محمود عباس کی حلف برداری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد غرب اردن کے شہر رملہ میں ایک تقریب کے دوران محمود عباس نے فلسطینی انتظامیہ کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف اٹھانے کے بعد محمود عباس نے فلسطینی گروہوں اور اسرائیلی فورسز دونوں کی جانب سے ہونے والے تشدد کی مذمت کی اور اسرائیل کے ساتھ فائربندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کی حلف برداری کی تقریب کے شروع ہوتے ہی غزہ کے مشرقی مضافات میں اسرائیلی فوج کی نئی دراندازی میں دو فلسطینی ہلاک ہوگئے۔ حلف برداری سے ایک دن قبل اسرائیلی وزیراعظم شیرون نے فلسطینیوں کے ساتھ اس وقت تک تمام رابطے منقطع کرنے کا حکم دیا جب تک محمود عباس شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتے۔ ایریئل شیرون نے یہ فیصلہ جمعرات کی شب غزہ میں ایک چیک پوائنٹ پر فلسطینی شدت پسندوں کے حملے میں چھ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کیا ہے۔ بعض فلسطینی گروہوں نے وزیراعظم شیرون کے فیصلے پر غصے کا اظہار کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ اسرائیلی محمود عباس کو حالات بہتر کرنے کا موقع نہیں دینا چاہتے۔ محمود عباس عرف ابو ماذن کو ایک اعتدال پسند رہنما سمجھا جاتا ہے۔ وہ گزشتہ اتوار کے روز منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ انہوں نے مذاکرات کے ذریعے فلسطینی شدت پسندوں کو قابو میں کرنے کی بات کی ہے۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم ایریئل شیرون نے محمود عباس کو فون کرکے مبارکباد دی تھی اور ’جلد ہی‘ ملاقات کی بات کہی تھی۔ دو روز قبل تک فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پیش رفت کے امکان کا اظہار کیا جارہا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||