شہزادہ چارلس ایران پہنچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس، چند ماہ پیشتر جنگ سے تباہ ہوجانے والے ایران کے شہر بام کے دورے کے لیے اتوار کو تہران پہنچے ہیں۔ ایران میں انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد یہ برطانوی شاہی خاندان کے کسی فرد کا پہلا دورۂ ایران ہے۔ اس سے تینتیس برس قبل شہزادہ فلپ اور شہزادی این نے ایران کا دورہ کیا تھا۔ ’پرنس آف ویلز‘ کہلائے جانے والے برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس اتوار کو تہران پہنچے جہاں بام کے لیے روانگی سے قبل وہ ایرانی صدر محمد خاتمی سے ملاقات کریں گے۔ اس سے قبل شہزادہ چارلس عراقی شہر بصرہ میں تعینات برطانوی افواج کی حوصلہ افزائی کے لیے کیے جانے والے ایک دورے پر بصرہ پہنچے تھے جہاں انہوں نے برطانوی افواج کی ’مثالی خدمات‘ کو سراہا۔ بصرہ سے وہ تہران کے مہر آباد ہوائی اڈے پہنچے جہاں ان کا استقبال ایران میں برطانوی سفیر رچرڈ ڈولٹن نے کیا۔ گزشتہ چھبیس دسمبر کو زلزلہ سے تباہ ہونے والے ایران کے تاریخی شہر بام جانے سے پہلے وہ پیر کو صدر خاتمی سے ملیں گے۔ جمعہ کو برطانیہ میں ’سینٹ جیمسز پیلس‘ میں ایک استبالیے میں شہزادہ چارلس نے بام کی تعمیر نو کے لیے ازسر نو بین الاقوامی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ بام کے زلزلہ میں تقریباً چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تہران میں برطانوی سفارتخانے کے ایک افسر اینڈریو ڈن نے بتایا ’ولی عہد شہزادہ چارلس برطانوی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں اور وہ اسی حیثیت میں ایران آرہے ہیں۔ یہ مکمل طور پر ایک غیر سیاسی دورہ ہے۔۔۔‘ ایران اور برطانیہ کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں خاصی گرمجوشی آئی ہے اور شہزادہ چارلس ایک ایسے وقت میں ایران کا دورہ کررہے ہیں جب ایران اسلامی انقلاب کی پچیسویں سالگرہ منانے والا ہے۔ اس سے قبل شہزادہ چارلس برطانوی جنگ کے آغاز سے اب تک عراق کا دورہ کرنے والے شاہی خاندان کے پہلے رکن کے طور پر بصرہ پہنچے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||