BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 12 January, 2004, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل اور شام کی دوستی
شام کے صدر بشر الاسد
شام کے صدر بشر الاسد

اسرائیل کے صدر موشے کاٹساؤ نے شام کے صدر بشر الاسد کو امن مذاکرات کے لئے یروشلم آنے کی دعوت دی ہے۔ صدر کاٹساؤ کی اس دعوت کا اعلان اسرائیلی وزیر اعظم شیروں کے اس بیان کے ایک روز بعد ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ شام کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ شام ان گروہوں کی مبینہ مدد ختم کردے جو اسرائیل کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں۔

اپنے ردعمل میں شام نے کہا ہے کہ امن مذاکرات کے لئے اسرائیلی پیش کش سنجیدہ نہیں ہے۔ تاہم گزشتہ ماہ شام کے صدر البشر الاسد نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔

اسرائیل اور شام کے درمیان امن مذاکرات چار برس پہلے منقطع ہو گئے تھے جب گولان پہاڑی پر کوئی فیصلہ نہ ہو سکا تھا۔ گولان پہاڑی پر اب بھی اسرائیل کا قبضہ ہے۔ حال ہی میں وزیرآعظم شیرون نے کہا تھا کہ اسرائیل گولان کی پہاڑیوں میں مزید یہودی بستیاں بسائے گا۔ گولان کی پہاڑی پر قبضے کے بعد اسرائیل اور شام حالتِ جنگ میں ہیں۔

آپ کے خیال میں کیا اسرائیل اور شام دوست بن سکتے ہیں؟ دونوں ممالک کو خطے میں امن کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


یحییٰ انصاری، شکاگو، امریکہ: ایسا کیوں ہے کہ شام کے سابق صدر کا بیٹا ہی ملک کا صدر بنا۔ شام صدرف ایک قوم پرست عرب ریاست ہے جیسے کہ اسرائیل ایک یہودی ریاست ہے۔ ہمدردی صرف مسلمانوں سے ہونی چاہئے، قوم پرستوں سے نہیں۔ ہم پاکستانوں کو چاہئے کہ عقل کے ناخن لیں اور عربوں کی اندھی تقلید کرنا بند کریں۔

راؤ وسیم، پاک پتن، پاکستان: اسرائیل ایک ظالم ملک ہے۔ اس پر اعتبار کیا ہی نہیں جا سکتا۔

عدنان بابر ملک، سپین: ہم تو اسرائیل کو مانتے ہی نہیں، یہ کیسے کہہ دیں کہ وہ شام کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرے گا۔

عامر خان، جاپان: ہمیں حقیقت کو قبول کرکے اسرائیل کے وجود کو مان لینا چاہئے۔ اس کے ساتھ اچھے تعلقات وقت کی ضرورت ہے۔

عبدالرحیم احمد، واٹرلو، کینیڈا: جب ایب خان کا اقتدار دھندلا ہو چلا تھا تو انہوں نے لکہا تھا ’آقا نہیں، دوست‘۔ تاہم ان کے آقاوں نے نئے پالتو ڈھونڈھ لئے۔ شام اس وقت تک کچھ حاصل نہیں کر پائے گا جب تک اس کی قیادت ذاتی حرص اور غرور کی غلام رہے گی اور حقیقی مسائل کی طرف توجہ نہیں دے گی۔

ذکیہ خاتون، جہلم، پاکستان: نہیں یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور دشمن ہی رہیں گے۔ اسرائیل کو عرب علاقے واپس کرنا ہوں گے ورنہ اسے تباہ کر دینا چاہئے۔

ظفر نیازی، مینیٹوبہ، کینیڈا: دنیا بھر میں امن قائم کیا جا رہا ہے اس لئے اسرائیل اور شام کے درمیان بھی امن قائم ہونا چاہئے۔ انہیں اس کے لئے مذاکرات کا آغاز کرنا چاہئے اور اس سے ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے ’نقشہ راہ‘ پر عمل درآمد کے لئے بہتر فضا بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

علی رضا علوی، اسلام آباد، پاکستان: بالکل دوست بن سکتے ہیں جیسے بھارت اور پاکستان۔ کشمیر بھارت کے پاس رہے اور کنٹرول لائن مستقل سرحد بن جائے۔ اسی طرح شام بھی گولان اسرائیل کے لئے چھوڑ دے تو دونوں دوست بن سکتے ہیں۔

سعید خٹک، پاکستان: شام چاہے یا ناں لیکن اگر انکل سام چاہے تو شام کو دوستی کرنی ہی پڑے گی۔

عمران زیدی، واشنگٹن، پاکستان: کیوں نہیں، ان کی دوستی عالمی امن کے لئے اہم ہے۔ ایک دوست کی رائے ہے کہ مسلمان ممالک اسرائیل کے دوست نہیں ہو سکتے۔ تو کیا جن مسلمان ممالک کے اسرائیل سے تعلقات ہیں وہ غیر مسلم ہیں؟

عبدا لغفور، ٹورنٹو، پاکستان:میرا خیال ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ہم آنکھیں کھولیں اور اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ اسرائیل دنیا کے نقشے پر ایک ملک ہے جس کی جدید ترین معیشت ایک سو سترہ ارب ڈالر سالانہ کی ہے۔ شام اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات بہت اہم ہیں۔ اگرچہہ سے اسرائیل سے زیادہ توقعات وابستہ کرنا عبث ہے لیکن کوشش ضرور کرنی چاہئے۔

اکبر علی، حیدرآباد، سندھ: پہلے تو ہم اس بات پر یقین نہیں کرتے کہ اس کرہ ارض پر اسرائیل نام کا کوئی ملک بھی ہے۔

نامعلوم: نہیں، ایک مسلم اور ایک غیرمسلم دوست نہیں بن سکتے۔

ملک نور خان، پاکستان: اسرائیل پوری مسلم دنیا کا دشمن ہے۔ ایک مسلم ملک ایک دہشت گرد ریاست کا دوست کیسے بن سکتا ہے؟ اسرائیلی روزانہ فلسطینیوں کا قتل کیوں کررہا ہے؟

منیر حسن، شیکاگو: اسرائیل اور شام کے درمیان بہتر تعلقات کا تقاضہ ہے، ایسا ہونا صرف ممکن ہی نہیں بلکہ انتہائی ضروری ہے۔

گل حیدر، اٹک کینٹ: اگر مذاکرات انصاف کو سامنے رکھ کر کیا جائے تو کامیابی ممکن ہے۔

وفا ملک، متحدہ عرب امارات: ایک مسلم یہودی کا دوست نہیں ہوسکتا۔

رابعہ ارشد، ناروے: بیشک جب انڈیا پاکستان دوستی ہوسکتی ہے، بش اور تارکین وطن کی دوستی ہوسکتی ہے، تو اسرائیل اور شام کی بھی دوستی ہی ضرورت ہے۔

غلام نبی، جہلم: نہیں، شام اور اسرائیل ایک دوسرے کے دوست نہیں بن سکتے۔ امن کے لئے اسرائیل کو تمام عرب علاقے چھوڑ دینا چاہئے۔ اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہے۔

پرویز بلوچ: اگر اسرائیل امن چاہتا ہے تو اسے سارے مقبوضہ علاقے خالی کرنا چاہئے۔

عاصم عبداللہ، میانوالی: اسرائیل صرف موقع پرست اور دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ملک ہے۔ اس سے کوئی توقع نہیں کی جانی چاہئے۔

جنان موسیٰ زئی، کابل: شام مشرق وسطی کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اور اگر وہ چاہے تو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوستی کرکے اس خطے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور ساتھ ہی ایران کو بھی مثبت سمت میں لےجاسکتا ہے۔

فہد، کراچی: اسرائیل نابلس، تلکرم اور غرب اردن میں اپنی جارحانہ کارروائیوں سے عالمی برادری کی نظریں ہٹانے کے لئے ایسے کارڈ پھینک رہا ہے۔

سعید احمد چِشتی، پاک پتن: اصل میں امریکہ جو کچھ کررہا ہے وہ سب کچھ اسرائیل ہی تو کروا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں مسلم ممالک کی جو حالات ہے اس کے مطابق شام کو بالآخر اسرائیلی ایجنڈے کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔

ضیاء یوسف زئی، پشاور: کیا آگ اور پانی مل سکتے ہیں؟

عبدالعلیم، ناگویا، جاپان: اسرائیل کا کردار ایک غاصب کا کردار ہے، چاہے وہ شام کا معاملہ ہو یا فلسطینیوں کا یا انسانی حقوق کا۔ لیکن شام بھی آخر کب تک مجاہدوں یا دہشت گردوں کی مدد کرتا رہے گا؟

رابرٹ، برطانیہ: مشرق وسطی میں شام کو ایک اہم کردار حاصل ہے اور اس کی نفی نہیں کی جانی چاہئے۔

نیک محمد بھانگر، نواب شاہ: مجھے امید ہے کہ امریکہ شام اور اسرائیل کو تحفط دے تو دونوں لڑیں گے نہیں، اور بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ممکن ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد