BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تشدد کا دور اب ختم ہونا چاہیئے‘
محمود عباس
محمود عباس غزہ جا کر شدت پسندوں سے بات کرنا چاہتے ہیں
فلسطینی حکام کے مطابق نومنتخب صدر محمود عباس پیر کے روز مقبوضہ غزہ کی پٹی جارہے ہیں تاکہ شدت پسند گروپوں کو اسرائیلیوں پر حملے روکنے پر آمادہ کیا جاسکے۔

گزشتہ روز اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہوئے محمود عباس نے تشدد کے سلسلے کو روکنے کی اپیل کی تھی لیکن ان کی صدارت کے آغاز پر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں سات فلسطینیوں کی ہلاکت سایہ فگن رہی جبکہ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے اندر ایک راکٹ داغے جانے سے ایک اسرائیلی عورت بھی زخمی ہوئی۔

یاسر عرفات کے جانشین کے طور پر انتخابات میں بھاری اکثریت سے محمود عباس کی جیت سے مساعئی امن کے دوبارہ شروع ہونے کی امید بندھی تھی لیکن جمعرات کے روز ایک حملے میں چھ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے محمود عباس سے تمام رابطے معطل کردیے ہیں۔

اس سے قبل حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد غرب اردن کے شہر رملہ میں ایک تقریب کے دوران محمود عباس نے فلسطینی انتظامیہ کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

حلف اٹھانے کے بعد محمود عباس نے فلسطینی گروہوں اور اسرائیلی فورسز دونوں کی جانب سے ہونے والے تشدد کی مذمت کی اور اسرائیل کے ساتھ فائربندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

حلف برداری سے ایک دن قبل اسرائیلی وزیراعظم شیرون نے فلسطینیوں کے ساتھ اس وقت تک تمام رابطے منقطع کرنے کا حکم دیا جب تک محمود عباس شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔

ایریل شیرون نے یہ فیصلہ جمعرات کی شب غزہ میں ایک چیک پوائنٹ پر فلسطینی شدت پسندوں کے حملے میں چھ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کیا۔

بعض فلسطینی گروہوں نے وزیراعظم شیرون کے فیصلے پر غصے کا اظہار کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ اسرائیلی محمود عباس کو حالات بہتر کرنے کا موقع نہیں دینا چاہتے۔

محمود عباس عرف ابو ماذن کو ایک اعتدال پسند رہنما سمجھا جاتا ہے۔ وہ گزشتہ اتوار کے روز منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ انہوں نے مذاکرات کے ذریعے فلسطینی شدت پسندوں کو قابو میں کرنے کی بات کی ہے۔

انتخابات میں کامیابی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون نے محمود عباس کو فون کرکے مبارکباد دی تھی اور ’جلد ہی‘ ملاقات کی بات کہی تھی۔ دو روز قبل تک فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پیش رفت کے امکان کا اظہار کیا جارہا تھا۔

محمود عباسجنگ آزادی کا سپاہی
محمود عباس کے سیاسی سفر کا ایک جائزہ
محمود عباسامید کی کرن
محمود عباس کی جیت پر عالمی توقعات میں اضافہ
فلسطینی انتخاباتفلسطینی انتخابات
فلسطینی انتخابات کے بارے میں آپ کے تاثرات؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد