 |  ایریل شیرون محمود عباس کو اس بات کا موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ شدت پسندوں کو بھی مفاہمتی عمل میں شریک کر سکیں |
اسرائیل نے نئے فلسطینی رہنما محمود عباس سے کسی بھی طرح کے رابطے پر عائد کی جانے والی پابندی اٹھا لی ہے۔ اسرائیل نے یہ پابندی غزہ میں ہونے والے ایک خود کش حملے کے بعد عائد کی تھی۔ اسرائیلی فوجی ریڈیو کا کہنا ہے کہ اس پابندی کو اٹھانے کا فیصلہ اسرائیلی وزیرِاعظم ایریل شیرون نے اپنی اندرونی کابینہ کے اجلاس میں کیا۔ یہ فیصلہ فلسطینی انتظامیہ کے اس اعلان کے بعد آیا ہے کہ غزہ سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملوں کو روکنے کے لیے مشترکہ سکیورٹی دستے مقرر کیے جائیں گے۔ سکیورٹی کے ان دستوں کو متعین کرنے کا اعلان محمود عباس اور حماس کے رہنماؤں کے درمیان ایک ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔ فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں محمود عباس نے حماس رہنماؤں کو اسرائیل پر حملے نہ کرنے پر آمادہ کرنے پر بات چییت کی۔ کہا جا رہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کے جانب سے پابندی ختم ہونے کے اعلان کے بعد سینیئر اسرائیلی حکام اور اور فلسطینی حکام کے درمیان بات چیت شروع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ یروشلم سے بی بی سی کے نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے ان پابندیوں کے خاتمے کا مقصد فلسطینی رہنما محمود عباس کو اس بات کا ایک موقعہ فراہم کرنا ہے کہ وہ مفاہمتی عمل میں شدت پسندوں کو بھی شریک کر سکیں۔ |