے نہیں گزرنا پڑے گا۔ امریکہ کا امیگریشن کا عملہ پہلے ہی مسافروں کی جانچ پڑتال میں کافی وقت صرف کرتا ہے اور اب اس نئے قانون سے خدشہ ہے کہ مسافروں کو ایئر پورٹ سے نکلنے سے قبل مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ تاہم اس پروگرام کے انچارج اسا ہچیسن کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔’ہم ہر ممکن کوشش کررہے ہیں کہ مسافروں کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے‘۔ نئے قانون کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ لوگوں کے شہری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ امریکہ میں نئی پابندیوں کے اطلاق پر رد عمل کے طور پر برازیل نے اپنے ملک میں داخل ہونے والے امریکیوں کی تصاویر اور انگلیوں کے نشانات کے ریکارڈ رکھنے شروع کر دیئے ہیں۔ برازیل کے حکام کا کہنا ہے کہ اس کے شہریوں کو امریکہ میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے ۔ انہوں نے امریکی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ برازیل کو ان ممالک کی فہرست سے خارج کریں جن سے سکیورٹی کے خدشات لاحق ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||