BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 09 July, 2004, 17:29 GMT 22:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیلی دیوار: آپ کی رائے
 کیا اسرائیل پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہوگا؟
کیا اسرائیل پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہوگا؟
غربِ اردن میں اسرائیلی دیوار کی تعمیر کو عالمی عدالتِ انصاف ہیگ نے غیرقانونی قرار دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے ’فوجی ضرورتیں یا قومی سلامتی کے تقاضے یا امن و تحفظ کی بنا پر دیوار کو منصفانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

عدالت کے جج شیو جیو ینگ نے کہا ہے کہ ’اس دیوار کی تعمیر سے اسرائیل اس ذمہ داری کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو اس پر انسانیت کےعالمی قانون کے تحت عائد ہوتی ہے۔‘

اسرائیل نے ایک بار پھر کہا کہ وہ عالمی عدالت کے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ وہ اس دیوار کے ذریعے بمباروں کو آنے سے روکنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے اس فیصلے پر کہا ہے کہ عالمی عدالت سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے مناسب فورم نہیں ہے۔

کیا آپ عالمی عدالت کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں؟ کیا اس فیصلے کے نتیجے میں اسرائیل پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہوگا کہ وہ اس متنازعہ دیوار کی تعمیر روکے؟ آپ کا ردِّ عمل

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


مہر، بلجیم: اسرائیل کو عالمی عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے، فوری طور پر متنازعہ دیوار کو گرا دینا چاہیے اور فلسطینیوں پر ظلم بند کر دینا چاہیے۔

شہزیم راجہ، پاکستان:
عالمی عدالت کے اس فیصلے سے اسرائیل کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

فیصل علی خان، حیدرآباد:
عالمی عدالت کا فیصلہ ہم سب مسلمانوں کا فیصلہ ہے۔ میں عالمی عدالت کو سلام کرتا ہوں۔

عبدالرحیم، کینیڈا:
اسرائیل نے عالمی عدالت کا فیصلہ ماننے سے انکار کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آج دنیا میں انسانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون رائج الوقت ہے۔

محمد اظہر فاروق، چیچہ وطنی:
اگر دیوار برلن گرائی جا سکتی ہے تو دیوار اسرائیل کیوں نہیں گرائی جا سکتی۔ لیکن مجبوری یہ ہے کہ جرمنی اور اسرائیل میں بہت فرق ہے۔ اگر ایسے فیصلوں پر عمل ہونا ہوتا تو کشمیر کب کا آزاد ہو گیا ہوتا۔ واقعی یہ فیصلہ تاریخ کے کوڑے دان میں جائے گا۔

عملدرآمد
 فیصلہ توٹھیک ہے مگر عالمی عدالت صرف نام کی ہے۔ اس کے پاس عمل درآمد کرنے کی کوئی طاقت کہاں ہے۔ دیوار کے دونوں طرف زندگی قابل ترس ہے۔
فرانسس زیویر، پیرس، فرانس

فیصل آغا، تھائی لینڈ:
یہ فیصلہ انسانی حقوق کے آئین کے مطابق ہے مگر اسرائیل کے لئے یہ اور اس طرح کے دوسرے فیصلے کوئی معنی نہیں رکھتے کیونکہ اس کو تو انسانی حقوق ہی نظر نہیں آتے۔

فیروز درانی، متحدہ عرب امارات:
یہ ایک صحیح فیصلہ ہے لیکن اب اس پر عمل درآمد بھی ہونا چاہیے۔

فرانسس زیویر، پیرس، فرانس:
ایک دن پوپ جان پال نے کہا تھا کہ دیواریں نہیں پل بنانے کی ضرورت ہے۔ فیصلہ توٹھیک ہے مگر عالمی عدالت صرف نام کی ہے۔ اس کے پاس عمل درآمد کرنے کی کوئی طاقت کہاں ہے۔ دیوار کے دونوں طرف زندگی قابل ترس ہے۔

سید ارشد عالم، اسلام آباد، پاکستان:
یہ ایک موزوں اور انصاف پر مبنی فیصلہ ہے۔ ہمارے مسلمان رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ عالمی عدالت کے فیصلے کو مانےاور اقوام متحدہ پر زور دیں کہ اس فیصلے پر جلد از جلد عمل درآمد کرے۔

طارق حبیب، لندن، برطانیہ:
میں اس فیصلے سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ اسرائیل کو عالمی عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔

حانی محمد، مانسہرہ، پاکستان:
یہ ایک عالمی حقیقت ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ اس لیے ہمیں اس مثبت فیصلے پر عمل درآمد کی توقع نہیں ہے۔ جنگل میں تو کوئی قانون نہیں ہوتا۔

جج کا تبادلہ
 عالمی عدالت کے جج کا تبادلہ ہوگا یا اس کی تنخواہ روک لی جائے گی
سلیم خان، ممبئی، بھارت

سلیم خان، ممبئی، بھارت:
دیوار تو نہیں گرائی جائے گی مگر ان چند باتوں میں سے کچھ تو ہو سکتا ہے۔ عالمی عدالت کے جج کا تبادلہ ہوگا یا اس کی تنخواہ روک لی جائے گی یا پھر اس کا قتل ہوگا۔ یا پھر عالمی عدالت ہی ختم کی جائے گی۔ عالمی عدالت کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس کے فیصلوں کا کوئی احترام ہونے والا نہیں ہے۔

سید معراج ربانی، بنگلور، بھارت:
دیوار گرا دی جائے۔

مسعود ریاض، میرپور، پاکستان:
اسرائیل بے لگام گھوڑا ہے۔ لاکھوں بے گناہ لوگوں کا خون بہا کر اسرائیل نے بہت ظلم کیا۔ اب اگر عدالت نے اسرائیل کی غیرقانونی دیوار کے خلاف فیصلہ دیا ہے تو امریکہ کو چاہیے کہ وہ اسرائیل سے اس فیصلے پر عمل کروائے ورنہ مسلمانوں کو انصاف کی بالکل امید نہیں۔

تنویر راجا، راولپنڈی، پاکستان:
برصغیر میں یہ عام کہاوت ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ ہم لوگ جمہوریت اور ترقی یافتہ دور سے گزر رہے ہیں لیکن سب کا خیال ہے کہ یہ اخلاقی اور جمہوری باتیں صرف میڈیا اور اسٹیج کی باتیں ہیں عملی طور پر کچھ نہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ اخلاقیات اور قانون نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے جن کے پاس طاقت ہوتی ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ اس فیصلے سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ واحد سپر طاقت ہے جو اسرائیل کے پیچھے ہے۔ اقوام متحدہ بڑی طاقتوں کی لونڈی ہے۔ غریب قوموں کے لیے ایسا کوئی فورم نہیں جہاں پر وہ اپنی آواز اٹھا سکیں اور اپنے انصاف پر مبنی فیصلوں پر عمل درآمد کروا سکیں۔ پہلے بھی اس طرح کا کچھ نہیں تھا اور اب بھی ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ فلسطینی مائیں اب بھی روتی رہیں گی اور فلسطینی باپ اب بھی اپنے نوجوان بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔ جمہوریت پسند لوگ ان کو دیکھتے رہیں گے اور ان کے بارے میں اخبارات میں لکھتے رہیں گے اور امریکہ اور اسرائیل کو بچاتے رہیں گے۔

حیرانگی
 مجھے اس بات پر بہت حیرانگی ہے کہ عالمی عدالت کا فیصلہ اسرائیل کے خلاف ہے۔
ماجد، اسلام آباد، پاکستان

ماجد، اسلام آباد، پاکستان:
مجھے اس بات پر بہت حیرانگی ہے کہ عالمی عدالت کا فیصلہ اسرائیل کے خلاف ہے۔

مجاہد، ورجینیا، امریکہ:
میں تو اقوام متحدہ کی صداقت پر ہی یقین نہیں رکھتا۔ دنیا کے تمام مسلمانوں کو اب تک پتہ چل جانا چاہیے کہ اقوام متحدہ مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ ان کی تباہی کے لیے ہے۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کب سب متحد ہو کر اسرائیل کے خلاف ویسے ہی پابندیا ں لگائیں گے جیسے عراق کے خلاف لگائی گئی تھیں۔ ایسا ہونا مشکل لگتا ہے۔

انجم سعید، امریکہ:
اسرائیل سے نہیں امریکہ سے کہو دیوار گرائے۔ تمام دنیا کی عدالتیں اور عالمی عدالت مل کر بھی دیوار نہیں گرا سکتی جب تک امریکہ نہ چاہے۔

حضرت علی خٹک، چترال، پاکستان:
حقیقت پسندی کا تقاضہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کی قیادت ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں اور عالمی رائے عامہ کے مطابق اس فیصلے کا حل نکالیں۔

عارف بلوچ، کراچی، پاکستان:
یقیناً امریکہ اور اسرائیل اس فیصلے کو خاطر میں نہیں لائیں گے مگر یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مظالم مزید ظاہر ہوں گے اور امریکہ کے خلاف مزاحمت کی ہمدردی میں اضافہ ہوگا۔

فرخ قدیر بٹ، لاہور، پاکستان:
اندھے کو کیا چاہیے؟ دو آنکھیں۔

طاہر نواز کاہوت، سرگودھا، پاکستان:
جی ہاں میں اس تجویز سے متفق ہوں۔

محمد اسلم غوری، کراچی، پاکستان:
کیا اس دنیا میں امریکہ اور اسرائیل کے علاوہ بھی کوئی ملک ہے جو اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا؟

حسین احمد، فیصل آباد، پاکستان:
میرا خیال ہے عالمی عدالت کا یہ فیصلہ اس وقت تک کارآمد ثابت نہیں ہوگا جب تک عالمی قوتیں سنجیدگی سے اسرائیل کو لگام دینا نہ چاہیں۔

خلیل الرحمن سید، کراچی، پاکستان:
میرا خیال ہے کہ عالمی عدالت کا فیصلہ بے فائدہ ہے اس لیے کہ جب تک عالمی طاقتیں مل کر اسرائیل کو اس کی مظالم سے نہیں روکیں گی۔ ہمیں عالمی عدالت کو مبارک دینی چاہیے کہ اس نے یہ جرات مندانہ فیصلہ کیا ہے۔

علی رضا سید، کراچی، پاکستان:
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ اسرائیل کی بنیاد امریکی جرائم کی تحریک کا ایک حصہ ہے۔ وقت گزرنے دیں دنیا کی ہر عدالت اور صحیح ذہن رکھنے والا امریکہ اور اسرائیل کے جرائم کے خلاف آواز اٹھائے گا۔ یہ دیوار چاہے کچھ ہوجائے نہیں رہے گی اور اسرائیل کے وجود کے ساتھ اس کے مستقبل کی طرح ڈھیر ہو جائے گی۔

افصل محمد، کینیڈا:
اقوام متحدہ یا عالمی عدالت یا دوسری بڑی بڑی کمیٹیاں یہ سب صرف نام کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔ اگر کچھ ہوتے تو آج دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے وہ سب نہ ہوتا۔ اللہ انسانیت کو اپنے امان میں رکھے۔

احمد صدیقی، کراچی، پاکستان:
مسئلہ صرف دیوار کا نہیں یہ پورا علاقہ فلسطینیوں کا ہے۔ اس پر باہر سے آئے ہوئے یہودیوں کا کوئی حق نہیں۔

اظہر بیگ مرزا، جاپان:
عالمی عدالت ہی نہیں بلکہ پورے دنیا بھر کی کی عدالتیں بھی اسرائیل کے خلاف فیصلہ دے دیں تو اس وقت تک کچھ نہیں ہو سکتا جب تک امریکہ نہ چاہے۔

امریکی پشت پناہی
 عالمی عدالت ہی نہیں بلکہ پورے دنیا بھر کی کی عدالتیں بھی اسرائیل کے خلاف فیصلہ دے دیں تو اس وقت تک کچھ نہیں ہو سکتا جب تک امریکہ نہ چاہے
اظہر بیگ مرزا، جاپان

اکبر نیازی، راولپنڈی:
قابض ممالک جو دوسروں سے ان کی سرزمین چھین لیتے ہیں، ان کے لئے عالمی عدالت کا یہ فیصلہ بالکل ٹھیک ہے۔ اس دیوار کو گرنا چاہیے کیونکہ انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور سب کو جینے کا حق ہو نا چاہیے۔

ظہیرالدین بابر، خرد، پاکستان:
عالمی عدالت کا بالکل صحیح فیصلہ ہے اور اس کا حکم سب کے لئے برابر ہونا چاہیے، یہ نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل جو مرضی کریں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔

اشتیاق احمد، متحدہ عرب امارات:
میں اس فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ امریکہ کے علاوہ اسرائیل کو دیوار کی تعمیر سے کوئی نہیں روک سکتا۔

خان، پاکستان:
دیوار کی تعمیر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ علاقہ تو فلسطین کا ہے اور اسرائیل ظلم کر رہا ہے۔

جاوید جمال الدین، انڈیا:
اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں ابھی انصاف باقی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس پر کس حد تک عمل کیا جا سکے گا کیونکہ اسرائیل نے ہمیشہ عالمی برادری کے فیصلوں کی دھجیاں اڑائی ہیں۔

عمل درآمد
 اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں ابھی انصاف باقی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس پر کس حد تک عمل کیا جا سکے گا کیونکہ اسرائیل نے ہمیشہ عالمی برادری کے فیصلوں کی دھجیاں اڑائی ہیں۔
جاوید جمال الدین، انڈیا

سلیم اختر، سعودی عرب:
یہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی ہے کہ وہ عالمی عدالت کے فیصلے کو تسلیم نہیں کر رہا۔ کیا امریکہ کو نظر آ رہا ہے؟

محمد سہیل انصاری، انڈیا:
بے شک یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ لیکن امریکہ اور یورپ کا جو ردعمل آیا ہے، وہ اسرائیل کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے کافی ہے۔ اسرائیل پر عالمی دباؤ بہت ضروری ہے۔

محمد عبداللطیف، ساؤتھ افریقہ:
جسں طرح دیوار برلن گرائی گئی تھی، اسی طرح اس دیوار کو بھی گرنا چاہیے۔

محمد فدا، کینیڈا:
ہم نے تاریخ میں بہت سی دیواریں دیکھی ہیں جیسے دیوار چین وغیرہ اور اب دیوار اسرائیل۔ عالمی عدالت کے فیصلے پر عمل ہونا چاہیے۔ لیکن جلد ہی دنیا کو اسرائیل کے نقطہ نظر کوبھی سمجھنا پڑے گا۔

عبدل المالک، رحیم یار خان:
اسرائیل اور امریکہ دونوں دہشت کے مرکز ہیں۔ اور اقوام متحدہ، عالمی عدالت اور بین الاقوامی رائے عامہ کا خیال نہیں کرتے۔

ضمیر کی عدالت
 یہ کیسی عدالت ہے جسے دیوار تو نظر آتی ہے لیکن اس کے پار ہونے والا ظلم نظر نہیں آتا۔ یہ دیوار تو گر ہی جائے گی، اصل ضرورت ضمیر اور انسانیت پر پڑی دیوار کو گرانے کی ہے۔
فیصل چانڈیو، حیدرآباد

علی جی، اسلام آباد:
اگر اسرائیل عالمی عدالت کے فیصلے پر عمل نہیں کرتا تو مسلمان قوتوں کو یکجا ہو کے اس کے خلاف اقوام متحدہ میں جانا چاہیے۔

عمر آفتاب، برطانیہ:
نجانے مسلمانوں کو کب سمجھ آئے گی کہ طاقت ہی سچی ہوتی ہے۔ جو کچھ عراق میں ہوا، کیا اس کے بعد بھی عالمی عدالت اور اقوام متحدہ جیسے اداروں کی کوئی اہمیت باقی ہے۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد:
یہ کیسی عدالت ہے جسے دیوار تو نظر آتی ہے لیکن اس کے پار ہونے والا ظلم نظر نہیں آتا۔ یہ دیوار تو گر ہی جائے گی، اصل ضرورت ضمیر اور انسانیت پر پڑی دیوار کو گرانے کی ہے۔

خورشید احمد، خوشاب:
امریکہ اور یورپ دیوار کا فسانہ بنا کر مسئلہ فلسطین کی اہمیت کم کرنا چاہتے ہیں۔امریکہ اسرائیل کی پشت پناہی چھوڑ دے، اسرائیل آج سیدھا ہو جائے گا۔

نعمان احمد، راولپنڈی:
یہ فیصلہ فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ اسرائیل نے پہلے کبھی عالمی اداروں کے فیصلوں کی پابندی کی ہے جو وہ اب کرے گا۔

ذوالفقار علی سجاد، سمندری:
اقوام متحدہ کو عالمی عدالت کے فیصلوں پر اب بذور طاقت عمل کرانا چاہیے۔

عالمی عدالت
 ہا ہا ہا۔ بیچاری عالمی عدالت! اب اس کی بھی خیر نہیں۔
سرفراز احمد صدیقی، کینیڈا

سرفراز احمد صدیقی، کینیڈا:
ہا ہا ہا۔ بیچاری عالمی عدالت! اب اس کی بھی خیر نہیں۔

وسیم محمود، امریکہ:
جب تک امریکہ بہادر اسرائیل کے ساتھ ہے، اس وقت تک کچھ نہیں ہو گا۔ یہ فیصلہ ایک فائل کی زینت بن جائے گا۔

محمد جمیل، جرمنی:
اسرائیل سے عالمی عدالت کے فیصلے کی پابندی کروائی جائے ورنہ یہ عدالت مذاق بن جائی گی۔

ہیملٹ سینئر، برطانیہ:
عدالت کا فیصلہ یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ دیوار اسرائیل کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ اگر اس فیصلے پر عمل کیا جائے تو یہ مشرق وسطی کی مسئلے کے حل کی طرف پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

امین خان راجپوت، کراچی:
اسرائیل کو دیوار گرانے کے ساتھ ساتھ دلوں میں چھپا تعصب بھی دھونا چاہیے۔

انصاف کا تقاضا
 عالمی عدالت کا یہ فیصلہ انصاف پر مبنی ہے۔ اقوام متحدہ کو اس پر عمل کروانا چاہیے ورنہ دنیا میں انصاف قائم نہ ہو سکے گا
ہلال باری، برطانیہ

فضل حسین لغاری، ایران:
اسرئیل اس فیصلے کی پابندی نہیں کرے گا کیونکہ اس نے آج تک عالمی برادری کے کسی فیصلے کی پابندی نہیں کی۔

ہلال باری، برطانیہ:
عالمی عدالت کا یہ فیصلہ انصاف پر مبنی ہے۔ اقوام متحدہ کو اس پر عمل کروانا چاہیے ورنہ دنیا میں انصاف قائم نہ ہو سکے گا۔

راحت ملک، راولپنڈی:
عالمی عدالت نے یہ فیصلہ دے کر بہت جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسرائیل کو یہ فیصلہ مان لینا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد