| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
خاتمی حکومت: استعفیٰ کی دھمکی
ایرانی حکومت کے ایک رکن نے دھمکی دی ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں بعض امیدواروں پر پابندی کی وجہ سے شروع ہونے والا تنازعہ حل نہ ہونے کی صورت میں صدر خاتمی کی حکومت مستعفی ہو سکتی ہے۔ ایک ایرانی خبر رساں ایجنسی نے ملک کے نائب صدر کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر حکومت نے سمجھا کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات منصفانہ طریقے سے نہیں کرا سکتی تو وہ مستعفی ہونے کو ترجیح دے گی۔ بی بی سی کے نمائندہ جِم میور کے مطابق یہ باضابطہ دھمکی تو نہیں لیکن اس سے ممکنہ اقدامات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایران میں شوریٰ نگہبان نے گزشتہ ہفتے پارلیمانی انتخابات کے سینکڑوں اصلاح پسند امیدواروں کے کاغدات نامزدگی مسترد کر دیئے تھے۔ بہت سے امیدواروں نے جن کے کاغذات مسترد ہوئے تھے شوریٰ نگہبان کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے لیکن ملک میں قدامت پسند اخبارات دباؤ ڈال رہے ہیں کہ شوریٰ اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ تہران میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا شوریٰ اپنے فیصلے کے خلاف رد عمل میں نرمی اور ناراض اصلاح پسندوں کو انتخابات میں حصہ لینے پر تیار کرنے کے لئے کتنی اپیلیں منظور کرتی ہے۔ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنئی نے کہا کہ اس تنازعہ کو قانونی طریقے سے حل کیا جائے۔ قانونی تقاضے پورے ہونے میں دو ہفتے سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے جب انتخابی امیدواروں کی اپیلوں پر کارروائی مکمل ہوگی۔ دریں اثنا ایرانی پارلیمان میں اسّی سے زیادہ اصلاح پسند ارکان دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بارہ رکنی شوری نگہبان کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ انتخابات کا اسلامی انقلاب کے اصولوں کے مطابق منعقد ہونا یقینی بنائے۔ شوری کے ترجمان کےمطابق آٹھ ہزار دو سو امیدواروں میں سے دو ہزار تینتیس کے کاغذات مسترد کئے گئے ہیں جبکہ پارلیمان کے ارکان کے مطابق یہ تعداد اس سے زیادہ ہے۔ ایرانی پارلیمان میں اس وقت اصلاح پسندوں کی اکثریت ہے جنہیں انیس سو ستانوے کے بعد ہونے والے تمام انتخابات میں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||