| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سو ایرانی رکن پارلیمان مستعفی
ایران میں جاری سیاسی بحران نے اتوار کو مزید سنگین صورت حال اختیار کر لی جب سو اصلاح پسند اراکین پارلیمان نے شوری نگہبان کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے استعفے پیش کر دیئے۔ ایرانی پارلیمان ’مجلس‘ کے اسپیکر مہدی کروبی نے ملک کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے درخواست کی ہے کہ وہ اس صورتحال میں مداخلت کریں۔ اصلاح پسندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ملک کے قدامت پسند رہنما انتخابات میں دھاندلی کرنا چاہتے ہیں۔ شوری نگہبان نے دو ہزار کے قریب اصلاح پسند امیدواروں کو فروری میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا جس پر احتجاج کرتے ہوئے سو اراکین پارلیمان نے ایران کی مجلس سے استعفی دے دیا ہے۔ نااہل قرار دیئے جانے والے امیدواروں میں صدر خاتمی کے بھائی سمیت نوے کے قریب منتخب اراکین شامل ہیں جنہوں نے ہفتے کو ایران کی مجلس سے استعفی دے دیا۔ صدر خاتمی کی حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے تمام ساڑھے تین ہزار امیدواروں کو ائندہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ملنی چاہئے۔ تاہم صدر خاتمی کو گزشتہ روز کمر میں تکلیف کے باعث اس مسئلہ کے سلسلے میں ہونے والے کئی اہم اجلاس کو ملتوی کرنا پڑا۔ ممتاز اصلاح پسند رکن مجلس محسن آرمين نے اصلاح پسند اراکین کی طرف سے اجتماعی استعفی ایران کی مجلس میں پیش کیا جس کو سرکاری ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر براہراست نشر کیا گیا۔ شوری نگہبان کے فیصلہ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آمریت کے بھیانک چہرے کو جمہوریت کے خوشنما لباس سے چھپانا چاہتے ہیں۔ شوری نگہبان نے جمعہ کو ساڑھے تین ہزار اصلاح پسند امیدواروں میں سے ایک تہائی کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی۔ فروری میں ہونے والے انتخابات میں پانچ ہزار چار سو پچاس امیدوار حصہ لئے رہے ہیں۔ ایرانی پارلیمان ’مجلس‘ کے اسپیکر مہدی کروبی نے ملک کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے کہا ہے کہ وہ اس صورتحال میں مداخلت کریں۔ ان اصلاح پسندوں کے استعٰفوں سے، جو قدامت پرستوں اور اصلاح پسندوں کے درمیان مناقشہ کی آخری حد ہے، پارلیمان مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ دریں اثنا وزیر داخلہ عبدلواحد موسوی لاری نے کہا ہے کہ ان حالات میں الیکشن کرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں کروائے جاسکتے۔ دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی نے دو امریکی سینیٹروں کے دورۂ ایران کے امکان کو رد کردیا ہے۔ ان دونوں سینیٹرز باب نے اور آرلن اسپیکٹر نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر محمد جاوید ظریف سے کہا تھا کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے ایران کا دورہ کریں گے اور یہ پچیس برس قبل ایران میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد کسی امریکی کا پہلے سرکاری دورہ ہوتا۔ لیکن تہران میں گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی نے کہا کہ ایسی کوئی پیشرفت عمل میں نہیں آرہی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||