فلسطینی حملہ ، چھ اسرائیلی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقبوضہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی سرحد پر ایک چیک پوائنٹ پر کیے گئے فلسطینی حملے میں کم ازکم چھ اسرائیلی ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ اسرائیلی ذرائع کے مطابق مزید کئی اسرائیلی زخمی بھی ہیں۔ حملے میں تین فلسطینی فدائی حملہ آور بھی مارے گئے۔ حملے کے لیے تین فلسطینی گروپوں نے مشترکہ ذمہ داری قبول کی ہے۔ حملہ کارنی کے اس چیک پوائنٹ پر کیا گیا جو مقبوضہ غزہ کی پٹی اور اسرائیلی سرحد کے درمیان واقع ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق پہلے تو ایک ٹرک چیک پوائنٹ کی دیوار سے ٹکرایا اور پھر اس سے بننے والے سوراخ سے تین فدائی حملہ آور اندر گھس آئے۔ خودکش حملہ آوروں نے فائرنگ کی اور دھماکہ خیز مواد بھی استعمال کیا جس سے کم ازکم پانچ اسرائیلی ہلاک ہوگئے جبکہ اسرائیلیوں کی جوابی فائرنگ سے فدائی حملہ آور بھی مارے گئے۔ واقعے کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس کی الفتح تنظیم سے منسلک الاقصٰی شہداء ، حماس اور عوامی مزاحمتی تحریک نے مشترکہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ کارنی اسرائیل اور مقبوضہ غزہ کی درمیان افراد اور اشیاء کے تبادلے کا اہم ترین راستہ ہے۔ بریگیڈ چند روز پہلے منتخب ہونے والے فلسطینی صدر محمود عباس نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ شدت پسند فلسطینی تنظیموں کو اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر قائل کرلیں گے۔ اس حملے کے بعد اسرائیلی جنگی ہیلی کوپٹروں نے مقبوضہ غزہ کی پٹی کے مرکزی حصے میں ایک عمارت پر دو میزائیل بھی برسائے جس کے لیے اسرائیلیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اسلامی جہاد کے زیراستعمال تھی۔ اسرائیل اس برس مقبوضہ غزہ سے یکطرفہ انخلاء کا منصوبہ بنارہا ہے تاہم اس کے بعد بھی وہ غزہ کی بحری ، بری اور فضائی حدود کا کنٹرول اپنے پاس ہی رکھے گا۔ حماس اور دوسری فلسطینی تنظیمیں اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ اسرائیلی انخلاء کو اس طرح کے حملوں کے ذریعےفوجی پسپائی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||