| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی اہلکار،استعفے دینے پر تیار
ایران سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکومت کے کئی اعلیٰ عہدیداروں نے شورائے نگہبان کے اصلاح پسندوں کو انتخابات سے باہر رکھنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو اپنے استعفے پیش کر دیئے ہیں۔ ایران کے نائب صدر محمد علی ابتاہی نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ صدر خاتمی بھی استعفیٰ دینے پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزراء اور نائب صدور جنہوں نے استعفے پیش کئے ہیں اپنے فیصلے میں بہت سنجیدہ ہیں اور نئی صورتِ حال کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے ملنے والی خبروں کے مطابق ایران میں نگہبان شوریٰ نے ساڑھے تین ہزار اصلاح پسند امیدواروں میں سے جنہیں گزشتہ ہفتے بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا، دو سو امیدواروں کو اگلے ماہ کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔ قدامت پسند کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ ملک کے رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اپیل کے بعد اس تمام عمل پر نظرِ ثانی کی جا رہی ہے اور اس کو تیز کیا جا رہا ہے۔ کونسل کے فیصلے نے ایران میں ایک بحران کھڑا کر رکھا ہے اور سخت گیر موقف کے حامل سرکاری عہدوں پر فائز افراد پر الزام ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں دھاندلی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ خود موجودہ صدر محمد خاتمی کی سیاسی جماعت نے دھمکی دی ہے کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کر دے گی۔ شورائے نگہبان کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں قدامت پسندوں کے قانونی ڈھانچے سے منسلک عباس کادخودے کہتے ہیں کہ رہبر کے حکم کے بعد ’ہم نے اپنا کام تیز کر دیا ہے اور اب تک دو سو امیدواروں کے کاغذات منظور ہو چکے ہیں۔‘ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جن امیدواروں کے کاغذات منظور ہوئے ہیں ان میں کون کون شامل ہے۔ گزشتہ ہفتے صدر خاتمی نے اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے بارہ رکنی شورائے نگہبان پر جو تمام قوانین اور امیدواروں کی چھان بین کرتی ہے، زور دیا تھا کہ وہ امیدواروں کو بلیک لسٹ کرنے کے فیصلے پر از سرِ نو غور کرے۔ پیر کو صدر خاتمی کی جماعت نے شوریٰ پر دباؤ بڑھانے کے لئے بیس فروری کو ہونے والے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||