ایرانی انقلاب کے پچیس برس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سال گیارہ فروری کو ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے پچیس برس مکمل ہو گئے ہیں جب انقلاب کے بانی اور ملک کے روحانی پیشوا آیت اللہ روح اللہ خمینی چودہ برس کی جلاوطنی کے بعد واپس وطن لوٹے اور ایران کے بادشاہ رضا شاہ پہلوی اور ان کے اہلِ خانہ جلاوطنی پر مجبور ہوئے۔ انقلاب سے پہلے اور بعد میں ایران ریاستی جبر کا مرکز رہا ہے۔ اسلامی انقلاب کے آنے کے بعد ایران کے تعلقات بیرونی دنیا سے کشیدگی کا شکار رہے خاص طور پر مغربی ممالک جنہوں نے ایران میں اسلامی انقلاب کی مخالفت کی۔ تاہم ایک طرف جہاں اس انقلاب نے اسلامی عالمگیریت کو تقویت پہنچائی وہیں اس نے مسلمانوں کو نہ صرف تقسیم کیا بلکہ مغرب نے اس کی وجہ سے تمام مسلم دنیا پر قدامت پرستی کا لیبل بھی لگایا۔ خود ایران میں اصلاح پسندوں اور قدامت پسندوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی جاری ہے۔ آپ کی رائے میں ایران ایک کامیاب اسلامی مملکت ہے؟ ان پچیس سالوں میں ایران نے کیا کھویا کیا پایا؟ ایرانی انقلاب کے باقی مسلمان ممالک پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں کاشف نسیم احمد، پاکستان: وہ سبھی لوگ جو ایرانی انقلاب کی مخالفت کررہے ہیں، انہوں نے شاہ کے دور میں ایران کی سیکولر سوسائٹی کو نہیں دیکھا ہے، اور اس کے بعد کی تبدیلیوں کو بھی نہیں۔ اگرچہ ایرانی رہنماؤں نے کچھ غلطیاں کی ہیں بالکل ویسے ہی جیسے پاکستانی رہنماؤں نے، تاہم ایران واحد مسلم ملک ہے جہاں آپ چاروں طرف صفائی، قانون کے لئے عزت، سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی، وغیرہ دیکھ سکتے ہیں۔ حسین علی، تہران: شاید دنیا میں ایران پہلا ایسا ملک ہے جس نے دنیا کے سوپر پاور کے خلاف سراٹھایا اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے منافع کو نقصان پہنچایا۔ اسرائیل کو ایک ملک تسلیم نہ کرنا اور لبنان میں مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ شاید ایران کے کریڈِٹ میں جاتا ہے۔ عبدالرحمان نوری، کینیڈا: جب تک میں ایران نہیں گیا تھا، میں ایران اور انقلاب کے خلاف تھا۔ اور اب مجھے انقلابِ اسلامی، ایران اور اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ اور دل سے دعاء ہے کہ اللہ ان کے دشمنوں کو غارت کرے۔ خانم سمرو، کراچی: بے شک ایران ایک کامیاب اسلامی ملک ہے اور وہ اب تک امریکہ کا مقابلہ کرتا آیا ہے، رہی بات قدامت پسندی کے لیبل کی تو کون سا ایسا اسلامی ملک ہے جس پر ویسٹرن ممالک نے انتہا پسندی اور قدامت پسندی کا لیبل نہ لگایا ہو؟ انجینیئر ہمایوں ارشد، کراچی: یہ کہنا غلط ہے کہ مغرب نے اسلامی انقلاب کی مخالفت کی، بلکہ جلاوطنی کے زمانے میں مغرب نے ہی جناب خمینی کو پناہ دی تھی۔ داراصل مغرب کو کسی بھی اسلامی کہے جانے والے ملک میں استحکام نہیں بھاتا۔ شاہ ایران کے زمانے میں ایران سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت آگے تھا۔ مغرب نے اسے تباہ کروادیا اور اب اصلاح پسندی کے نام پر پھر سے ایران کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ افغانستان اور عراق میں کیا کیا؟ اب پاکستان اور سعودی عرب میں کیا کروانا چاہتے ہیں؟ علی غیور، کراچی: ایران ایک تاریخی پس منظر کا حامل ملک ہے اور وہاں عوام کافی بےدار ہیں۔ پہلے تو انہوں نے شاہ کو اپنے حق میں بہتر نہیں سمجھا تو اسے چلتا کرکے اقتدار علماء کو سونپ دیے، اب شاید ان سے بھی اکتا گئے ہیں اس لئے ان کے بھی جانے کی علامتیں ظاہر ہورہی ہیں۔ ابوبکر عمر، سعودی عرب: ایران میں جو انقلاب اسلام کے نام پر آیا تھا وہ حقیقت میں اسلامی انقلاب ثابت نہیں ہوا۔ وہ صرف شیعہ لوگوں کا انقلاب ہے، ایران کے ملاؤں نے امت میں فرقہ پرستی کو بڑھایا ہے، اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی۔ قیصر، چین: ایران ایک ناکام ریاست ہے جہاں تمام تر آدمی تیل پر منحصر ہیں۔ یہ کیسا اسلامی انقلاب ہے جہاں ہر طرف ظلم ہی ظلم ہے؟ خدا ایرانی عوام کو اس ظالم ملا حکومت سے نجات عطا کرے، ورنہ ایران عنقریب عراق بن جائے گا۔ جواد کاظمی، کینیڈا: ایران کا اسلامی انقلاب پچھلی صدی میں مسلمانوں کی سب سے بڑی کامیابی ہے جس نے بڑی طاقتوں کو جھکنے پر مجبور کردیا۔ دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ اسلامی انقلاب کو معاشی سطح پر نہ دیکھیں بلکہ یہ دیکھیں کہ اسلامی انقلاب دنیا کے تمام مظلوموں کی آواز بن چکا ہے۔ محمد خان، کینیڈا: ایران کے اسلامی انقلاب کی مخالفت کرنے والے وہی ہیں جو فرانس میں بےپردگی کی حمایت کرنے والوں میں سے ہیں۔ محمد افضل خان، پاکستان جب انقلاب آیا تھا تو لوگ بہت خوش تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے مسئلے حل ہونگے لیکن ایسا نہ ہوا۔ آج کا دور انتہا پسندی کا دور ہے۔ عورتوں کو کالا برقعہ پہنانے اور زبردستی نماز پڑھانے سے اسلام نہیں آتا۔ ایرانی ملا بھی طالبان کی طرز کا نظامِ حکومت چلا رہے ہیں جو کسی بھی آزاد قوم کے لئے بہتر نہیں ہو سکتا۔ اسلام میں اتنی سختی نہیں جتنی ان لوگوں نے اپنے عوام پر عائد کر رکھی ہے۔ ان پچیس سالوں میں عوام کے حقوق سلب ہوگئے ہیں۔ جس ملک کے عوام خوش نہیں وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ محمد حسین، کوئٹہ ایرانی انقلاب امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کے خلاف آیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ نے اسے پچھلے پچیس برس میں ناکام بنانے کی کئی کوششیں کیں اور اس کے لئے ہر طریقہ آزمایا۔ سید شاہد زیدی، کینیڈا امام خمینی نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کی لیکن ان کے انتقال کے بعد ان کے پیروکار ان کے نقشِ قدم پر چلنا اور یہ بھول گئے کہ وہ انقلاب کیوں لائے تھے۔ اگر وہ اج زندہ ہوتے تو موجودہ ایرانی حکمرانوں اور پس منظر سے حکومت چلانے والوں کے خلاف ایک اور انقلاب لے آتے۔ خانم سمرو، کراچی میرے خیال میں اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے کھویا تو کچھ نہیں، البتہ اپنی الگ پہچان، اپنی خودداری، ایک اسلامی تہذیب اور امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کا ڈھنگ ضرور پا لیا ہے۔ اطہر علیم، پاکستان ایرانی انقلاب ایک اہم انقلاب تھا جس میں عوام نے انقلابیوں کا ساتھ دیا۔ جنہیں انقلاب کا پتہ ہے وہ جانتے ہیں کہ انقلاب مختلف مراحل سے گزر کر ہی منزل تک پہنچتا ہے اور ہر قوم کو آئندہ نسلوں کے لئے قربانی دینی ہوتی ہے اور ہر اس ناسور کو کاٹ کر پھینکنا ہوتا ہے جو انقلاب کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ اللہ کا احسان ہے کہ ایرانی انقلاب اب اپنے دوسرے مرحلے میں انتہائی کامیابی سے داخل ہورہا ہے۔ اس سفر میں ایران نے اپنے کامیاب عامی دوست بنائے ہیں۔ جہاں تک بات ہے اندرونی اختلافات کی تو یہ تو انقلاب کے ساتھ لازم و ملزوم ہے ورنہ انقلابی فکر زنگ کھا جائے گی اور منزل تک پہنچنا مشکل ہوجائے گا۔ ساحلہ، شیراز انٹلکچوئل ایرانی انقلاب کے بانیوں میں سے تھے لیکن عوام کی ایک بڑی تعداد نے ان کی ایک نہ سنی اور ملاؤں کو اس کی قیادت سونپ دی۔ ملاؤں نے انٹلکچویلز کو خاموش کرا دیا اور اب جب وہی عوام برسوں سے ان ملاؤں کو جب بھگت چکے ہیں تو الزام انٹلکچوئل کو دیتے ہیں۔ خرم شہزاد، جرمنی ایران ایک مکمل اسلامی مملکت ہے جہاں پر تمام کے تمام قوانین اسلامی اصولوں کے مطابق بنائے گئے ہیں۔ پھر ان اسلامی قوانین کا بہت مؤثر طور پر نفاذ کیا گیا ہے۔ تمام اسلامی ممالک کو ایران کی پیروی کرنی چاہئے۔ معروف، لندنمیں دس برس کا تھا اور کردستان میں رہتا تھا جب انقلاب آیا۔ لوگ بالکل اس کے لئے اس کے تباہ کن نتائج کے لئے تیار نہیں تھے۔ یوں انقلاب سرخوں کی بے وقوفیوں، مغربی حکومتوں کی غلط پالیسیوں اور اسلامی شدت پسندوں کے احساسِ کمتری کا میدانِ کارزار ثابت ہوا۔ احمد صدیقی، کراچی مظلوم کے حقوق کے نام پر قائم ہونے والی حکومت نے ظلم کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے۔ اسلام کا نام لیا مگر مومنین کے قتل کے لیِ اسرائیل سے مدد لینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ناہید، کینیڈا انقلاب سے پہلے کے دن بھی اتنے خوبصورت نہیں تھے جتنے اب لگتے ہیں۔ لوگوں کا خیال تھا کہ انقلاب ہی اپنے مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ تاہم بعد میں ثابت ہوا کہ انہوں نے غلط راستہ اختیار کیا۔ یا شاید انقلاب کے مقاصد اور عوام کی سیاسی سمجھ بوجھ میں ایک بڑا حلاء موجود تھا جس کی وجہ سے ہم اب ایران میں ان مسائل کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمجید، فیصل آباد یہ کوئی اسلامی انقلاب نہیں۔ لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، یہ کون سا اسلامی انقلاب ہے۔ عورتوں کو کالا برقعہ پہنا دینا ہی اسلامی انقلاب رہ گیا ہے کیا؟ فیصل عباسی، اسلام آباد میں ایران میں ملازمت کرتا ہوں اور ایران کے انقلاب کے بارے میں اتنا ہی کہوں گا کہ پہلے لوگ کبھی کبھی نماز پڑھ لیتے تھے لیکن اب اپنی قیادت سے اتنے متنفر ہوچکے ہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔ جیسے شاہ کے زمانے میں روزہ نہ رکھنے میں شرم محسوس کی جاتی تھی، اب روزہ رکھنے میں شرم محسوس کی جاتی ہے۔ جب تک میں یہاں نہیں آیا تھا محسوس کرتا تھا کہ انقلاب ایران کے لئے اچھا ہے لیکن یہاں آکر رائے بدلنا پڑی۔ محمد ثاقب احمد، بہار ایران کا اسلامی انقلاب ساری دنیا کے لئے عبرت کا مقام ہے۔ اس نے اسلام کا پرچم بلند کیا اور اس کا مقدمہ ساری دنیا کے سامنے پیش کیا اور تاریخِ اسلام میں عوام کے ذریعے انقلابِ اسلام کو ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جاتا رہے گا۔ یہ درست نہیں کہ اس نے مسلمانوں کو تقسیم کیا بلکہ مسلمان تو بہت پہلے سے تقسیم ہیں اور نام نہاد سربراہ اسے متحد نہیں ہونے دیتے۔ بلا شک وشبہ ایران ایک کامیاب اسلامی مملکت ہے جہاں انسانی حقوق اور جمہوریت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ قدامت پرستی کا لیبل لگنا تو فخر کی بات ہے۔ ہارون رشید، سیالکوٹ میری رائے میں اس دوران ایران عالمی سیاست اور دوسرے اہم مسائل میں کوئی اہم کردار ادا کرنے سے ناکام رہا اور دنیا بھر سے کٹا رہا۔ ابو محسن میاں، سرگودھا گو اس پر کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن میں کہوں گا کہ نہ صرف ایران بلکہ تمام مسلمان ممالک نے ایران کے انقلاب سے بہت کچھ حاصل کیا اور سیکھا ہے۔ اس سے مسلمانوں نے اپنے دشمنوں کو پہچاننا اور جرات کرنا سیکھا ہے۔ صلاح الدین لنگاھ، جرمنی میں نے اپنی زندگی کے سات بہترین سال وہاں گزارے ہیں۔ تب وہاں پر نہ ہونے کے برابر پاکستانی تھے جس کی وجہ سے ہم وہاں کی ثقافت میں گھل مل گئے اور ہمیں بہت کچھ سمجھنے کا موقعہ ملا۔ ہر وہ سہولت جو لوگوں کو یورپ میں دی جاتی ہے وہ ایران میں موجود ہے۔ اس وقت اگر کوئی بہترین اسلامی نظام ہے تو وہ ایرانی نظام ہے۔ یورپی میڈیا کو سوائے پروپیگنڈے کے اور کچھ نہیں آتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||