اسرائیل: ونونو ایک بار پھر رِہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل میں پولیس نے سابق جوہری ٹیکنیشن موردیہائی ونونو کو کئی گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق انہیں جمعہ کی رات گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر سفری پابندیوں کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔ انہوں نے بیت اللحم میں ایک تقریب میں شرکت کی کوشش کی تھی۔ اب انہیں جرمانے کے علاوہ اگلے پانچ روز تک اپنے گھر تک محدود رہنا ہوگا۔ جوہری ٹیکنیشن موردیہائی ونونو کو اپریل 2004 میں اٹھارہ سال بعد جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ انہیں 1986 میں اسرائیلی جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات افشا کرنے پر بغاوت کے الزام کے تحت جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اپریل میں رہائی کے بعد ان پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں جن میں ان کے سفر کرنے اور اخباروں کو کسی قسم کے انٹرویو دینے پر پابندی بھی شامل تھی۔ ونونو نے 1986 میں ایک برطانوی اخبار کو اسرائیلی جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔ اسرائیل کے مسلسل انکار کے باوجود اسے چھٹی بڑی نیوکلیائی طاقت سمجھا جاتا ہے۔ موردیہائی ونونو کو اسرائیلی خفیہ سروس نے اٹلی کے شہر روم سے گرفتار کیا تھا۔ اپنی رہائی کے بعد ونونو نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے یہ قدم ایک جوہری تباہی کو روکنے کے لیے اٹھایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||