| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عوام پُرامن رہیں: خاتمی کی اپیل
ایران کے صدر محمد خاتمی نے کہا ہے کہ اصلاح پسندوں کی اگلے ماہ ہونے والے عام انتخابات میں شریک ہونے پر لگائی جانے والی پابندی کو قانونی ذرائع سے حل کیا جانا چاہئے۔ صدر خاتمی نے جن کواس طرح کے معاملات کو حل کرنے کا اختیار حاصل ہے کہا کہ جب تک قانونی ذرائع کو استعمال نہیں کر لیا جاتا وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کریں گے۔ ایران میں روایت پسند زعماء کے انتہائی طاقتور ادارے شوریٰ نگہبان نے دو ہزار سے زائد اصلاح پسند امیدواروں کو اگلےماہ ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دے دیا ہے۔ صوبائی گورنروں نے جو ان انتخابات کی نگرانی کرتے ہیں دھمکی دی ہے کہ اگر اصلاح پسندوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے جبکہ اصلاح پسندوں کے اسی نمائندگان نے ایران کی پارلیمنٹ میں احتجاجی دھرنا دیا ہے۔ یورپی برادری کے خارجہ امور کے سربراہ ہاویر سولانہ نے جو تہران کا دورہ کررہے ہیں کہا ہے کہ ایرانی حکام کو پارلیمانی انتخابات کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیئں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں انتخابات نہایت اہمیت رکھتے ہیں اور ان کا شفاف اور منصفانہ ہونا بہت ضروری ہے۔ دریں اثنا صدر خاتمی نے ملک میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے پیشِ نظر لوگوں سے پُر سکون رہنے کی اپیل کی ہے جو آئندہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے والے تقریباً دو ہزار اصلاح پسندوں کو نا اہل قرار دیئے جانے سے پیدا ہوئی ہے۔ اس پابندی کی زد میں پارلیمان کے ستر سے زیادہ موجودہ اراکین بھی آ سکتے ہیں جو ملک کے انتہائی طاقتور ادارے شوریٰ نگہبان کی جانب سے عائد کی گئی ہے۔ شوریٰ میں قدامت پرستوں کا تسلط ہے۔ پابندیوں کے خلاف ملک میں صوبائی گورنروں نے مستعفی ہونے کی دھمکی دی ہے۔ جن امیدواروں کو نا اہل قرار دیا گیا ہے ان میں صدر محمد خاتمی کے بھائی بھی شامل ہیں۔ صدر خاتمی نے اس صورتِ حال پر اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ یہ نا اہلیاں اسلامی جمہوریت سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ خیال ہے کہ صدر خاتمی رہبرِ اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای اور پارلیمان کے سپیکر مہدی کروبی سے اس بحران کو ٹالنے کے لئے مذاکرات کرنے والے ہیں۔ صدر خاتمی نے کہا کہ ملک میں کسی قسم کی کوئی دھڑے بازی نہیں ہونی چاہیے۔ ’کسی دھڑے کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اسے کسی معاملے میں زیادہ حق پہنچتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ کسی کو محض اپنی فتح کے لئے دوسرے کا قلع قمع نہیں کرنا چاہیے۔ ’ہمیں قانون کے دائرہِ کار میں رہ کر عمل کرنا چاہیے اور عوام کو اپنے ووٹ کے استعمال کا بھر پور حق دینا چاہیے اور یہ کہ عوام کو اپنے نمائندوں کے انتخاب کا اختیار ہونا چاہیے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||