BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 February, 2004, 20:04 GMT 01:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے‘
ایران میں اصلاح پسند رہنما محمد رضا خاتمی
ایران میں اصلاح پسند رہنما محمد رضا خاتمی
ایران میں اصلاح پسندوں کی سب سے بڑی جماعت ’اسلامی مشارکت فرنٹ‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بیس فروری کو ہونے والے ملک کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔

فرنٹ کے رہنما محمد رضا خاتمی نے کہا ہے کہ اب یہ امید دم توڑچکی ہے کہ یہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے۔

یہ فیصلہ ملک کے قدامت پرست نگراں ادارے کی جانب سے اصلاح پسند امیدواروں پر پابندی عائد کیے جانے کے معاملے پر انتہائی طویل بحث و مباحثے کے بعد کیا گیا ہے۔

اس قدامت پرست نگراں ادارے ’شوریٰ نگہبان‘ کی جانب سے تقریباً تمام اصلاح پسند امیدواروں کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

جن امیدواروں پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں فرنٹ کے رہنما اور ایرانی پارلیمان کے ڈپٹی سپیکر محمد رضا خاتمی بھی شامل ہیں جو ایران کے اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کے بھائی ہیں۔

محمد رضا خاتمی کا کہنا ہے ’ہمیں کوئی امید نہیں کہ بیس فروری کو آزادانہ، منصفانہ اور قانونی طور پر جائز انتخابات منعقد ہوسکتے ہیں تو موجودہ صورتحال میں ہم ان انتخابات میں شرکت نہیں کرسکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ فرنٹ اپنے امیدواروں کو صرف اسی صورت میں آگے لاسکتا ہے جب ان پر عائد پابندی ختم کی جائے اور انتخابات ملتوی کرکے انہیں اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ فرنٹ عوام سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے لیے نہیں کہہ رہا بلکہ ’حتمی فیصلہ ان کی مرضی پر منحصر ہے۔۔۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ فرنٹ کے بغیر ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں قدامت پرستوں کو کئی نشستوں پر بلامقابلہ کامیابی حاصل ہوسکتی ہے جو پارلیمان میں ان کو بالا دستی دلا سکتی ہے۔

ایران میں پارلیمان پر سن دو ہزار سے اصلاح پسندوں کی بالادستی قائم ہے جو پارلیمان کو سماجی اور سیاسی اصلاحات کے نفاذ کے لیے دباؤ ڈالے جانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

ہزاروں اصلاح پسند امیدواروں پر پابندی کے خلاف احتجاج کے طور پر اتوار کو تقریباً سو اصلاح پسند ارکان پاررلیمان نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ملک کے غیر منتخب بارہ رکنی نگراں ادارے ’شوریٰ نگہبان‘ نے جمعہ کو پابندی کا شکار ہونے والے تقریباً تین ہزار چھ سو اصلاح پسند امیدواروں کی ایک تہائی اکثریت کو بحال کردیا تھا تاہم یہ احتجاج کرنے والے اصلاح پسندوں کی جانب سے تمام امیدواروں کی بحالی کے مطالبے کے جواب میں انتہائی کم تعداد تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد