اسرائیل کے جوہری پلانٹ کی فلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل نے پہلی بار اسرائیل کی جوہری تنصیبات کی نہ صرف بات کی ہے بلکہ چودہ منٹ کی ایک فلم بھی نشر کی ہے۔ اس فلم میں اسرائیل کے جنوبی شہر ڈیمونا میں قائم جوہری پلانٹ دکھایا گیا ہے۔ ڈیمونا کے بارے میں ایک عرصے سے خیال کیا جاتا تھا کہ وہاں اسرائیل کا جوہری پلانٹ ہے۔ یہ فلم اسرائیل کے نجی شعبے کے ایک ٹیلی ویژن چینل نے دکھائی ہے جو چینل ٹین کے نام سے نثریات دکھاتا ہے۔ مذکورہ فلم میں وسیع عریض علاقے پر پھیلا ہوا درختوں کا ایک سرسبز جھنڈ دکھایا گیا ہے جس کے اندر مذکورہ پلانٹ ہے۔ اس جھنڈ کے اندر لوگوں کو دوسرے کاموں کے علاوہ فٹبال کھیلتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور کمنٹری میں بتایا گیا ہے کہ وہ تمام جوہری پلانٹ پر کام کرنے والے عملے کے لوگ ہیں۔ ٹیلی ویژن حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ فلم اسرائیلی فوجی حکام سے سنسر کرانے اور منظوری حاصل کرنے کے بعد دکھائی گئی ہے۔ نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس فلم کو دکھائے جانے کی اجازت دیئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل اپنے جوہری پروگرام کی مثبت تشہیر کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ اس نے نہ تو اس فلم میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنا رہا اور نہ ہی اس کے تردید کی ہے۔ انیس سو چھیاسی میں اسرائیل کے اسی جوہری پلانٹ پر کام کرنے والے ایک ملازم مودیہائی ونونو نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ ڈیمونا میں جوہری پلانٹ کام کر رہا اور اسے اس انکشاف کی پاداش میں غداری کا الزام لگا کر اٹھارہ سال کے لیے جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||