فلسطین کے ساتھ رابطےمنقطع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے فلسطینیوں کے ساتھ اس وقت تک تمام رابطے منقطع کرنے کا حکم دیا ہے جب تک فلسطین کے نو منتخب رہنما عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔ یہ اعلان جمعرات کی رات غزہ میں ایک چیک پوائینٹ پر حملے میں چھ اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد کیا گیا۔ یہ حملہ محمود عباس کے لیے سیاسی طور پر ایک بڑا دھچکہ ہے جو اتوار کو ہی ملک کے رہنما منتخب ہوئے ہیں اور یہ امیدیں کی جارہی تھیں کہ وہ امن کی سمت نئے اقدامات کریں گے۔ مسٹر عباس کے انتخاب کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نے انہیں ٹیلی فون کرکے مبارک باد دی تھی اور ان سے جلدی ملاقات کی امید بھی ظاہر کی تھی۔ لیکن جمعہ کے دن اس ملاقات کی امیدیں معدوم ہوتی نظر آنے لگیں۔ ایریل شیرون کے ترجمان نے بتایا کہ اسرائیل نے آج بین الاقوامی رہنماؤں کو آگاہ کر دیا ہے کہ مسٹر عباس سے اس وقت تک کوئی ملاقات نہیں ہوگی جب تک وہ تشدد کے واقعات کو روکنے کی حقیقی کوششیں نہیں کرتے۔ فلسطینی کابینہ کے ایک وزیر سائب اراکات نے ان خبروں کی تصدیق کی ہے۔ حملے کے لیے تین فلسطینی گروپوں نے مشترکہ ذمہ داری قبول کی ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس کی الفتح تنظیم سے منسلک الاقصٰی شہداء ، حماس اور عوامی مزاحمتی تحریک نے مشترکہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ کارنی میں ایک حملے میں تین فلسطینی بندوق بردار ہلاک ہوگئے ۔ محمود عباس کا کہنا تھا کہ کارنی میں فائرنگ اور بمباری اور اسرائیلی فوجی کارروائی سے امن کی کوششوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ گزشتہ ایک ہفتے میں غزہ میں اسرائیلی کاروائیوں میں کئی فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں وہ شخص بھی شامل ہے جو اپنے پڑوس کی ایک حملہ خاتون کو اسپتال لے جا رہا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||