غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلامتی کونسل کی طرف سے غزہ میں اسرائیلی آپریشن کی مذمت کے باوجود اسرائیلی فوج غزہ کے اندر دور تک گھس گئی ہے۔ غزہ کی تاریخ میں اسرائیلی کی طرف سے کیے جانے والے سب سے بڑے فوجی آپریشن میں منگل سے لے کر اب تک 40 کے قریب فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے فلسطینی شدت پسندوں نے 13 اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کے طرف سے کی جانے والی مذمت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسرائیل نے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائی کے بارے میں اپنے خیالات لکھ کر بھیجیں۔ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں محمد فاروق، جرمنی: مسئلہ عرب ممالک کے ساتھ ہے۔ ہم امریکہ کو اس مسئلے کے حل کے لئے نہیں کہہ سکتے۔ امریکہ کبھی بھی اسرائیل کی مذمت نہیں کر سکتا کیونکہ امریکی معیشت یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔ عرب ممالک امریکہ کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔ جب تک عرب ممالک اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں نہیں سوچیں گے، اس وقت تک صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
امتیاز احمد، کراچی: صرف مذمت سے کام نہیں چلے گا۔ جہاد تمام امت مسلمہ پر فرض ہو چکا ہے۔ میاں عاقب، امریکہ: یہ بربریت کی انتہا ہے جس کا کسی بھی طور دفاع نہیں کیا جا سکتا۔معصوم لوگوں کا قتل بہت بڑا جرم ہے۔ میں حیران ہوں کہ اقوام متحدہ اس سلسلے میں کیوں کچھ نہیں کر رہا۔ احسان خان، تربیلا، پاکستان: اسرائیل دراصل حقیقی دہشت گرد ملک ہے اور دنیا میں جاری تمام جنگوں کا باعث ہے۔ راحت ملک، پاکستان: اسرائیلی غزہ میں ظلم کی انتہا کر رہے ہیں۔ حماس کے رہنماؤں کے قتل کئےجانے سے نفرتوں میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ لیکن اس ہاتھی کو روکنے والا کوئی نہیں۔ کامران سجاد، گوجرانوالہ، پاکستان: اسرائیل سلامتی کونسل کی پروا اس لئے نہیں کرتا کیونکہ امریکہ اس کی پشت پناہی کرتا ہے۔ اسرائیل کے خلاف جو بھی جو بھی قرارداد پیش ہوتی ہے، امریکہ اسے ویٹو کر دیتا ہے۔ایسی سلامتی کونسل کا کیا فائدہ جو چھوٹے ملکوں کا تحفط نہ کر سکے۔ صفدر بلوچ، لاہور: یہ بنیاد پرست حکومتوں کی حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ تمام روشن خیال ادارے تباہ کر دیئے جائیں تاکہ شدت پسندی میں اضافہ ہو۔ فلسطین اور عراق اب بنیاد پرستوں کے حوالے کئے جا رہے ہیں جیسے پہلے افغانستان میں کیا گیا تاکہ غاصب قوتیں آسانی سے عالمی تائید حاصل کر سکیں۔
عطاء حسین جعفری، دبئی: اسرائیل سے کسی قسم کی بھلائی کی امید رکھنا ناسمجھی ہے۔ اسرائیل کو پتہ ہے کہ امریکہ اس کے ہاتھ میں ہے تو کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اللہ مسلمانوں کو متحد کرے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد: اتنا ظلم کہ چنگیز خان اور ہٹلر کی روحیں بھی شرما جائیں۔ مسلمانوں کے رہنما جتنے بے حس ہیں، مسلمان عوام اتنے ہی افسردہ ہیں۔ بن یامین صدیقی، امریکہ: اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہے اور امریکہ اس کی پشت پناھی کر رہا ہے۔ دنیا کا امن اس وقت تک برباد رہے گا جب تک امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک اسرائیل کی ناجائز اور غیراخلاقی حمایت کرتے رہیں گے۔ خود کش بم دھماکوں کے ذریعے بے گناہ شہروں کی ہلاکت اور فوجیوں کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت دونوں کس طرح مختلف ہو سکتے ہیں۔ ریاستی دہشت گردی سب سے بڑی دہشت گردی ہوتی ہے۔ ہارون رشید، سیالکوٹ: جب چوہد ری ساتھ دے تو کمی کمین بھی اپنے |آپ کو چوھدری سمجھنے لگتے ہیں۔لگتا ہے یہی حال اسرائیل کا ہے۔ نور احمد، اومان: بش، بلئیر اور شیرون کی مثلث دنیا کے امن کے لئے خطرہ ہے۔ یہ لوگ انسانیت میں یقین نہیں رکھتے۔ تاریخ انہیں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گی۔ نعمت اللہ خان، کراچی: اسرائیل اور امریکہ دنیا کے امن کو تباہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
محمد شہزاد، امریکہ: یہ سب کچھ اسرئیل اور امریکہ ملی بھگت سے کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے چالیس بے گناہ لوگ غزہ میں مار دیئے اور امریکی میڈیا میں اس کا نام و نشان بھی نہیں۔ شوکت حسین، متحدہ عرب امارات: ہم مسلمان اپنے ہی حکمرانوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر رہ گئے ہیں۔ فلسطین ہو یا کشمیر، عراق ہو یا افغانستان، جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے، وہ ہمارے اپنے حکمرانوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ مسعود قریشی، میرپور: غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی ظلم کی انتہا ہے۔ بےگناہ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو مارنا کسی مذہب میں جائز نہیں۔ امریکہ کے پالیسی ساز اندازہ کرلیں کہ اسرائیل کی حمایت سے امریکہ کی ساکھ کو کتنا نقصان ہوا ہے۔ مسلم امہ اور عرب ممالک کو چاہئے کہ وہ متحد ہوکر اسرائیل کو لگام دیں۔ تمام مسلمان فلسطینیوں کی مدد کریں۔ عثمان عمر خان، قندھار: اسرائیل کو اپنے تحفظ کے لئے اقدامات کرنے کا حق ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو فلسطینی انہیں اڑا دینگے اور ہزاروں معصوم انسانوں کو ہلاک کردینگے۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: کیا فائدہ ہے ان (سلامتی) کونسلوں کا جو انسان کی کونسلِنگ بھی نہ ہوسکے، اور شاید یہ مرنے والے تو انسان بھی نہیں ہونگے نا؟ جن میں اکثریت بچوں کی ہے جن کی عمریں آٹھ سے گیارہ سال تک ہیں۔ ان کا قصور کیا ہے؟ اور اگر ان کا قصور کچھ ہے تو یہی کہ وہ مسلم ہیں؟ صرف مذمت کرنے سے کیا ہوگا جب کہ ان کو پتہ ہے کہ کوئی بھی ہمارا کیا بگاڑ لےگا۔ (اقوام متحدہ) جیسے ان اداروں کو ختم ہی کردینا چاہئے جن کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایم ہاشم، پاکستان: میرے خیال میں اس وقت اسرائیل دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔ اس نے غزہ میں جو کارروائی کی، ہمیں اس کی میں پرزور مذمت کرتا ہوں۔ فلسطین میں جاری کارروائی فوری طور پر بند کردی جائے کیونکہ وہ بھی انسان ہیں، انہیں بےدردی سے قتل کیا جارہا ہے۔ امریکہ کو چاہئے کہ اس کی پشت پناہی بند کردے اور اس سے فورا کارروائی بند کرنے کے لئے کہے۔
احمد سید، بہاولپور: یہ سب ہمارا قصور ہے۔ کیونکہ جب ہم کافروں کی زندگی اختیار کریں گے تو کافر ہم پر مسلط ہوجائے گا۔ اصغر خان، چین: ظلم پھر ظلم ہے بہتا ہے تو پھر مٹ جاتا ہے۔ چودھری محمد شفیق، پاکستان: عراق، فلسطین اور افغانستان میں معصوم مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے اور پاکستان کے حکمران آنیوالے انتخابات میں بش کی کامیابی کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ میری رائے میں مسلم عوام کو بیرونی دشمنوں سے لڑنے سے پہلے اندرونی غداروں کا خاتمہ کرنا ہوگا کیونکہ عالمِ اسلام کے دغاباز حکمران امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں۔ نیاز خان، اوٹاوا: مجھے نہیں معلوم کہ کیا کہوں۔ پہلے ہی بہت کچھ لکھا جاچکا ہے لیکن کوئی کامیابی نہیں ملی۔ اللہ فلسطینیوں کی مدد کرے اور مسلمانوں کو متحد کرے۔ محمد امین راجہ، میرپور خاص: دنیا کو سوچنا چاہئے کہ عراق کو امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں نے اس لئے مقبوضہ بنایا کہ وہاں لوگوں کی حق تلفی ہورہی تھی تو فلسطینی میں کیا ہورہا ہے؟ آخر یہ امن کے نام نہاد ٹھیکیدار اسرائیل کے خلاف قدم کیوں نہیں اٹھاتے؟ آخر اقوام متحدہ کس مرض کی دوا ہے؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||