دھماکہ قابل مذمت ہے، احمد قریع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی وزیراعظم احمد قریع نے یروشلم میں ایک بس میں ہونے والے اس خودکش دھماکے کی مذمت کی ہے جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس دھماکے کو ایک خودکش بم حملہ قرار دیا ہے۔ جبکہ موقع پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق قرائن بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ فلسطینی شدت پسند تنظیم الاقصٰی بریگیڈ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تنظیم نے حملہ آور کا نام محمد زال بتایا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اس دھماکے سے اس حفاظتی دیوار کی ضرورت ثابت ہوگئی ہے جو اسرائیل مغربی کنارے پر تعمیر کرتا رہا ہے۔ ہیگ میں قائم عالمی عدالت میں پیر کو متوقع ایک سماعت میں اس متنازعہ حفاظتی دیوار کی تعمیر کی قانونی حیثیت پر بحث کا امکان ہے۔ اگرچہ اسرائیلی حکام نے اس دیوار کے ایک حصہ کو منہدم کرنا شروع کردیا ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس انہدام کا ہیگ کی عدالت میں متوقع سماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ ادھر فلسطینی وزیراعظم احمد قریع نے اس بم دھماکے کی مذمت کی ہے تاہم واشنگٹن میں امریکی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یہی وقت ہے کہ فلسطینی رہنما شدت پسندوں کے رابطوں کا جال توڑ ڈالیں۔ دریں اثنا اسرائیل کے وزیر دفاع نے بتایا کہ ممکنہ جوابی کارروائی پر غور کرنے کے لئے اتوار کی شام کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ دھماکے سے قبل فلسطینی دو ہفتے قبل غزہ میں کی جانے والی اس اسرائیلی کارروائی کا بدلہ لینے کی دھمکیاں دے رہے تھے جس میں پندرہ فلسطینی ہلاک ہوگئے تھے۔ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے آٹھ بجے ہوا جس وقت بس میں مسافروں کی بھیڑ تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||