| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران: اصلاح پسند انتخابات سے باہر
ایران میں شوریٰ نگہبان نے آئندہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لئے سینکڑوں اصلاح پسند امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیئے ہیں۔ ایرانی آئین کے تحت شوریٰ نگہبان کو امیدواروں کی جانچ پڑتال کا اختیار حاصل ہے۔ ایرانی پارلیمان میں اصلاح پسند ارکان نے اتوار کو شوریٰ نگہبان کے اس فیصلے کے خلاف واک آؤٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ احتجاجً دھرنا بھی دیں گے۔ اطلاعات کے مطابق شوریٰ نگہبان نے بشمول ایران کے صدر محمد خاتمی کے بھائی اور ڈپٹی اسپیکر محمد رضا خاتمی کے ایک ہزار سات سو امیدواروں میں سے نصف کے کاغذات مسترد کر دیئے ہیں۔ محمد رضا خاتمی ملک کی سب سے بڑی اصلاح پسند جماعت کے سربراہ بھی ہیں۔ اس کے علاوہ عورتوں کے حقوق کے لئے لڑنے والی ملک کی معروف شخصیت الھہ کولائی کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتیں۔ تہران میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق صدر محمد خاتمی پر اصلاح پسندوں کی طرف سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ اگر ان کے خلاف فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا تو وہ استعفیٰ دے دیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||