BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 January, 2005, 07:08 GMT 12:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل کو امن کی پیشکش
محمود عباس
محمود عباس اپنی فتح پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں
فلسطینی رہنما محمود عباس نے اتوار کے روز ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد اسرائیل کو امن کی پیش کش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم امن کے لیے تیار ہیں، امن جو عدل پر مبنی ہو۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ان (اسرائیل) کا ردِعمل مثبت ہو گا‘۔

صدر بش نے محمود عباس کو واشنگٹن آنے کی دعوت دی ہے۔ یہ ایک ایسی پیشکش ہے جو کہ انہوں نے مرحوم رہنما یاسر عرفات کو کبھی بھی نہیں کی تھی۔

صدر بش نے فلسطینی صدر کو کہا کہ وہ آزاد اور جمہوری فلسطین کے قیام اور سکیورٹی، دہشت گردی اور اقتصادی ترقی کے لیے ان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

صدر بش نے اسرائیل سے بھی کہا کہ وہ ان علاقوں کو خالی کرے جن کو خالی کرنے کا اس نے وعدہ کیا ہے۔

محمود عباس نے بھاری اکثریت سے فلسطین کے نئے صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی کامیابی ’یاسر عرفات کی روح‘ اور تمام فلسطینیوں کے لیے ہے۔

فلسطینی
فلسطینی جشن منا رہے ہیں

محمود عباس نے جنہیں ابو معاذن بھی کہا جاتا ہے 62.3 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ جبکہ ووٹوں کو کل ٹرن آؤٹ 66 فیصد رہا۔

محمود عباس کے واحد نمایاں حریف انسانی حقوق اور جمہوریت کے سرگرم کارکن مصطفیٰ برعوثی نے اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں انتہائی خوشی اور فخر محسوس کر رہا ہوں۔ ہم نے ان انتخابات سے ساری دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ ہم جمہوریت قائم کرنے کے اہل ہیں۔ ہم نے بہت اچھے نتائج حاصل کیے ہیں اور اب ہم فلسطین کی دوسری اور حماس سے بھی بڑی طاقت ہیں۔‘

عسکریت کی حامی حماس اور اسلامی جہاد نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس بائیکاٹ اور اسرائیلی رکاوٹوں کے باوجود چھیاسٹھ فیصد ووٹروں نے حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

حماس کے ایک ترجمان محمود ظہر نے بی بی سی کو بتایا کہ نئے صدر کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ اسرائیل انہیں موقعہ ہی نہیں دے گا۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ انتخابات کے بائیکاٹ کے باوجود وہ محمود عباس کے ساتھ کام کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد