اسرائیلی حفاظتی باڑھ: آپ کی رائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نےمغربی کنارے پر اسرائیل کی طرف سے تعمیر کی جانے حفاظتی فصیل کے قانونی جواز پر سماعت کا آغاز کردیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی عالمی عدالت سے اس مسئلے کو زیرِ بحث لانے کی درخواست کی ہے۔ اس مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے صرف ایک دن پہلے ایک فلسطینی خودکش حملہ آور نے یروشلم میں مسافروں سے بھری ہوئی ایک بس میں آتش گیر مواد کے ذریعے خود کو اڑا کر آٹھ اسرائیلیوں کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کردیا۔ اس دھماکے کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اس دھماکے سے اس حفاظتی دیوار کی ضرورت ثابت ہوگئی ہے جو اسرائیل مغربی کنارے پر تعمیر کرتا رہا ہے۔ تاہم درخواست گزار فلسطینوں کا کہنا ہے کہ اس فصیل کی تعمیر سے اسرائیل مزید علاقے پر قبضہ کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ اگرچہ اسرائیل اس سماعت کا بائیکاٹ کر رہا ہے لیکن فلسطینی اس موقعے سے عالمی سطح پر فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ کیا آپ کی نظر میں اس باڑھ کی تعمیر روک دی جانی چاہئے یا یہ درحقیقت ایک حفاظتی اقدام ہے؟ کیا خوکش حملوں سے فلسطینیوں کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ کیا اس مقدمے کے نتائج فلسطینیوں کے حق میں نکلیں گے؟ آپ کا ردِّ عمل یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ عبدالغفور، ٹورانٹو: بدقسمتی سے خودکش حملوں کی وجہ سے ہی اسرائیل کو حفاظتی دیوار بنانی پڑی ہے۔ اور ہزاروں فلسطینیوں کو اس سے نقصان ہوگا۔ لیکن اگر امن قائم ہوجاتا ہے تو اس دیوار کو توڑ دینا چاہئے۔ اس طرح کی حفاظتی دیواریں دنیا میں کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔ فیصل تقی، کراچی: اسرائیل خود حملہ آوروں کو روکنے کے بجائے خود حملوں کا جواز روکنے کی کوشش کرے۔ سعید محمد کھٹک، نوسہرہ، پاکستان: اسرائیل کو فوری طور پر اس باڑھ کی تعمیر روکنی چاہئے۔ در حقیقت اس حفاظتی اقدام کے بہانے مزید فلسطینی زمین کو ہڑپ کرنا اسرائیل کا مقصد ہے۔ ایم نعیم خان لودھی، پاکستان: ہم اسرائیلی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے۔ کاشف رضا، لاہور: اسرائیل کو باڑ بنانے کا کوئی حق نہیں ہے، اس کے ذریعے وہ باقی ماندہ فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرلینا چاہتا ہے اور اس باڑ کو مستقبل میں بین الاقوامی سرحد قرار دینا چاہتا ہے۔ رضوان فاروق ڈار، پاکستان: میرے خیال میں یہ قبضہ ہے، سیکیورٹی نہیں۔ فیصل عمر، پاکستان: یہ سب ظلم ہے اور سب راستے مسلمانوں پر ظلم کی طرف جاتے ہیں۔ اختر نواز، لاہور: دیوار اگر برلِن کی نہیں رہی تو یہ دیوار، دیوارِ برلِن سے مضبوط نہیں۔ دیوار کا بننا نہ بننا اکثر بےمعنی ہوتا ہے۔ ہاں اگر اسرائیل میں ہمت ہے تو فلسطینی جذبۂ حریت کے سامنے دیوار بنالے۔ محمد فرحان، اقبال ٹاؤن، پاکستان: اسرائیل اپنا قبضہ مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ اصغر خان، برلِن: یہ اسرائیل کا حق ہے کہ وہ یہ اقدام کرے اور یورپی یونین کے فیصلوں کی میں مکمل حمایت کرتا ہوں۔ محمد نومان، میرپور خاص، پاکستان: اسرائیل کو باڑ لگانے کے بجائے اس معاملے کو حل کرنا چاہئے۔ باڑ لگانے سے اس کو اور زیادہ نقصان ہوگا۔ محبوب احمد سرہندی، صوات، پاکستان: حقیقت میں یہ باڑ ایک قبضہ ہے، کوئی بھی ذی شعور اپنی زمین اس طرح دوسروں کے حوالے نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ طارق علی، کینیڈا: اس دیوار کے لئے یاسر عرفات جیسے لوگ ذمہ دار ہیں۔ ریاست علی گھمن، سرگودھا: اسرائیل فلسطینیوں بچے کھچے علاقے بھی ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ فلسطینیوں کے خودکش حملوں میں اضافہ ہوگا کیوں کہ ان کے پاس اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔ عابد عزیز، ملتان: وہ صرف مزید علاقوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔ اللہ فلسطینیوں کی مدد کرے۔ پرویز بلوچ، بحرین: بالکل اس باڑھ کی تعمیر روک دینی چاہئے۔ دوسروں کے گھر کے اندر اپنے گھر کی دیوار تعمیر کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ جہاں تک خودکش حملوں کا تعلق ہے تو اسرائیل روزانہ فلسطینیوں کا قتلِ عام کر رہا ہے۔ فلسطینی سوچتے ہیں کہ جب ویسے ہی مر رہے ہیں تو کیوں نہ اسرائیلیوں کو لے کر مریں۔ اس مقدمے کے نتائج فلسطینیوں کے فائدے میں ہوں نہ ہوں، کم از کم اسرائیلیوں کو ایک اور رسوائی کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا۔ فہد احمد، کراچی: اسرائیل کی جانب سے ’حفاظتی باڑھ‘ بنانے کا فیصلہ مزید فلسطینی علاقے ہتھیانے کا نیا ڈھنگ ہے۔ اختر بلوچ، کراچی: اسرائیل جو کچھ کر رہا ہے یہ اس کا حق ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||