ایک اسرائیلی، دو شدت پسند ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ کی پٹی میں یہودی بستی پر ایک حملے کے نتیجے میں ایک اسرائیلی شہری اور دو شدت پسند ہلاک اور تین اسرائیلی فوجی زخمی ہو گئے ہیں۔ فلسطینی شدت پسند گروپ اسلامی جہاد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوجیوں نےغربِ اردن میں رملہ کے نزدیک دو فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ فلسطینی انتخابات کے بعد یہ اسرائیل کی طرف سے پہلی کارروائی تھی۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے غزہ شہر سے چار شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ اس کے شدت پسند ایک خود کش مشن پر تھے جب انہوں نے تازہ ترین کارروائی کی۔ یہودی بستی کے قریب رہائش پذیر فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے ایک دھماکے کی آواز سنی اور بعد میں فائرنگ شروع ہو گئی۔ رملہ کے قریب واقع میں اسرائیلی فوج کے بقول اس نے حماس کے دو شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان شدت پسندوں نے اس وقت فائرنگ کی تھی جب فوج انہیں گرفتار کرنے آئی۔ تشدد کے یہ واقعات محمود عباس کے صدر منتخب ہونے کے محض دو دن بعد ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||