BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 February, 2004, 23:26 GMT 04:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایرانی انتخابات، خامنہ ای کا انتباہ
ایران
صدر خاتمی نے آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی جن کا فیصلہ تمام امور میں آخری تصور کیا جاتا ہے
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے انتخابات کے بارے میں شورائے نگہباں کے فیصلے کے خلاف احتجاج کو ’غیر اسلامی احتجاج‘ قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ بیس فروری کے انتحابات میں تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔

گزشتہ چوبیس گھنٹے میں یہ ان کا دوسرا سخت انتباہ ہے گزشتہ روز ان سے ایرانی صدر محمد خاتمی سے ملاقات کے بعد کہا گیا تھا کہ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ متنازع انتخابات پہلے سے طے شدہ وقت کے مطابق ہونے اس ماہ کے آخر پر ہی ہونے چاہیں۔

جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ شورائے نگہباں کی جانب سے کی جانے والی نااہلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال میں انتخابات کی تاریخ کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

گزشتہ روز کی ملاقات کے دوران ایران میں ہزارہا اصلاح پسند امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کے استرداد اور انہیں انتخابات کے لیے نااہل قرار دے کر انتخابات سے باہر کرنے کے شورائے نگہباں کے فیصلے سے پیدا ہونے والے بحران پر غور کیا گیا۔

نااہل قرار دیے جانے والے ارکان میں وہ ارکان بھی شامل ہیں جو موجودہ پارلیمان کے رکن ہیں۔ توقع کی جا رہی تھی کہ آیت اللہ خامنہ ای مداخلت کر کے کوئی ایسا راستہ نکالیں گے کہ جس سے بحران کو دور ہو جائے گا۔

تاہم اب یہ تمام امیدیں ختم ہو چکی ہیں اور اصلاح پسند اعلان کر چکے ہیں کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔ جب کہ خود صدر محمد خاتمی کی جماعت مشارکت فرنٹ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کر چکی ہے۔

اس سے پہلے جب اصلاح پسند امیدواروں کو نااہل قرار دیا گیا تھا تو آیت اللہ علی خامنہ ای نے مداخلت کرتے ہوئے قدامت پسند شورائے نگہبان (گارڈین کونسل) سے کہا ہے کہ وہ ہزاروں امیدواروں کو نااہل کیے جانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

علی خامنہ ای نے کہا تھا کہ شورائے نگہبان کے پاس کافی وقت ہے کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے، تاکہ کسی کے حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔

تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے شوریٰ سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ کونسل کو کسی کے دباؤ میں آ کر اپنا فیصلہ واپس لینا نہیں چاہیے۔ ان کا واضح اشارہ ان اصلاح پسندوں کی طرف تھا جنہوں نے نااہلی کے بعد پارلیمان سے جانے سے انکار کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد