| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی انتحابات: بائیکاٹ کی اپیل
ایران میں جہوریت کے حامی طلباء کے ایک گروہ نے اگلے ماہ کے پارلیمانی انتخابات کے موقع پر قومی بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل اصلاح پسندوں کے ہزاروں امیدواروں کے کاغذات مسترد ہونے کے بعد کی گئی ہے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ کے انتخابات میں حصہ لینے کا اس لئے کوئی فائدہ نہیں ہے کہ یہ انتخابات نہ آزادانہ ہوں گے اور نہ شفاف۔ ایک تحریری بیان میں طلباء کی تنظیم ’دفتر تحکيم وحدت تحريم‘ نے اصلاح پسندوں کے دھرنے کے احتجاج کی بھی حمایت کی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ خفیہ معاہدوں کا شکار نہ ہوں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ نظام کی خرابی کا ہے کیونکہ اس نظام کے تحت لوگوں کو اپنے فیصلے کرنے کے حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ موجود سیاسی تعطل سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پارلیمان اسلامی جمہوریہ کے مستقبل پر ریفرنڈم کرائے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ طلبا کی طرف سے بائیکاٹ کی اپیل حکومت کے باہر سے اصلاح پسندوں کے لئے حمایت کی پہلی نشانی ہے۔ یہ تنظیم جو سیاسی حوالے سے خاصی معتبر سمجھی جاتی ہے، پہلی بار کھل کر اصلاح پسندوں کے حق میں بیان دے رہی ہے۔ ماضی میں اس تنظیم نے اصلاح پسندوں پر تنقید بھی کی ہے اور انہیں وعدے نہ پورے کرنے کا الزام بھی دیا ہے۔ ایرانی صدر محمد خاتمی کہتے ہیں کہ شورائے نگہبان کی وجہ سے جو تنازعہ پیدا ہوا ہے اسے ابھی بھی حل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ان کے خیال میں کسی ایک امیدوار کو بھی غلط انداز سے نا اہل قرار دیا گیا تو وہ اس فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔ احتجاج کے بعد شورائے نگہبان نے نااہل ہونے والوں میں سے چھ سو پچاس امیدواروں کو بحال کر دیا ہے جبکہ باقیوں کے سلسلے میں فیصلہ اگلے چند دن میں متوقع ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||