ایران: بحران جاری امیدیں ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کے بارے کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ متنازع انتخابات پہلے سے جاری شیڈول کے مطابق اسی ماہ کے آخر پر ہی ہونے چاہیں۔ اصلاح پسند ارکانِ پارلیمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی اس رائے کا اظہار ایران کے صدر محمد خاتمی سے ملاقات کے دوران کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات کے دوران ایران میں ہزارہا اصلاح پسند امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے استرداد اور انہیں انتخابات کے لیے نااہل قرار دے کر انتخابات سے باہر کرنے کے شورائے نگہباں کے فیصلے سے پیدا ہونے والے بحران پر غور کیا گیا۔ نااہل قرار دیے جانے والے ارکان میں وہ ارکان بھی شامل ہیں جو موجودہ پارلیمان کے رکن ہیں۔ توقع کی جا رہی تھی کہ آیت اللہ خامنہ ای مداخلت کر کے کوئی ایسا راستہ نکالیں گے کہ جس سے بحران کو دور ہو جائے گا۔ تاہم اب یہ تمام امیدیں ختم ہو چکی ہیں اور اصلاح پسند اعلان کر چکے ہیں کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔ جب کہ خود صدر محمد خاتمی کی جماعت مشارکت فرنٹ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کر چکی ہے۔ اس سے پہلے جب اصلاح پسند امیدواروں کو نااہل قرار دیا گیا تھا تو آیت اللہ علی خامنہ ای نے مداخلت کرتے ہوئے قدامت پسند شورائے نگہبان (گارڈین کونسل) سے کہا ہے کہ وہ ہزاروں امیدواروں کو نااہل کیے جانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ شورائے نگہبان کے پاس کافی وقت ہے کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے، تاکہ کسی کے حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے شوریٰ سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کونسل کو کسی کے دباؤ میں آ کر اپنا فیصلہ واپس لینا نہیں چاہیے۔ ان کا واضح اشارہ ان اصلاح پسندوں کی طرف تھا جنہوں نے نااہلی کے بعد پارلیمان سے جانے سے انکار کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||