مشرقی یروشلم: فلسطینی ووٹر واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی انتخابات میں ووٹنگ کے آغاز میں یروشلم کے ایک پولنگ سٹیشن پر سینکڑوں افراد کو ووٹ ڈالنے سے روک دیا گیا ہے۔ فلسطینیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کاغذات مکمل ہونے کے باوجود اسرائیلی حکام نے انہیں واپس بھیج دیا۔ سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے جو اس وقت پولنگ سٹیشن پر موجود تھے کہا کہ ووٹنگ ٹھیک نہیں ہو رہی۔ بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ نے مشرقی یروشلم کے سب سے بڑے پولنگ سٹیشن سے افراتفری کی اطلاع دی ہے۔ انتخابات کے ایک مانیٹر نے بتایا کہ ان کے خیال میں پانچ سو افراد کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا ہے۔ مشرقی یروشلم میں ووٹ ڈالنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس علاقے کا اس کے ساتھ الحاق ہو چکا ہے اور اسے اپنے دائرہ اختیار میں قرار دیتا ہے جبکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ مقبوضہ علاقہ ہے۔ مشرقی یروشلم میں فلسطینی اسرائیلی ڈاکخانے جا کر ووٹ ڈالتے ہیں۔ غرب اردن اور غزہ میں فلسطینیوں کو ووٹ ڈاکنے کے لیے اسرائیلی چوکیوں اور ناکوں سے ہو کر گزرنا پڑ رہا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ کا صدر منتخب کرنے کے لیے انیس سو چھیانوے کے بعد یہ پہلے انتخابات ہیں۔ گیارہ لاکھ فلسطینی ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ان انتخابات میں سات امیدوار میدان میں ہیں۔ الفتح پارٹی کے محمود عباس کو سب سے زیادہ مقبول امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔ جمہوریت پسند آزاد امیدوار مصطفیٰ برغوتی ان کے قریب ترین حریف ہیں۔ مبصرین کے مطابق محمود عباس کو اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے واضح کامیابی یا دو تہائی ووٹوں کی ضرورت ہے۔ انتخابات کے نتائج کا اعلان پیر تک متوقع ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے اس نے انتخابات کے موقع پر ممکن حد تک سفری پابندیاں نرم کی ہیں۔ لیکن کچھ فلسطینیوں کے نزدیک یہ ناکافی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||