اسرائیلی فوج کو سختی کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیرِاعظم ایریئل شیرون نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی فوجوں کو فلسطینی شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے کھلی چھٹی دے دی ہے۔ مسٹرشیرون نےاپنی کابینہ سے کہا کہ فلسطینی قیادت میں تبدیلی کے باوجود ہمیں شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کا انتظار ہے۔ مسٹر شیرون نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج اور سیکیورٹی فورسز کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ بلاروک ٹوک ہر قسم کے اقدامات کر سکتے ہیں۔ دوسری طرف فلسطین کے نومنتخب صدرمحمود عباس نے شدت پسندوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف کاروائیاں ختم کرنے کی کوشش کے سلسلہ میں غزہ کا دورہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ سنیچر کو رملہ میں اپنی افتتاحی تقریر میں صدرعباس نے فلسطینی شدت پسندوں اور اسرائیل کے درمیان امن کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ محمود عباس نے مزید کہا کہ وہ ان واقعات کی مذمت کرتے ہیں، چاہے یہ اسرائیل کی مقبوضہ فوج کی طرف سے ہوں یا ان کے جواب میں کچھ فلسطینی دھڑوں کی جانب سے۔ ’اس قسم کی کاروائیاں قیامِ امن کے لیے سنجیدہ بات چیت کا ماحول پیدا کرنے میں قطعًا معاون ثابت نہیں ہوں گی۔ ہماری کوشش ایک دو طرفہ جنگ بندی ہے جس سے دہشت گردی کے موجودہ چکر سے نکلا جا سکے۔‘ محمودعباس نے اسرائیل کے ساتھ حتمی امن معاہدہ کے بارے میں کہا کہ انہوں نےاسرائیلی کی طرف امن کا ھاتھ بڑھا دیا ہے۔ صدر عباس نےاسرائیل کے اس مطالبہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جس میں ان سے شدت پسندوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کے لیے کہا گیا تھا۔ مسٹرعباس کی تقریر پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم ایرئیل شیرون کے ایک معتمد زلمان شوول نے کہا کہ اسرائیل جمعرات کو ہونے والے فلسطینی حملے پر محمود عباس کے ردِعمل سے خاصامایوس ہوا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسٹر شوول نے کہا اسرائیل کی طرف سے محمود عباس کے ساتھ رابطہ منقطع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ’انہیں معلوم ہو کہ ہم اس قسم کی کاروائیاں برداشت نہیں کریں گے‘۔ دوسری طرف محمود عباس کی فتح پارٹی سے منسلک الاقصٰی بریگیڈ کےایک ترجمان نے کہا کہ وہ اس وقت تک حملے نہیں روک سکتے جب تک اسرائیل مقبوضہ فلسطینی سرزمین سے نکل نہیں جاتا۔ اسی طرح حماس کی شام کی تنظیم کے ایک سینئر ترجمان موسٰی ابومرضو نے کہا ہے کہ ان کا گروپ جنگ بندی کے لئے تیار نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||