محمود عباس کے حماس سے مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی انتظامیہ کے نو منتخب صدر محمود عباس غزہ شہر میں مسلح گروپوں سے بات کرنے گئے ہیں جہاں انہوں نے بات چیت کے پہلے مرحلے میں شدت پسند گروہ حماس سے مذاکرات کیے ہیں۔ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد حماس گروپ کے اراکین نے اس ملاقات کو مثبت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کھلے دل سے محمود عباس پرسکون رہنے کی اپیل سنی ہے۔ اس سلسلے میں مزید مذاکرات ہوں گے۔ تاہم نئے فلسطینی صدر کے امن مشن کا آغاز ہی بری طرح ہوا۔ جیسے ہی وہ غزہ پہنچے ایک خودکش بمبار نے اسرائیلی چیک پوسٹ پر خود کو بم سے اڑا دیا جس کی وجہ سے کئی افراد زخمی ہو گئے۔ اسرائیل نے کہا کہ وہ جوابی کارروائی کرے گا۔ محمود عباس نے مسلح گروہوں سے کہا ہے کہ وہ اسرائیلیوں پر حملے روک دیں۔ مسلح گروپوں نے ان سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن فائر بندی کے لیے ایک شرط مقرر کی ہے۔ غزہ میں ابو جہاد نامی گروپ کے ترجمان نفیض عظام نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ اسرائیلیوں کی جارحیت ہے اور اصل کوشش یہ ہونی چاہئے کہ یہ جارحیت بند کرائی جاۓ تاکہ فلسطینی بھی اپنی جانب سے اقدام کرسکیں۔ محمود عباس کہتے ہیں کہ یہ وقت ہے کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے پر مذاکرات کیے جائیں۔ تاہم شدت پسند گروہوں کا اصرار ہے کہ فائربندی صرف اسی وقت ممکن ہے جب اسرائیلی فوجی پیش قدمی بند کر دے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||