خاتمی انتخابات پر مجبور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کےصدر محمد خاتمی نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں پارلیمانی انتخابات پروگرام کے مطابق طے شدہ وقت پر ہوں گے۔ تاہم انہوں نے تنبیہہ کی ہے کہ دو ہزار سے زائد اصلاح پسند امیدواروں کو انتخابات سے باہر کرنے سے ووٹروں کا جوش وخروش ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بظاہر ایران کے صدر نےتسلیم کر لیا ہے کہ انتخابات موخر کرانے کی ان کی کوششیں بے سود رہی ہیں اور انہوں نے ملک کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنئی کے فیصلے کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ اصلاح پسندوں کے زبردست احتجاج کے باوجود پابندی لگنے والوں میں سے صرف دو سو کے قریب امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ موجودہ پارلیمان کے بہت سے ارکان سمیت تقریباً سب ہی معروف اصلاح پسند شخصیات پابندی لگنے کی وجہ سے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔ سب سے بڑی اصلاح پسند جماعت ’پارٹیسیپیشن فرنٹ‘ نے بیس فروری کو ہونے والے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دیگر گروپوں نے ابھی اِس سلسلے میں فیصلہ نہیں کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||