حماس رہنما رنتیسی کی ہلاکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلامی شدت پسند تنظیم حماس کے سربراہ عبدالعزیز رنتیسی کو اسرائیلی ہیلی کاپٹرو ں کے ایک میزائل حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ فلسطینیوں سمیت عالمی رہنماؤں نے اسرائیلی حملے کی شدید مزمت کی ہے۔ امریکہ نے ابھی تک اس حملے کی مذمت نہیں کی ہے تاہم وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل اس کے ردِ عمل کے لئے تیار رہے۔ ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کو دہشت گرد حملوں سے بچنے کے لئے اپنا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اسرائیلی حملے میں ڈاکٹر رنتیسی کی ہلاکت پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں محمد تیمور، اسلام آباد: ظلم، جبر اور استحصال انقلاب کی نشو نما کرتے ہیں۔جب کسی ایک فرد یا قوم کو کسی تیسری قوم یا ملک سے مدد نہیں ملتی تو پھر صرف قربانی کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ حمس بنیادی طور پر اسرائیلی جبر کا ردِّعمل ہے۔ سرفراز احمد، پاکستان: یہ حماس کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے اور اب فلسطین میں سینکڑوں عبدالعزیز پیدا ہوں گے۔ محمد حنیف، اسلام آباد: اسرائیل کی کاروائی دنیا کو عالمِ جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ابو عبداللہ لکھوی، نائجیریا: کیا اسرائیل کی طرف سے مسلمان رہنماؤں کو نشانہ بنانے پر مسلمانوں کو امریکہ کی مذمت کی ضرورت ہے؟ کیا امریکہ ہی نے ان ہلاکتوں کی منظوری نہیں دی؟ عاشق، پاکستان: یہ اسرائیل کے ظلم کی انتہا ہے۔ عمران احمد اصلاحی اعظمی، بھارت: اسرایئلی حملہ قابلِ مذمت ہے کیونکہ یہ خود کش حملوں کا حل نہیں۔ اگر اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو قتل کر کے فلسطینی جدوجہد کو ختم کر سکتا ہے تو وہ غلطی پر ہے۔ عنایت خان، چارسدہ: عبدالعزیز رنتیسی ایک شہید ہیں اور ان کی شہادت فلسطین کی آزادی کا راستہ کھولے گی۔ راضی رحمان، امریکہ: عرب رہنما امریکہ کے غلام ہیں لیکن اب عرب عوام کو متحد ہونا پڑے گا ورنہ اسرائیل انہیں بھی عراق کی طرح کھا جائے گا۔
اکرام خان، اسلام آباد: میں امریکہ اور اسرائیل کی مسلمانوں کی طرف پالیسی کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ نور الاسلام، ملائشیا: اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے، اس کی بنیاد طاقت اور ٹیکنالوجی ہے جو مسلمانوں کے پاس نہیں۔ مسلمانوں کو ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کام کرنا چاہیے۔ خالد شمیم، کینیڈا: میرے خیال میں یہ اسرائیل اور فلسطین امن کے لئے بہت برا ہوا ہے۔ اب وقت ہے کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے تاکہ یہ قتل و غارت بند ہو۔ فہد خان، بنوں: حماس کے رہنما کا قتل بین الااقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور ریاستی دہشت گردی کی بد ترین مثال ہے۔ اشرف شاہ، کینیڈا: اسرائیل کا یہ اقدام بظاہر تو دہشت گردی کے خلاف ہے لیکن در حقیقت ایسے اقدام دہشت گردی ختم نہیں کرتے بلکہ بہت سے لوگوں کو دہشت گردی کی طرف مائل کرتے ہیں۔ صبا احمد، کینیڈا: فلسطینیوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جو جہاد وہ کر رہے ہیں، ایسے جہاد کااسلام میں کوئی تصور نہیں کیونکہ اسلام کب یہ کہتا ہے کہ کسی بےگناہ کی جان لے لو۔ فرخ خان، لاہور: میرے خیال میں ہمیں اس واقعہ کی بھر پور ’مذمت‘ کرنی چاہیے۔۔۔۔۔ جس طرح ’بہادر‘ مسلمان پہلے بھی کرتے آئے ہیں۔ احسان اللہ، کینیڈا: یہ اسرائیل کا انتہائی بزدلانہ اقدام ہے۔ ایک ریاست بین الاقوامی رہنماؤں پر کیسے حملہ کر سکتی ہے اور اقوام متحدہ بھی اسکا نوٹس نہیں لیتی۔ فرمان چوہدری، لاہور: اگر فلسطینی اپنا دفاع کریں تو وہ دہشتگردی اور اگر یہ کام اسرائیل کرے تو یہ دفاع کا حق کہلاتا ہے۔ یہ دنیا کا قانون نہیں بلکہ جنگل کا قانون ہے۔
شاہد نواز، پاکستان: حماس کے رہنما کا قتل کھلی دہشت گردی ہے جو قابل ِ مذمت ہے۔ اعظم شہاب، بھارت: وقت ہر ظلم تمہارا تمہیں لوٹا دے گا، وقت کے پاس کہاں رحم و کرم ہوتا ہے۔ محمد معین، لاہور: دنیا امریکہ کی جنگی پالیسی کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ دنیا کے مسلمانوں کو متحد ہو جانا چاہیے۔ اشفاق نظیر، جرمنی: امریکہ اور اسرائیل آج طاقت کے نشے میں اندھے ہوچکے ہیں۔ ان کے نزدیک قانون محض مزاق ہے، وہ دونوں جو چاہتے ہیں دنیا میں کررہے ہیں۔ اگر عراق خود اپنی آبادی پر بمباری کرے تو نامنظور، مگر جو کچھ فلوجہ میں ہورہا ہے وہ سب کچھ درست قرار دیا جاتا ہے۔ شیخ خرم تنویر، جنوبی کوریا: ہر دور میں ایسی طاقتیں ظلم کرتی ہیں۔ شیخ یاسین اور ڈاکٹر رنتیسی کا قتل بھی ظلم اور کھلی دہشت گردی کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ محمد اختر، کراچی: اسرائیل کو پورا حق ہے اپنے دفاع کا۔ حماس والے جب اسرائیل کے اندر بسوں اور کلبوں میں خودکش حملے کرتے ہیں تو مسلم ممالک اس کو دہشت گرد کیوں نہیں کہتے؟ خالد محمود، پاکستان: میرے خیال میں اسرائیل نے خود کو مطلوب دہشت گرد ثابت کردیا ہے۔ بابر کاظمی، لاہور: ہمارے لئے اور ان کے لئے ہمارا رویہ مختلف کیوں ہے؟ چلیں ہم حماس میں بھی وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تلاش کریں۔ فاضلی منان خان، اسلام آباد: میں اسرائیل کے اس غیرقانونی قتل کی سخت مزمت کرتا ہوں۔ ریاستی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پوری دنیا کوشش کرے۔ رحمت اللہ فرہاد، ہنگو، پاکستان: میں اس کھلے عام ریاستی دہشت گردی کی مزمت کرتا ہوں۔ امریکہ اسے اسرائیل کے دفاع کا ایک قدم بتاتا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ امریکہ کا چہرہ مسلم دنیا کے سامنے کھل گیا ہے۔
آفتاب عالم، مظفرآباد: میرے خیال میں اسرائیلی عوام کو نشانہ نہیں بنانا چاہئے۔ انہیں امن سے رہنے کا حق ہے۔ لیکن رنتیسی کے قتل سے میرے خیالات میں تبدیلی آرہی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ چونکہ فلسطینی غیرمسلح ہیں، اس لئے ان کے لئے خودکش حملوں کے سوا دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اختر علی سید، آئرلینڈ: اس مسئلے کا حل اس وقت تک نہیں ملے گا جب تک اس کی بنیادی وجہ پر توجہ نہیں دی جائے اور یہ ہے فلسطینی زمین پر اسرائیلی قبضہ۔ لیکن فلسطینی بھی جو کچھ کررہے ہیں وہ بدلے کی کارروائی ہے اور اسے نہیں سراہا جاسکتا۔ بابر بیگ، دوحہ: حماس اسرائیل کے خلاف اپنی پوری طاقت کا استعمال کرے۔ تاج حسین، پشاور: امریکہ اور اسرائیل اس کارروائی کے لئے ذمہ دار ہے۔ ایک پرامن معاہدے کے لئے اسرائیل فوری طور پر قتل بند کرے۔ شاہد محمود سرگودھا، پاکستان: مسلم امہ کو اس وقت متحد ہونا چاہئے۔ ہمارے پیغمبر نے کہا تھا کہ جہاد آخری دن تک جاری رہے گا۔ امان اللہ مری، نواب شاہ سندھ: میرے خیال میں دنیا میں جو دہشت گردی ہے وہ صدر بش اور ان کی اسرائیل کو حمایت کی وجہ سے ہے۔ محمد عالم، مظفرآباد: میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں کیا مسلم دنیا کو بھی ایٹمی ہتھیار رکھنے کی ضرورت نہیں ہے؟ مغیث خان، پاکستان: در حقیقت یہ ایک دہشت گرد کارروائی ہے۔ اسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ اظہر بٹ، یو اے ای: اسرائیل سمجھتا ہے کہ ایسا کرنے سے دہشت گردی ختم ہوجائے گی اور اس پر ہونے والے حملے رک جائیں گے۔ لیکن وہ غلط ہے۔
روڈنی، جنوبی افریقہ: اسرائیل نے کوشش کرکے ایک ایسے شخص کو مار ڈالا جو قتل کا انتظام کرتا تھا۔ رنتیسی ان خودکش حملہ آوروں کے منتظم تھے جنہوں نے عام لوگوں کو ہلاک کردیا۔ بشارت حمید، سمندری، پاکستان: یہ بہت ہی افسوسناک صورتحال ہے۔ اس طرح دنیا کبھی بھی امن سے نہیں رہ سکتی۔ اور بدلے کی آگ برقرار رہے گی۔ نسیم وحید بھٹی، ملتان: سمجھ میں نہیں آتا کہ فلسطینی میں حالات کب ٹھیک ہونگے۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان: آج پھر ایک مسلم لیڈر شہید ہوگیا۔ افسوس شہیدوں پر نہیں اپنے لیڈروں پر ہوتا ہے جو مزمت تو دور افسوس بھی نہیں کرتے۔ محمد یونس کھٹک، پشاور: مسلمانوں کو اب بدلہ ضرور لینا ہوگا۔ امریکہ اور اسرائیل شرافت کی زبان نہیں سمجھتے۔ رونی فرزانہ، واشنگٹن: فلسطینیوں کے ہاتھ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا تو اب تک انہوں نے بھی وزیراعظم شیرون کا قتل کردیا ہوتا۔ اسرائیل کی ان لوگوں کا قتل کرنے کی طاقت جو قتل کی ترغیب دیتے ہیں، دونوں میں سے کم قابل مزمت ہے۔ لیکن شیرون کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ورنہ عرب کارروائی کرسکتے ہیں۔ علی، فرانس: شیخ یاسین اور ڈاکٹر رنتیسی کے قتل سے امن کی تمام کوششوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ نسیم، اوماہا، امریکہ: اسرائیلی حملے میں اس طرح کی ہلاکتیں، خود کش حملے اور فوجی دراندازی سب کسی نہ کسی طرح دہشت گردی ہی ہیں۔ معصوم لوگ مارے جاتے ہیں۔ راشد فرح، صومالیہ: جارج بش اس جرم کے لئے ذمہ دار ہیں، انہوں نے ہی اسرائیلی وزیراعظم شیرون کو ہری جھنڈی دکھائی ہے۔ شنتانو بسو، کلکتہ: میرے خیال میں وقت کی ضرورت ہے کہ دونوں فریق ہلاکتیں فوری طور پر بند کریں اور ایک مستقل حل کے لئے بات چیت شروع کریں۔ عام لوگوں کی زندگی میں سکون کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ رینڈل ایپولیتو، نیویارک: اگر آپ حماس کے رہنما کے قتل کو ناپسند کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ معصوم انسانوں پر خود کش حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اس پر کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی۔
انور عزیز چانڈیو، حیدرآباد: اللہ کے نام سے شروع کریں۔۔۔۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولے گا اس لئے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ لیکن مسلم دنیا میں مزید شیخ یاسین اور رنتیسی کی کمی نہیں ہوگی۔ رابرٹ، امریکہ: آپ دہشت گردوں جیسے بن لادن، عرفات، حماس، جو اسرائیل سمیت مغربی تہذیب کو نست و نابود کردینا چاہتے ہیں، کے ساتھ مذاکرات نہیں کرسکتے۔ احمد اوتیس، اسلام آباد: ان کی ہلاکت کا بدلہ ہی ایک جوابی کارروائی ہوسکتی ہے۔ شیخ یاسین اور رنتیسی کی موت کا بدلہ لینا دنیا میں قیام امن کے لئے ضروری ہے۔ شال پٹیل، ٹورانٹو: رنتیسی کا قتل کے الٹے نتائج نکلیں گے اور مسئلے کے اصلی وجوہات سے الگ لے جاتے ہیں۔ جب تک اسرائیل فلسطینی زمین چھوڑ نہیں دیتا، مزید خون بہے گا۔ عبداللہ، بنیر، پاکستان: میں رنتیسی کی ہلاکت کے ذمہ داروں کا قتل کردینا چاہتا ہوں۔ ابرار قاضی، ممبئی: شدت پسندی کا مطلب کیا ہے؟ اگر شدت پسند فلسطین کے لوگ ہیں تو امریکہ اور اسرائیل کے لئے کیا نام منتخب کررکھا ہے؟ دہشت گردی کا مطلب کیا ہے؟ کون لڑے گا دہشت گردی سے؟ امریکہ؟ یا اسرائیل؟ اویس اسرار، کراچی: بہت ہوچکا۔ اب امہ کو سنجیدہ کارروائی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امن قائم ہوسکے۔ عمیر سرور، لاہور: دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے ڈاکٹر رنتیسی کی ہلاکت ایک بڑا صدمہ ہے۔ یورپ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||